۱؎ یعنی حضور انور جہادوں میں سب مجاہدین کی جائے پناہ ہوتے تھے کہ ہر طرف سے آپ ہی کے پاس آیا جاتا تھا بلکہ قیامت تک ہر مسلمان کی پناہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں ہر مصیبت ہر آفت میں حضور کی پناہ لو ابلیس کے دھوکوں سے حضور کی پناہ میں آؤ،فرماتے ہیں انا فئۃ المسلمین میں مسلمانوں کی پناہ ہوں۔
۲؎ عمومًا جہادوں میں سردار محفوظ مقامات میں کھڑے ہوتے ہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جہاد میں مشکل ترین جگہ پر کھڑے ہوتے تھے جہاں حضور ہوتے تھے وہاں ہی جنگ کا زور ہوتا تھا اس لیے آپ کے ساتھ آپ کے پاس کھڑے ہونا ہر شخص کا کام نہ تھا بہت بہادر ہی وہ جگہ سنبھالتا تھا۔