Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
153 - 952
حدیث نمبر153
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ مشرکہ تھی ایک دن میں نے اسے دعوت دی ۱؎ تو اس نے مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق و ہ باتیں سنائیں جو میں ناپسند کرتا ہوں ۲؎ تو میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روتا ہوا گیا میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ رب سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے حضور نے کہا اے اﷲ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے تومیں خوشی خوشی نکلا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا سے ۳؎ تو جب میں دروازے تک پہنچا تو وہ بند تھا ۴؎ میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو بولیں اے ابوہریرہ وہاں ہی رہو اور میں نے پانی کی چھلک سنی انہوں نے غسل کیا پھر اپنی قمیص پہنی اور اپنے دوپٹہ سے جلدی کی ۵؎ دروازہ کھولا پھر بولیں اے ابوہریرہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹا میں خوشی سے رورہا تھاحضور نے اﷲ کا شکر کیا اور دعا خیر کی ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ اپنے والدین کو بھی تبلیغ کی جاوے جب وہ کافر مشرک بت پرست ہوں یوں ہی اگر وہ مصیبت میں گرفتار ہوں تو بھی انہیں تبلیغ کی جاوے۔

۲؎ یعنی میری ماں نے شان مصطفوی میں ایسی گستاخی کی جس کا خیال کرنا منہ سے نکالنا کسی کو سنانا بھی ناپسند کرتا ہوں۔

۳؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سنتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ میری ماں کو ضرور ہدایت ملے گی اور ان شاءاﷲ ابھی ملے گی اس لیے میں خوش ہو کر قدرت خدا کا نظارہ کرنے اپنے گھر گیا۔

۴؎ اور یہ بندش دروازہ خلاف عادت تھی اس لیے مجھے تعجب ہوا۔

۵؎ یعنی میری والدہ خوشی خوشی دروازہ کھولنے اتنی جلدی آئیں کہ انہوں نے صرف تہبند اور قمیص ہی پہنی دوپٹہ نہ اوڑھا اسی حالت میں دروازہ کھولا اور مجھے کلمہ طیبہ سنایا اور مجھے اپنے ایمان کا گواہ بنایا۔

۶؎ کہ خدا تعالٰی ان کو دین پر استقامت دے۔معلوم ہوا کہ نو مسلم کے لیے دعا استقامت کرنا سنت ہے۔
Flag Counter