| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرمایا ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ حنین کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی پیٹھیں پھر گئیں پھر جب کفار نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا ۲؎ تو آپ خچر سے اترے پھر زمین سے مٹی کی مٹھی لی پھر اسے کفار کے چہروں کے سامنے کیا پھر فرمایا بگڑ گئے یہ چہرے ۳؎ تو ان میں سے اﷲ نے کوئی انسان نہ پیدا فرمایا مگر اﷲ نے اس کی آنکھیں اس مٹھی کی مٹی سے بھردیں پھر وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے ۴؎ اﷲ نے انہیں شکست دے دی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ اصحاب سے مراد بعض صحابہ ہیں نہ کہ سارے۔(مرقات)پیٹھ پھیرنے کی وجہ ابھی پچھلی احادیث میں ذکر کی گئی ان حضرات صحابہ کا ناتجربہ کار کم ہتھیار ہونا اور اپنی زیادتی پر اعتماد کرنا مقابل کفار کا بہت نشانہ باز تیر انداز ہونا کہ ان کا کوئی تیر بغیر زخمی کیے نہ گرتا تھا۔ ۲؎ غشوا بنا ہے غشیان سےبمعنی چھا جانا گھیر لینا،سینکڑوں کفار نے ایک ذات کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا تھا مگر حضور انور کے قلب پاک پر گھبراہٹ مطلقًا نہیں آئی۔ ۳؎ اس موقعہ پر حضور انور نے تین کام کیے تلوار سونت کر خچر سے اترنا، وہ رجز پڑھنا کہ انا النبی لا کذب،انا ابن عبدالمطلب۔تیسرا یہ عمل کہ مٹھی بھر کر مٹی کافروں پر پھینکنا۔ خیال رہے کہ بعض موقعوں پر حضور انور کے منہ شریف سے بے تکلف شعر صادر ہوئے ہیں یہ شعر بھی انہیں میں سے ہے لہذا یہ واقعہ اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"وہاں مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم شعر نہیں یا ہم نے محبوب کو شعر گانے کا ملکہ نہیں دیا۔شاھت کے معنی ہیں بگڑ گئے،پھرگئے۔ ۴؎ اس واقعہ میں حضور انور کے تین معجزے ہیں: (۱)ان سب کی آنکھوں میں مٹی پہنچ جانا(۲)اتنی تھوڑی مٹی سے چار ہزار کافروں کی آنکھیں بھر جانا(۳)ان سب کا ایک مٹھی مٹی سے شکست کھا جانا کہ کفار کو شکست مسلمانوں کی تلوار سے ہوئی مگر اس کی ابتداء اس مٹھی مٹی سے ہوئی۔ ۵؎ یعنی مسلمانوں کو فتح،عزت مال،غنیمت،غلام لونڈیاں سب کچھ ہی ملیں مگر ان کے غلام لونڈیاں بعد میں واپس کردیں گئیں اور ان کے مال بطور غنیمت تقسیم کیے اس لیے تقسیم مال کا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔