Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
155 - 952
حدیث نمبر155
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ کو ذی الخلصہ سے راحت نہ دو گے ۲؎ میں نے عرض کیا ہاں اور میں گھوڑے پر ٹھہر نہ سکتاتھا میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا تو حضور نے اپنا ہاتھ شریف میرے سینہ پر لگادیا حتی کہ میں نے آپ کے ہاتھ کا اثر اپنے سینے میں پایا ۳؎ اور فرمایا الٰہی اسے ثابت رکھ اسے ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنادے ۴؎ فرمایا اس کے بعد اپنے گھوڑے سے نہ گرا ۵؎ پھر وہ ڈیڑھ سو سواروں میں گئے جو قبیلہ احمس سے تھے۶؎ ذی الخلصہ کو آگ سے جلا دیا اور اسے ڈھا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام جریر ابن عبداﷲ ہے،کنیت ابو عمرو،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے سال اسلام لائے خود فرماتے ہیں کہ میں وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایمان لایا پھر عرصہ تک کوفہ میں رہے پھر شہر قرقبہ میں رہنے لگے وہاں ہی    ۵۱ھ؁ اکیاون میں وفات پائی۔(اکمال)اﷲ نے آپ کو صورت و سیرت دونوں کا حسن بخشا تھا۔ (اشعہ)

۲؎  کفار یمن کا ایک قبیلہ تھا خثعم انہوں نے کعبہ معظمہ کے مقابل اپنے ہاں ایک کعبہ بنایا تھا جس کا نام ذوالخلصہ رکھا تھا۔خلصہ وہاں رکھا ہوا ایک بت تھا یا کوئی خاص درخت جس کی وہ پرستش کرتے تھے جیسے بھارت کی ہندو پیپل کی پوجا کرتے ہیں اس گھر کو کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس ذوالخلصہ کی وجہ سے بہت تکلیف تھی کہ کہیں جاہل مسلمان بھی اس کا طواف و حج بھی نہ کرنے لگیں اسلام تا قیامت رہے گا اس لیے اس کا انتظام بھی قوی چاہیے اس لیے حضرت جریر سے یہ فرمایا کہ اسے جا کر فنا کردو۔

۳؎ دیکھو یہ ہے عطاء مصطفویٰ حضرت ابوہریرہ کو زبانی کلمات کے ذریعہ قوت حافظہ بخشی اور حضرت جریر کو انگلیوں کے ذریعہ قوت قلبی بخشی جس سے وہ گھوڑے پر ٹھہرنے لگے حضور کی ہتھیلی اور قدم شریف کی ٹھنڈک ان سے ہی پوچھو جنہیں ایسے موقع ملے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں    ؎

دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا		 سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

۴؎ یہ ہے سوال سے زیادہ عطا حضرت جریر نے صرف قوت قلبی مانگی تھی مگر تین نعمتیں عطا ہوئی قوت قلبی اور ہدایت پر قائم رہنا،لوگوں کو ہدایت دینا کہ ان کے ذریعہ لوگ ہدایت پر آویں۔

۵؎  یعنی اس ہاتھ شریف کی برکت سے میں بقیہ عمر بھی گھوڑے سے نہ گرا  ؎

تو مرا دل دہ و دلیری بیں			 روبہ خویش خواں وشیری بیں

حضور مجھے دل بخشو میری دلیری دیکھو مجھے اپنا گیدڑ کہہ دو پھر میری شیری و بہادری دیکھو   ؎

ومن یك من رسول اﷲ نصرتہ		 ان تلقہ الاسد فی اجامھانجم

۶؎ احمس قریش کا ایک خاندان ہے یہ لفظ بنا ہے حماستہ سےبمعنی شجاعت و بہادری اس خاندان کو احمس اس لیے کہتے تھے کہ یہ لوگ دین و دنیا میں بڑے مانے جاتے تھے حتی کہ زمانہ جاہلیت میں یہ لوگ بہت ہی مشرکانہ رسوم سے محفوظ تھے جیسے زمانہ حج میں گھروں میں پیچھے سے آنا۔

۷؎ غالبًا کفار یمن کی جر--أت ہی نہ ہوئی کہ ان کا مقابلہ کرتے ان حضرات نے اس ذوالخلصہ میں پہلے تو آگ لگائی پھر اسے ڈھاکر پھینک دیا اور ایسا فنا کیا کہ اب تک وہ نہ بنایا جاسکا۔سلطان محمود غزنوی نے سومنات مندر تباہ کیا پھر انڈیا نے وہ مندر بنایا ۱۹۶۵ء کی جنگ میں غازیان پاکستان نے اسے پھر تباہ کردیا خدا اسے کبھی آباد نہ ہونے دے ہمارے پاکستان کو دائم و قائم رکھے۔
Flag Counter