Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
158 - 952
حدیث نمبر158
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے حتی کہ عسفان پہنچے وہاں چند شب قیام فرمایا ۱؎ لوگ کہتے ہیں کہ ہم یہاں کسی کام میں تو ہیں نہیں اور ہمارے بال بچے اکیلے ہم سے غائب ہیں ۲؎ ہم ان پر مطمئن نہیں یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مدینہ میں نہ کوئی گھاٹی ہے نہ کوئی راستہ مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کررہے ہیں ۳؎ حتی کہ ہم لوگ وہاں پہنچے پھر فرمایا کوچ کرو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ پہنچ گئے اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے کہ جب ہم مدینہ پہنچے تو ابھی ہم نے اپنے سامان نہ اتارے تھے کہ ہم پر بنی عبداﷲ ابن غطفان نے حملہ کردیا ۵؎ حالانکہ اس سے پہلےانہیں کوئی چیز نہیں بھڑکاتی تھی۔(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ہم مدینہ منورہ واپس ہوتے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ چلے اور منزل عسفان پر چند روز قیام پذیر ہوگئے عسفان مکہ معظمہ سے دو منزل پر ہے اب راستہ میں یہ منزل نہیں آتی یہ پتہ نہیں لگا کہ عسفان میں یہ قیام کیوں ہوا شاید کسی دشمن کا انتظار ہوگا جو کہ وہاں نہ پہنچا۔

۲؎ خلوف جمع ہے خالف کی جس کا مادہ ہے خلف بمعنی پیچھے جیسے راقد کی جمع رقود،قاعدہ کی جمع قعود۔خلوف گھر میں رہ جانے والی عورتیں بچے جن کے ساتھ مرد نہ ہوں۔(مرقات)یعنی ہم لوگ یہاں بلا ضرورت ٹھہرے ہوئے ہیں ہمارے گھروں میں بال بچے اکیلے جن سے ہم غائب ہیں دشمنوں کا خطرہ ہے یہ گفتگو بعض ضعفاء مؤمنین کی ہے۔

۳؎  یعنی ہم اپنے بال بچوں سے غائب ہیں مگر بہت سے فرشتے ان کی نگرانی کررہے ہیں نقب زمینی راستہ اور شعب پہاڑی راستہ یہاں مراد ہے مدینہ کے راستہ اور گلی کوچے۔

۴؎  یعنی اﷲ تعالٰی کی قسم کھانا شریعت میں بلا کراہت درست ہے،یاجس کے نام کی شرعی قسم کھائی جاتی ہےجس پر شرعی احکام مرتب ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ غیر خدا کی قسم لغوی قسم ہوتی ہےنہ کہ شرعی اس پر احکام شرعی جاری نہیں ہوتے جیسے باپ کی قسم اولاد کی قسم۔ 

 ۵؎ یعنی بنی غطفان اگر ہماری غیر موجودگی میں حملہ کردیتے تو ہمارے بچوں بیویوں کو بہت تکلیف پہنچ جاتی کہ وہ اکیلے تھے اس وقت انہیں حملہ کرنے سے انہیں کوئی چیز مانع نہ تھی۔معلوم ہوا کہ فرشتوں کی حفاظت ان کو حملہ سے روکے رہی، ۱۹۶۵ء؁ میں بھارت نے رات کے ڈھائی بجے لاہور پر حملہ کیا جب کہ پاک سرحد پر کوئی نہ تھا مگر انہیں خیال ہوا کہ شاید ہم گھیرے میں آرہے ہیں کہ ہمارے سامنے راستے سڑکیں صاف ہیں رک گئے پھر پاک فوج پہنچ گئی اور صبح ہوتے کفار کے کشتوں کے پشتے لگادیئے انہیں سخت جانی و مالی نقصان پہنچا کر پیچھے دھیکل دیا۔یہ ہے اﷲ کی نصرت اس موقعہ پر حضرات اولیاء اﷲ معرکہ میں دیکھے گئے بعض کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی عین محاذ جنگ پرامام حسین،داتا گنج بخش،میاں شیر محمد صاحب شیر قپوری خود بموں کو دفع کرتے دیکھے گئے۔مدینہ منورہ میں لوگوں نے خواب دیکھا کہ حضور انور بہت تیزی سے روضہ اطہر سے نکلے اور روانہ ہونے لگے پوچھا حضور کہاں جارہے ہیں فرمایا پاکستان وہاں جہاد ہورہا ہے اللھم صل وسلم وبارك علیہ۔اﷲ نے حضور کے غلاموں پاکستانیوں کو وہ فتح دی کہ اس کی مثال نہیں ملتی حالانکہ بھارتی فوج پانچ گناہ زیادہ تھی یہ حدیث ان سب واقعات کی اصل ہے۔
Flag Counter