| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے آپ کچھ تقسیم فرمارہے تھے ۱؎ کہ آپ کے پاس چھوٹی کوکھ والا ایک شخص آیا جو بنی تمیم سے تھا ۲؎ بولا یارسول اﷲ انصاف کیجئے ۳؎ حضور نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا اگر میں انصاف نہ کروں تو تو خائب و خاسر ہوجاوے ۴؎ تو جناب عمر نے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن ماردوں فرمایا اسے چھوڑ دو ۵؎ کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ میں اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانے گا ۶؎ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا۷؎ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۸؎ کہ اس کی نوک اس کے پر اس کی قدح یعنی لکڑی اس کے نوک کے نیچے کو دیکھو تو اس میں کچھ نہیں پا جاتا ہے حالانکہ وہ گوبر اور خون میں سے گزرا ہے ۹؎ ان کی نشانی ایک کالا آدمی ہے جس کے بازوں میں سے ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا گوشت کی بوٹی کی طرح جو ہلتا ہو ۱۰؎ یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین فرقے کے خلاف خروج کریں گے ۱۱؎ حضرت ابو سعید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ان لوگوں پر جہاد کیا ۱۲؎ میں آپ کے ساتھ تھا ۱۳؎ تو آپ نے اس شخص کے متعلق حکم دیا وہ ڈھونڈا گیا اسے لایا گیا حتی کہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بتائی ہوئی علامت پر دیکھا ۱۴؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص آیا دھنسی ہوئی آنکھیں ابھری پیشانی گھنی داڑھی اونچی کنپٹی والا سر منڈا ہوا ۱۵؎ وہ بولا اے محمد اﷲ سے ڈرو ۱۶؎ تو فرمایا کہ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اﷲ کی اطاعت کون کرے گا مجھے اﷲ تعالٰی زمین والوں پر امین بنائے اور تم مجھے امین نہ جانو ۱۷؎ ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت مانگی ۱۸؎ حضور نے منع فرمادیا جب وہ چلا گیا تو حضور نے فرمایاکہ اس کی پشت سے ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی ۱۹؎ قرآن ان کے گلے سے نہ اترے گا۲۰؎ وہ اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۲۱؎ اگر میں انہیں پاؤ ں تو قوم عاد کی طرح قتل کروں ۲۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے جس میں مال غنیمت بہت زیادہ حاصل ہوا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ میں ایمان لانے والے مؤلفۃ القلوب کو بہت زیادہ عطا فرمایا حتی کہ ابو سفیان وغیرہم کو سو سو اونٹ عطا کیے یہ تقسیم مقام جعرانہ میں ہوئی،فقیر نے حنین اور جعرانہ کی زیارات کی ہیں۔ ۲؎ یہ شخص پستہ قد تھا اسے اس وجہ سے ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا ، عرب کا مشہور قبیلہ ہے یہ منافق تھا جیساکہ اس کے کلام سے ظاہر ہورہا ہے۔ ۳؎ اس منافق نے یہ لفظ دو معنی والا بولا بظاہر معنی یہ تھے کہ آپ عطا میں برابری کیجئے ہر ایک کو یکساں دیجئے۔مگر اس کی نیت یہ تھی کہ آپ انصاف کیجئے ظلم نہ کیجئے آپ ظلم کررہے ہیں کہ حق دار کا حق مار کر غیر حق دار کو دے رہے ہیں۔یہ درحقیقت حضور کی نبوت کا انکار ہے نبی ظلم نہیں کرسکتے حضور انور اس کا یہ مقصد سمجھ گئے لہذا وہ جواب دیا جو آگے آرہا ہے۔(مرقات) ۴؎ یعنی مجھے رب تعالٰی نے عدل قائم فرمانے کے لیے رحمت عالم بنا کر بھیجا میری ذات سے عدل،رحم،ایمان،عرفان قائم ہے اگر میں ہی عدل نہ کروں تو پھر تجھے امان و عرفان کیسے ملے گا تو تو بالکل ہی خائب و کاسر ہوجاوے گا،بندے اور رب کے درمیان نبوت ہی تو ہے جس سے بندہ کا تعلق قائم ہے اگر نبوت کا واسطہ بیچ میں نہ رہے تو بندے رب سے کٹ جائیں گے خائب و خاسر ہوں گے۔ ۵؎ حضرت عمر نے اس کے قتل کی اجازت اس لیے مانگی کہ وہ مرتد ہوگیا۔حضور انور کی گستاخی کرکے مرتد قابل قتل ہے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا منع فرمانا اس لیے ہے کہ حضور انور کی نظر لوح محفوظ پر ہے حضور جانتے ہیں کہ تقدیر الٰہی یہ ہے کہ اس کی نسل سے خوارج وہابی پیدا ہوں نیز یہ قتل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حق خود ہی چھوڑ دیا تو قتل ختم ہوگیا آج اگر کوئی یہ بکواس کرے تو قتل کیا جاوے گا دیکھو مرقات۔ ۶؎ یعنی اس کی نسل سے ایسی قوم پیدا ہوگی جن کی ظاہری نمازیں قرآن خوانی تمہاری نماز قرآن خوانی سے زیادہ ہوگی۔میں نے مسقط کے خوارج دیکھے ہیں ان کے برادران دینی وہابی دیوبندی یہاں دیکھنے میں آرہے ہیں،بڑے نمازی مگر دین سے خارج حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت گستاخ و بدگو۔ ۷؎ خوارج کے متعلق ہر جگہ یہ ہی آتا ہے کہ قرآن بہت پڑھیں گے آج بھی وہابی دیوبندی قرآن ہی بہت پڑھتے ہیں۔ ۸؎ رمیہ بمعنی مرمیہ ہے وہ شکار جسے تیر سے شکار کیا جاوے وہ تیر اس شکاری جانور کے پورے جسم میں داخل ہو کر نکلتا ہے مگراس پر خون گوشت گوبر،پیشاب وغیرہ کا بالکل اثر نہیں ہوتا۔ ۹؎ جیسے بندوق کے مختلف اجزاء کے مختلف نام ہیں: بٹ،سمال بٹ،کراگری ایسے ہی تیر کے اجزاء کے بہت نام ہے تیر کا اگلا نوک والا دھار دار لوہا نصل کہا جاتا ہے،اس کے نیچے جو دو پر ہوتے ہیں انہیں نصاف کہتے ہیں اور تیر کی لکڑی قدح یا نفی کہلاتی ہے نصال کے نیچے کا حصہ خذذ کہا جاتا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جیسے تیر اپنے تمام اجزا کے ساتھ اس جانور کے سارے اجزاء میں سے ہو کر نکل جاتا ہے مگر خود اس کے خون وغیرہ سے رنگین نہیں ہوتا ایسے ہی وہ لوگ اسلام میں آکر اسلام سے نکل جائیں گے۔اس طرح کہ ان میں اسلام کا کوئی اثر نہ ہوگا۔جیسا آج دیکھا جارہا ہے ان میں حافظ قاری،مولوی بہت مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمن ہیں دین سے دور کا تعلق بھی نہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ان خوارج کے دل گویا تیر کی نصل نوک ہے ان کے سینے گویا تیر کے پر ہیں،ان کے بدن گویا تیر کی لکڑی ہے،ان کے ہاتھ پاؤ ں وغیرہ اعضاء گویا تیر کاخذذ ہیں کہ وہ لوگ عبادات اور علوم میں بڑی مشقتیں کریں گے مگر انہیں فائدہ کچھ نہ پہنچے گا۔(مرقات)خوارج کی تکفیر میں اختلاف ہے اس حدیث سے ان کا کفر ثابت ہوتا ہے۔(اشعہ) ۱۰؎ یعنی جب یہ فرقہ نکلے گا اس وقت ان کا سردار اس شکل کا ہوگا اس کا ایک ہاتھ ہوگا دوسرا ہاتھ نہ ہوگا بلکہ اس کے کندھے پر عورت کے پستان کی طرح گوشت ہوگا اس لیے اس کا نام ذو الثدیہ ہوگا۔ ۱۱؎ خیال رہے کہ خوارج اگرچہ امیر معاویہ کو بھی برا کہتے ہیں مگر حضرت علی مرتضٰی اور اہل بیت اطہار کی بڑے سخت دشمن ہیں۔حضرت علی سے ہی انہوں نے جنگ کی اس فرمان عالی میں اسی طرف اشارہ ہے اس میں یہ بھی بتادیا کہ امیر معاویہ اور ان کی جماعت مؤمنین ہیں مگر ان جنگوں میں وہ حق پر نہیں حق پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت ہوگی اس لیے علی خیر فرقۃ ارشاد ہوا یہ ہے ہمارے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب۔ ۱۲؎ جب حضرت معاویہ نے صلح کرنے کے لیے حکم یعنی پنچ منظور کرلیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو اپنا حکم مقرر کیا اور امیر معاویہ نے حضرت عمرو ابن عاص کو تو ان لوگوں نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ دونوں مشر ک ہوگئے کیونکہ انہوں نے اﷲ کے سوا کوئی حکم مان لیا وہ اس آیت کی وجہ سے انکاری ہوگئے"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"ان کی تعداد دس ہزار تھی حضرت عبداﷲ ابن عباس کی فہمائش پر پانچ ہزار ان میں توبہ کرگئے حضرت ابن عباس نے یہ آیت پیش فرمائی "فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا"باقی پانچ ہزار ذوالفقار حیدری سے فی النار ہوئے ان کے چند آدمی بچے جن کی ذریت آج وہابیوں کی شکل میں ہمارے لیے وبال بنی ہے،یہ لوگ بھی ہر بات پر شرک کا فتویٰ جڑتے ہیں یہ شرک کا فتویٰ خوارج سے چلا ہے اب وہابیوں نے کتابیں شائع کی ہیں جن میں یزید ابن معاویہ کو برحق اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کو باغی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے دیکھو ان کی کتب خلافت معاویہ ویزید اور خلافت رشید ابن رشید حضرت امیر المومنین یزید صلی اﷲ علی یزید۔(نعوذ باﷲ) ۱۳؎ یعنی مجھے یہ فخر ہے کہ اس جہاد میں جناب امیر المؤمنین علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا اس جماعت مرتضوی کے بڑے فضائل ہیں۔ ۱۴؎ یعنی جناب علی رضی اللہ عنہ اس جہاد سے فارغ ہوئے اور خارجیوں کی لاشیں بکھری دیکھیں تو فرمایا کہ ان کے سردار کی لاش تلاش کرو۔بعض روایات میں ہے کہ بار بار تلاش کرنے پر بھی اس کی لاش نہ ملی تو فرمایا قسم خدا کی اس کی لاش انہیں لاشوں میں ہے تمہاری تلاش میں کمی ہے محمد مصطفی کا فرمان برحق ہے پھر اس مردود کی لاش بہت سی لاشوں کے ڈھیر میں دبی ہوئی ملی بالکل وہ ہی علامات موجود تھیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھیں یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا علم غیب۔ ۱۵؎ اب بھی خوارج کی اور ان کی ذریت وہابیوں کی عمومًا داڑھی لمبی،سر منڈا ہوا پیشانی پر سجدہ کے داغ گھٹنے تک پائجامے یا اونچے تہبند ہوتے ہیں خوارج کی یہ علامات دوسری روایات میں آئی ہیں۔اہل سنت کو چاہیے کہ داڑھی ایک مشت سے زیادہ نہ رکھیں سر منڈانے کی عادت نہ ڈالیں،ان لوگوں کی علامات سے بچیں حج کے سوا کبھی سر نہ منڈائیں کفار کی علامات سے بچیں۔ ۱۶؎ اس بے ہودہ بکواس میں دو گستاخیاں ہیں: ایک تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف نام شریف سے پکارنا حالانکہ قرآن کریم فرماتاہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الخ۔دوسرے حضور انور کے عمل شریف کو ظلم سمجھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عدل و انصاف کی تبلیغ کرنا حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم عدل و انصاف کے مرکز ہیں،حضور کی بارگاہ سے خوفِ خدا عشق رسول لوگوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ۱۷؎ یعنی اﷲ تعالٰی نے اپنی مخلوق میں ساری نعمتوں کا قاسم مجھے بنایا اﷲ المعطی و انا قاسم اس نے مجھے امین بنایا ہے تب ہی تو تقسیم میرے سپرد کی ہے اور تم مجھے امین نہیں جانتے۔ ۱۸؎ قتل کی یہ اجازت مانگنے والے حضرت عمر تھے رضی اﷲ عنہ جیسا کہ پچھلی روایت میں گزرا اور حضور انور کی ممانعت کی وجہیں بھی وہاں ہی بیان ہوئیں اب ایسی بکواس کرنے والے کی سزا قتل ہی ہے کہ وہ مرتد ہے۔ ۱۹؎ اس غیب داں مخبر صادق صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا ظہور آج بھی ہورہا ہے،خوارج اور وہابی دیوبندی قرآن پر بہت زور دیتے ہیں سب کو قرآن کے نام پر اپنی طرف بلاتے ہیں حتی کہ اپنی انجمنوں مدرسوں کے ناموں میں قرآن ضرور رکھتے ہیں اشاعت القرآن،تبلیغ القرآن،اپنے کو شیخ القرآن کہلواتے ہیں۔خیال رکھو کہ اگر دل میں قرآن والے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت نہ ہو تو قرآن سے صرف گمراہی ملتی ہے"یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا"ترجمہ قرآن ابوجہل ابولہب بھی جانتا تھا مگر کافر رہا۔ ۲۰؎ کیونکہ ان کی زبان پر قرآن ہوگا دل میں شیطان،عالم دین وہ ہے جس کی زبان پر قرآن ہو دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان،بغیر پاور بجلی کی فٹنگ بے کار ہے یہ فیضان اور ہے جس کے لیے مدینہ منورہ سے کنکشن ضروری ہے یہ لوگ قرآن کو شکار کا جال بناتے ہیں ؎ حافظامے خورد زندگی کن و خوش باش دلے دام تزویر مکن چوں دگراں قرآں را ۲۱؎ اس پیش گوئی کا مشاہدہ آج بھی ہورہا ہے۔وہابیوں دیوبندیوں کی جنگ ہمیشہ مسلمانوں سے ہی رہی یہ ہی لوگ مسلم لیگ کے دشمن رہے،کانگریس کے حامی پاکستان کے مخالف رہے،ہندوستان کے حامی مسلمانوں کو مشرک بناتے ہیں اور گاندھی جواہر لال پر دل سے نثار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پڑھنا شرک کہتے ہیں مگر کانگریس کے ترنگے جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں۔جواہر لعل نہرو کو مرحبا یا نہرو رسول امن نجدیوں نے ہی کہا یہ ہے اس پیش گوئی کا مشاہدہ۔ ۲۲؎ یعنی جیسے قوم عاد ایسی تباہ کی گئی کہ ان کا فرد بشر نہ بچا ایسے ہی میں انہیں قتل کرتا ان کا ایک فرد بشر باقی نہ رہتا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص کو قتل نہ کرنے دیا اس کی ذریت کے قتل کے متعلق فرمایا کیونکہ ابھی یہ شخص مسلمانوں کے مقابل نہ آیا تھا اس کی ذریت طاقت حاصل کرکے سلطان اسلام کے مقابل آوے گی اس لیے اسو قت قتل کی مستحق ہوگی الحمدﷲ یہ کام حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کی تلوار نے کیا ؎ شیرشمشیر زن شاہ خیبر شکن پرتو دست قدرت پہ لاکھوں سلام