| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کاتب وحی تھا وہ اسلام سے پھر گیا ۱؎ اور مشرکین سے جا ملا۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے زمین قبول نہ کرے گی ۳؎ مجھے ابوطلحہ نے خبر دی کہ وہ اس زمین میں گئے جہاں وہ مرا تھا اسے باہر پھینکا ہوا پایا پوچھا اس میت کا کیا حال ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس کو بارہا دفن کیا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ ایک عیسائی آدمی تھا جو پہلے مسلمان ہوا اور بارگاہِ عالی میں اتنا قرب حاصل کر گیا کہ حضور کے ہاں کا تبِ وحی ہوگیا ،پھر مرتد ہو کر عیسائی بن گیا اﷲ کی پناہ ابلیس نے بہت قرب الٰہی حاصل کیا پھر مارا گیا، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ عبداﷲ ابی سرح تھا مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا وہ مرتد ہونے کے بعد پھر مسلما ن ہوگیا۔(ازمرقات) ۲؎ اس نے مشرکین سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن میں سکھاتا تھا جو میں بتاتا تھا وہ ہی وحی کرکے لکھ لیا جاتا تھا۔نعوذ باﷲ! ۳؎ یعنی یہ عنقریب کافر ہی مرے گااور اس کی لاش قبر میں نہ رہ سکے گی بلکہ اسے نکال پھینکے گی اس میں تین غیبی خبریں ہیں جو ہوبہو پوری ہوئیں۔ ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ زمین بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست و دشمن کو پہچانتی ہے اور حضور کے حکم کے تابع ہے کہ جیسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکل ویسا ہوا، ابولہب کے بیٹے عتبہ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے شیر پھاڑ ے گا ایسا ہی ہوا کہ ایک شیر نے سب کے منہ سونگھے اس کا منہ سونگھ کر اسے پھاڑ ڈالا۔ روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے سورج ڈوب چکا تھا ۱؎ حضور نے آواز سنی تو فرمایا کہ یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جارہے ہیں۲؎ (مسلم،بخاری) ۱؎ غالبًا یہ واقعہ مدینہ منورہ ہی کا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر بعد غروب تشریف لے گئے صحابہ کرام ساتھ تھے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اور ساتھیوں نے بھی عجیب آوازیں سنیں۔یہاں صوت اسم جنس ہے جو ایک اور زیادہ سب کو شامل ہے۔ ۲؎ یہاں دو معجزوں کا ظہور ہے: ایک تو صحابہ کرام کو مردہ یہودی کی آوازیں سنا دینا ہے، دوسرے پہچان لینا اور بتادینا کہ یہ عذاب کی آوازیں ہیں یا تو عذاب دینے والے فرشتوں کی آوازیں ہیں یا عذاب پانے والے یہود کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سوار تھے اس نے دو قبروں کا عذاب دیکھ لیا اور بدک گیا وہاں خچر کی آنکھوں سے حجاب اٹھا دیئے یہاں صحابہ کے کانوں سے حجاب ہٹا دیئے اسی طرح جس ولی کے سر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ رکھ دیں اس کی آنکھوں سے حجاب اٹھ جاتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں ؎ سرمہ کن در چشم خاک مصطفی تابہ بینی زابتدا تا انتہاء