Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
151 - 952
حدیث نمبر151
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا ۱؎ حتی کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ کیا نہ ہوتا تھا۲؎ حتی کہ جب ایک دن حضور سرکار میرے پاس تھے تو اﷲ سے دعا کی پھر دعا کی ۳؎ پھر فرمایا کہ اے عائشہ کیا تمہیں خبر ہے کہ اﷲ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی ۴؎ میرے پاس دو شخص آئے ان میں سے ایک تو میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤ ں کے پاس ۵؎ پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان صاحب کو کیا بیماری ہے اس نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے ۶؎ وہ بولا کس نے جادو کیا ہے کہا لبیدابن اعصم یہودی ۷؎ نے بولا وہ جادو کس چیز میں کیا گیا کہا کنگھی اور بالوں میں اور نر کھجور کے غلاف شگوفہ میں ۸؎ میں بولا تو وہ سامان کہاں ہے کہا ذروان کنویں میں ۹؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ اس کنویں تک گئے فرمایا یہ ہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ۱۰؎ اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح ہے اور گویا اس کے درخت سانپوں کے سر ہیں۱۱؎ پھر حضور نے اسے نکلوایا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ لبید ابن عاصم یہودی اور اس کی لڑکیوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بالوں اور استعمالی کنگھی کے دندانوں میں حضور پر جادو کیا اور ان بالوں میں گیارہ گرہیں لگائیں تب حضور پر وہ اثر ہوا جو آگے مذکور ہے۔

 ۲؎ یعنی ان لوگوں نے جادو تو بہت ہی سخت کیا تھا مگر اس کا اثر حضور انور کی عقل،حافظہ،دل جگر وغیرہ پر مطلقًا نہ ہوا صرف خیال پر اثر ہوا وہ بھی دنیاوی کاموں میں کہ کھانا نہیں کھایا ہے اور خیال رہا کہ کھالیا دین پر کوئی اثر نہیں ہوا،نبی کے خیال پر جادو کا اثر ہو جانا بالکل درست ہے قرآن کریم نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا"فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَ عِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی"دیکھو فرعونی جادو گروں کے جادو کا اثر موسیٰ علیہ السلام کے خیال پر یہ ہوا کہ ان کی لاٹھیاں رسیاں حرکت نہیں کرتی تھیں مگر آپ کو حرکت کرتی محسوس ہوتی تھیں جیسے زہر،تلوار بچھو کا ڈنگ جسم نبی پر اثر کرسکتے ہیں ایسے ہی جادو بھی ان پر اثر کرسکتا ہے۔یہ اثر شان نبوت کے خلاف نہیں دیکھو حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کو تلوار سے قتل کیا گیا ہمارے حضور کو خیبر میں زہر دیا گیا تو آپ پر اثر ہوا ہاں جب جادو کا معجزہ سے مقابلہ ہوگا تو جادو ناکام ہوگا۔یوں ہی ان حضرات کا دل زبان اس کے اثر سے محفوظ رہے گا کہ اس کا تعلق تبلیغ سے ہے اس جادو کا یہ واقعہ ۶ ہجری بعدصلح حدیبیہ کے ہوا جادو کا زور چالیس دن رہا ازالہ چھ ماہ کے بعد ہوا۔(اشعہ)

۳؎ یعنی حضور انور نے اس جادو کے دفع کے لیے بہت دعا فرمائی۔یہ تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی خوب خوب دعا کی۔

 ۴؎ یعنی میں نے رب سے دعا کی تھی کہ مجھے بیماری کیا ہے کس وجہ سے ہے اگر جادو ہے تو کس چیز میں کیا گیا ہےاور سامان جادو کہاں ہے،رب نے مجھے بتادیا اور دفعیہ کا طریقہ بھی۔

 ۵؎ یعنی دو فرشتے دو مردوں کی شکل میں میرے پاس آئے جب میں سورہا تھا ایک میرے سرہانے دوسرا پائنتی بیٹھ گیا اور انہوں نے آپس میں سوال جواب کیے میں سن رہا تھا وہ سب کچھ بتا گئے۔

 ۶؎ خیال رہے کہ کفار جو آپ کے متعلق کہتے تھے مسحور اس کے معنی تھے مجنون یعنی جو جادو کے زور سے بے عقل کردیا گیا یہاں مطلوب کے معنی ہیں کہ جن پر جادو کیاگیا لہذا ان کے مسحو رکہنے میں اور ان فرشتوں کے مطلوب کہنے میں بڑافرق ہے،واقعی حضور انور پر جادو کیا گیا تھا مگر اس سے حضور کی عقل و ہوش و حواس پر مطلقًا اثر نہیں ہوا صرف خیال پر اثر ہوا۔

۷؎ جادو کیا تھا لبید کی لڑکیوں نے مگر ان کی مدد لبید نے کی تھی اور کہا بھی اس نے تھا اس لیے لبید کا نام لیا گیا۔خیال رہے کہ لفظ طب کے بہت معنی ہیں ان میں سے ایک معنی جادو ہے یہاں اسی معنی میں ہے۔

۸؎  مشط کنگھی کے دندے کو کہتے ہیں اور مشاطہ سر یا داڑھی کے وہ بال جو کنگھی کرنے میں دندوں میں الجھ کر باہر آجاتے ہیں،طلعہ کھجور کا نر درخت جب وہ غلاف میں ہو جس میں کھجور کے پھول محفوظ ہوتے ہیں اکثر جادو کنگھی سے نکلے ہوئے بالوں پر ہوتا ہے اس لیے بعض لوگ ان بالوں کی حفاظت کرتے ہیں اولًا ان پر کچھ تھوتکار دیتے ہیں پھر وہ بال کسی محفوظ جگہ میں ڈالتے ہیں۔

 ۹؎ اس کنویں کے تین نام ہیں ذرواں،ارواں اور ذی ارواں،مختلف احادیث میں یہ مختلف نام آئے ہیں یہ کنواں مدینہ منورہ سے باہر ابوزریق کے باغ میں تھا اب موجود نہیں تب ہی بند کردیا گیا تھا دیکھو مرقات وغیرہ۔

 ۱۰؎ معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں وہ کنواں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا بھی گیا تھا اور دکھایا بھی گیا تھا اس لیے اریتھا فرمایا۔

 ۱۱؎ یعنی اس کنویں کا پانی نکالا نہیں جاتا تھا اس لیے پانی کا رنگ بدل گیا تھا اور اس کنویں پر چو طرفہ تھور کے درخت تھے جس کی شاخیں سانپ کے پھن کی طرح ہوتی ہیں ان پر باریک اور لمبے کانٹے ہوتے ہیں۔شیاطین سے مراد پھن والے سانپ ہیں۔

۱۲؎  اس طرح نکلوایا کہ آپ سرکار کنویں کے کنارہ پر کھڑے رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و عمار کو کنویں میں اتارا انہوں نے جادو کا سامان نکالا موم کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پتلا تھا جس میں گیارہ سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں بالوں میں گیارہ گرہیں تھیں اس جگہ اس وقت جبریل امین سورۂ فلق اور سورۂ ناس لائے ان دونوں میں گیارہ آیتیں ہیں حضور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ایک آیت پڑھتے تو پتلا میں سے ایک سوئی نکل جاتی تھی اور بالوں کی ایک گرہ کھل جاتی تھی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجاتا تھا اس طرح گیارہ آیتیں پڑھنے پر گیارہ سوئیاں نکل گئیں اور گیارہ گرہیں کھل گئیں حضور انور بالکل صحت یاب ہوگئے۔(اشعۃ اللمعات)حضور انور نے اس یہودی سے بدلہ نہیں لیا۔
Flag Counter