Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
150 - 952
حدیث نمبر150
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین میں حاضر ہوئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھ والوں میں سے ایک شخص کے متعلق فرمایا ۱؎ جو دعویٰ اسلام کرتا تھا ۲؎ کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے ۳؎ تو جب جنگ کا وقت آیا تو اس شخص نے سخت جہاد کیا اور اس کو زخم بہت آئے تو وہ آیا عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم غور تو فرمایئے کہ جس کے متعلق حضور نے خبر دی تھی کہ دوزخی ہے اس نے تو اﷲ کی راہ میں سخت جہاد کیا حتی کہ اس کو بہت زخم پہنچے ۴؎ تو فرمایا آگاہ رہو وہ ہے دوزخی ۵؎ قریب تھا کہ بعض لوگ تردد کرجائیں ۶؎ تو جب وہ اسی حال میں تھا کہ اس نے زخم کی تکلیف بہت محسوس کی تو اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا ایک تیر نکالا اس سے اپنے کو ذبح کرلیا۷؎ تو کچھ مسلمان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف دوڑے بولے یارسول اﷲ رب تعالٰی نے آپ کی بات سچی کردی ۸؎ فلاں شخص نے اپنے کو ذبح کرلیا اور خودکشی کر لی تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ اکبر ۹؎ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اﷲ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۱۰؎ اے بلال اٹھو اعلان کرو کہ جنت میں نہ جائے گا مگر مؤمن ۱۱؎  اور اﷲ تعالٰی اس دین کو فاسق آدمی سے بھی قوت دے گا۱۲؎(بخاری)
شرح
۱؎  معہ فرما کر یہ بتایا کہ اس شخص کا جسم حضور کے ساتھ تھا دل نہ تھا یعنی وہ حقیقتًا منافق تھا یا وہ عارضی طور پر حضور انور کے ساتھ تھا آخر علیحدہ ہونے والا تھا کہ کافر ہو کر مرنے والا تھا۔

۲؎ یعنی اس شخص پرکوئی علامت کفر موجود نہ تھی بظاہر مسلمان مجاہد غازی تھا حضرات صحابہ کے ساتھ رہتا تھا۔

۳؎ یہ ہے حضور کا علم غیب کہ ہرشخص کے انجام سے خبردار ہیں کہ کون مؤمن مرے گا کون کافر،سعادت و شقاوت کا علم بھی علوم خمسہ میں سے ہے۔

۴؎ یعنی اس کے ظاہری حالات اہلِ جنت کے سے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ مجاہد غازی صابر معلوم ہورہا ہے تعجب ہے کہ حضور نے اسے دوزخی فرمایا ہے۔

۵؎ یعنی وہ کچھ بھی عمل کرے زخمی ہو یا زخمی کرے وہ ہے دوزخی جو ہمارے منہ سے نکل چکا وہ ہو کر رہے گا۔جیسے یوسف علیہ السلام نے قیدی باورچی اور ساقی سے فرمایا تھا"قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسْتَفْتِیَانِ"جو میرے منہ سے نکل گیا وہ اٹل ہے یعنی ٹل نہیں سکتا اس لیے بعد میں ساقی نے آپ سے کہا یوسف ایہاالصدیق کیونکہ صدیق وہ ہے کہ جو وہ کہہ دے وہ ہو کر رہے۔

 ۶؎ یعنی اس شخص کے ظاہری حالات ایسے تھے کہ ممکن تھا کہ بعض لوگ اس خبر کی حقانیت میں تردد اور اس کے جنتی ہونے کا گمان کرلیں اور اپنا ایمان خراب کرلیں کیونکہ نبی کی خبر میں تردد کرنا کفر ہے۔

 ۷؎ بعض روایات میں ہے کہ اس نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی نوک پر اپنا پیٹ رکھ کر اس پر لد گیا حتی کہ تلوار کی نوک اس کی پیٹھ سے نکل گئی۔مگر دونوں روایتوں میں تعارض نہیں اس نے پہلے تو تیر سے اپنے کو ذبح کیا مگر جب اس سے اس کی جان نہ نکلی تو یہ حرکت کی بہرحال وہ حرام موت مرا یا کافر ہو کر مرایا فاسق ہو کر ظاہر یہ ہے کہ کافر ہو کر مرا ظاہری حالت لوگوں نے دیکھ لی کہ اس نے خودکشی کی دل کی حالت کی خبر حضور انور نے دے دی اس کا یہ کام اس کے دلی کفر کی علامت بن گیا۔خیال رہے کہ خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا حرام موت مرکر دوزخ کا مستحق ہوتا ہے۔اگر ایمان پر مرا ہے تو بہت عرصہ دوزخ میں رہے گا اور اگر کافر مرا ہے تو ہمیشہ رہے گا حضور انور کا فرمان کہ یہ اہلِ نار ہے دونوں کو شامل ہے۔

۸؎ یہ حضرات اس خوشی میں آئے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر کو اﷲ نے سچا کردکھایا حضور کی عظمت کا ظہور حضور کے علمِ غیب کی تصدیق مؤمنوں کے لیے خوشی و فرحت کا ذریعہ ہے جو لوگ حضور کے علم غیب کی خبروں سے چِڑ جاتے ہیں وہ مؤمن نہیں۔

۹؎ حضور انور کا اﷲ اکبر فرمانا خوشی کے طور پر تھا،خوشی اس کے مرنے کی نہ تھی بلکہ اس غیبی خبر کی تصدیق کی تھی۔

۱۰؎ معلوم ہوا کہ حضور انور کا علم غیب آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے۔یہاں اشہد فرمانا ظہور نبوت کی بنا پر ہے بمعنی مشاہدہ والی گواہی یہ فرمان عالی لوگوں کی تعلیم کے لیے ہے۔یعنی اب تم لوگ میری عبدیت اور رسالت کی گواہی بالمشاہدہ دو تم نے پہلے مجھے علم الیقین سے رسول مانا اب عین الیقین سے رسول مانو جیسے ابراہیم اور عزیر علیہما السلام نے مردہ زندہ ہو تے دیکھ کر فرمایا"اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ" یا "وَاعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ"حضور انور کے معجزات تو آج بھی دیکھے جارہے ہیں رب تعالٰی بینا آنکھ عطا فرمائے۔

 ۱۱؎ یعنی بغیر ایمان کوئی نیکی جنت میں پہنچنے کا ذریعہ نہیں تما م نیکیوں کی درستی کے لیے ایمان ایساہی ضروری ہے جیسے نماز کے لیے وضو یا جیسے درخت کی سرسبزی کے لیے جڑ کا درست ہونا۔

 ۱۲؎ یعنی تا قیامت یہ طریقہ رہے گا کہ بعض لوگ دینی خدمات کریں گے جن سے اسلام کو قوت پہنچے مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں گے مگر وہ خود اس کے فائدوں سے محروم رہے جیسا کوئی ریا کار مسجد خانقاہ مدرسہ دینی بنا جاوے لوگ فائدے اٹھائیں یہ خود اپنی خراب نیت کی وجہ سے ثواب نہ پائے یا جیسے کوئی شخص صدقات جاریہ قائم کرے مگر اس کا خاتمہ خراب ہوجاوے لوگ اس کے صدقات کی وجہ سے جنتی بن جاویں وہ خود دوزخی ہو۔الٰہی تیری پناہ !لہذا کوئی اپنے اعمال پر نازاں نہ ہو رب کا فضل مانگتا رہے   ؎

احمد یار احمق ہویا علم و دھیرا پڑھ کے		پڑھے لکھے پر مان نہ کرنا پھٹ جاندا دودھ کڑھکے

شکلاں والیاں ناز دکھاون پکڑ نکالیاں جاون 	اوگنہاریاں عجز کماون قرب حضوری پاون
Flag Counter