| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے انہیں سے فرمایا تم کہتے ہو ۱؎ کہ ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایات زیادہ کرتے ہیں ۲؎ اور اﷲ وعدہ والا ہے۳؎ میرے مہاجر بھائیوں کو بازار میں چیخ پکار مشغول رکھتی تھی اور میرے انصاری بھائیوں کو ان کے مالوں میں کام کاج مشغول رکھتا تھا ۴؎ میں ایک مسکین آدمی تھا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن دل بھر کے پکڑے رہتا تھا۵؎ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم میں سے کوئی اپنا کپڑا پھیلا دے حتی کہ میں اپنا یہ کلام پورا کرلوں پھر وہ اپنے سینے سے لگائے پھر کبھی میرا کوئی کلام بھول جاوے ۶؎ چنانچہ میں نے کمبل پھیلادیا مجھ پر اس کے سواء اورکوئی کپڑا نہ تھا ۷؎ حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا کلام پورا کرلیا پھر میں نے وہ کمبل اپنے سینے سے لگالیا تو اس کی قسم جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں اپنے اس دن سے حضور کا کوئی فرمان نہ بھولا ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس کلام میں خطاب یا تو تابعین سے ہے یا اس زمانہ کے بقیہ صحابہ کرام سے جو یہ چہ میگوئیاں کرتے تھے۔ ۲؎ خیال رہے کہ ان صحابہ یا تابعین کا یہ کہنا کہ ابوہریرہ بہت احادیث کی روایت کرتے ہیں بے اعتمادی یا اعتراض کے طور پر نہ تھا بلکہ تعجب سے تھا کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پاک صرف چار سال میسر ہوئی مگر ہزاروں حدیثیں آپ نے روایت کیں دوسرے صحابہ زیادہ صحبت پاک میں رہے۔حضرت صدیق اکبر عمر بھر ساتھ رہے مگر ان سے مروی روایات تھوڑی ہیں تعجب ہے آپ پر جھوٹی احادیث گھڑ لینے کا شبہ نہیں ہوسکتا کہ صحابہ سارے عادل ہیں انہیں اﷲ تعالٰی نے گناہوں جھوٹ وغیرہ سے محفوط رکھا ہے چہ جائیکہ وہ اﷲ رسول پر جھوٹ بولیں۔ ۳؎ یہ عبارت دو طرح پڑھی جاسکتی ہے و اﷲ الموعد دونوں کو کسرہ واؤ قسمیہ یعنی وعدہ فرمانے والے یا ڈرانے والے رب کی قسم میں ایک ایک لفظ درست روایت کرتا ہوں دوسرے واﷲ الموعد دونوں کو پیش یعنی مجھے معلوم ہے کہ اﷲ تعالٰی نے بندوں کو اپنے عذاب سے ڈرایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد کیا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھاینا دوزخ بنائے ان وعیدوں کی پیش نظر میں کیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بول سکتا ہوں۔ ۴؎ یعنی میری کثرت احادیث کی وجہ مجھ سے ہی سنو مہاجرین و انصار میں سے کوئی صاحب بھی حضور انور کے پاس ہر وقت نہیں رہتے تھے مہاجرین تو بازاروں میں کاروبار کرتے ہوتے تھے کہ وہ حضرات عمومًاتاجر لوگ تھے انصار حضرات باغوں کھیتوں والے تھے، انہیں اپنے باغوں کھیتوں میں رہنا پڑتا تھا وہ حضرات خاص اوقات میں ہی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ ۵؎ یعنی مجھے دنیاوی کوئی کام نہیں تھا،حضور کی خدمت میں رہنا میرا مشغلہ تھا چہرہ انور صلی اللہ علیہ وسلم تکتے رہنا میرا کاروبار تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آستانہ میرا بازار تھا یہ ہی میرا باغ و بہار ہے۔ ۶؎ یعنی ایک دن دریاء عطا موجزن تھا لوگوں کو قوت حافظہ تقسیم فرمارہے تھے فرمایا کوئی ہے جو اپنا کپڑا بچھائے ہم ایک دعا پڑھتے ہیں جب وہ دعا ختم ہوجاوے تو وہ یہ ہی کپڑا اپنے سینے سے لگالے ان شاءاﷲ اس کا حافظہ بہت ہی قوی ہوجاوے گا۔خیال رہے کہ تھوڑی چیز ہاتھ پھیلا کر لی جاتی ہے مگر بڑے سخی کی بڑی عطا چادر پھیلا کر سمیٹی جاتی ہے یہاں چادر پھیلانا کا حکم دیا گیا معلوم ہوتا ہے عطا بڑی ہے۔خیال رہے کہ قوتِ حافظہ انسان کی ایک صفت ہے جو قدرتی طور پر لوگوں کو عطا ہوتی ہے کوئی قوی حافظے والا ہوتا ہے کوئی ضعیف حافظہ والا اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صفات انسانیہ بھی عطا فرماتے ہیں بحکم پروردگار ؎ مالک ہیں خزانہ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے اس سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ کوئی دنیاوی بات بھولیں تو بھولیں میرا کلام بھی نہ بھولیں گے۔ ۲؎ نمرہ نون کے فتحہ اور میم کے کسرہ سے وہ اونی کمبل جس میں سیاہ و سفید دھاریاں ہوں اس وقت سر سے پاؤ ں تک آپ صرف یہ ہی کمبل اوڑھے تھے اور کوئی کپڑا آپ کے پاس نہیں تھا اکیلے تھے یہ ہی اتار کر بچھادیا ضرورۃً برہنہ ہونا جائز ہے۔ ۳؎ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عضو ہر ادا اﷲ کے خزانوں کا دروازہ ہے کسی کو دم کرکے نعمتیں بخش دیں کسی کو نظر سے کسی کو ہاتھ سے کسی کو زبان شریف سے یوں ہی ہر جگہ حضور کا دروازہ عطا ہے جہاں رہ کر بھکاری اپنا ہاتھ پھیلا دے وہاں ہی عطا ہوجاتی ہے۔سورج کا نور کسی خاص جگہ میں نہیں جہاں بھی موجود ہو حجاب سے نکل آؤ نور پا جاؤ گے اعلیٰ حضرت نے فرمایا ؎ منگتے کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی دوری قبول و عرض میں صرف ہاتھ بھر کی ہے مولانا حسن رضا خان صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری وہ ہی در ہے داتا کی دولت سرا کا