| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر سے واپس ہوئے تو جب مدینہ سے قریب ہوئے تو ایک ہوا چلی جو سوار کو دفن کیے دیتی تھی ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہوا ایک منافق کی موت پر بھیجی گئی ہے ۲؎ پھر مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں کا ایک سردار تھا مرچکا تھا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ عرب کے جنگلوں میں کبھی خونی آندھیاں آتی ہیں جو سواروں کو مع سواری ریتے میں دفن کردیتی ہیں مگر یہ آندھی آج مدینہ منورہ کے بالکل قریب آئی اس لیے ہم کو تعجب ہوا کہ یہاں یہ آندھی کیسی۔ ۲؎ یعنی یہ تیز ہوا غضب ربانی کے اظہار کے لیے ہے جو صرف اسی منافق کی موت پر بھیجی گئی ہے تاکہ لوگوں کو اس منافق کی موت اس کے عذاب پر مطلع کیا جاوے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ چاند سورج کسی کے مرنے جینے پر نہیں گہتے۔ ۳؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ منافق رفاعہ ابن ورید تھا اور یہ سفر غزوہ تبوک کا تھا، بعض نے فرمایا کہ وہ منافق رافع تھا اور سفر غزوہ بنی مصطلق تھا۔(مرقات)اس موت پر ہوا چلنا بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ ہوا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منافق کی موت کی خبر دی اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی موت کو پہچان لینا بھی معجزہ ہے کہ یہ آندھی اس کی موت کی بنا پر چلی۔