Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
147 - 952
حدیث نمبر147
روایت ہے حضرت ابو اسحاق سے ۱؎ کہ کسی نے حضرت براء سے کہا کہ اے ابو عمارہ تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے ۲؎ تو فرمایا نہیں خدا کی قسم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیٹھ نہیں پھیری ۳؎ لیکن حضور کے نوجوان صحابہ اس طرح گئے تھے کہ ان کے پاس بہت سے ہتھیار نہ تھے ۴؎ تو وہ تیر انداز قوم سے ملے جس کا کوئی تیر زمین پر گرتا نہ تھا۵؎ تو انہوں نے مسلمانوں کو زخمی کردیا ان کے تیر خطا نہیں کرتے تھے تب وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سفید خچر پر تھے ۶؎ اور ابوسفیان ابن حارث آپ کے خچر کو کھینچ رہے تھے ۷؎ تب حضور اترے فتح کی دعا کی اور فرمایا میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں ۸؎ پھرمسلمانوں کی صفیں بنائیں ۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ کا نام عمرو ابن عبداﷲ ہے،سہمی مشہور تابعی ہیں،اڑتیس صحابہ سے ملاقات ہے آپ سے بہت احادیث مروی ہیں(اشعہ و مرقات)

۲؎  یہ سائل قبیلہ بنی قیس سے تھا اس کا نام معلوم نہیں ہوا ابو عمارہ کنیت ہے حضرت براء ابن عازب کی ۔فررتم سے پہلے ہمزہ استفہام پوشیدہ افررتم ہے یعنی کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے۔

۳؎  یعنی لشکر کا بھاگنا اس کے افسر کے بھاگنے سے ہوتا ہے ہمارے افسر اعلیٰ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تھے حضور انور نے بھاگنے کا خیال بھی نہیں کیا پھر ہم کب بھاگے۔حضور انور کا جمارہنا ہم سب کا ڈٹا رہنا تھا قراءۃ الامام لہ قراۃ،سبحان اﷲ! کیا پیارا جواب ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کی شان تو ہمارے خیال و گمان سے دراز ہے جس خوش نصیب پر حضور کی نظر ہوجاوے وہ کبھی کسی جنگ میں پیٹھ نہیں پھیرتا،جیسے حضرت ابوبکر و عمر اور علی رضی اﷲ عنہم ان بزرگوں نے کبھی کسی جہاد میں پیٹھ پھیرنے کا خیال تک نہ کیا۔

۴؎ یعنی بے ہتھیار ناتجربہ کار نوجوان حضرات تھے۔

۵؎ یعنی ہوازن بڑے تیر انداز تھے ان کا نشانہ خطا نہ ہوتا تھا ہر تیر ہم لوگوں کو لگتا تھا اس لیے ہم میں زخمی بہت ہوئے۔اس کلام میں اشارۃً فرمایا گیا کہ تمام صحابہ نے بھی پیٹھ نہیں پھیری تھی صرف ناتجربہ کار لوگ ہی بھاگ پڑے تھے لہذا جماعت مسلمین کو فرارین نہیں کہا جاسکتا۔

۶؎  حضور کے اس خچر کا نام دلدل تھا(اشعہ)یہ چتکبرہ رنگ کا تھا جو مقوقش شاہ اسکندریہ نے حضور انور کو ہدیۃً بھیجا تھا ایک خچر اور بھی حضور کے پاس تھا جو فروہ ابن نفاثہ نے ہدیۃً حاضر کیا تھا۔اس خچر کا نام فضہ تھا وہ سفید رنگ کا تھا۔(مرقات)بعض شارحین نے اس کے برعکس بھی کہا ہے۔

 ۷؎ اولًا خچر کی لگام صرف حضرت عباس تھامے تھے پھر جب حالت نہایت نازک ہوئی اور کفار کا دباؤ بہت بڑھ گیا تو ابوسفیان ابن حارث بھی آگے آگئے انہوں نے بھی لگام پکڑی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ حضرت عباس لگام تھامے تھے اور رکاب جناب ابوسفیان پکڑے تھے۔(مرقات)

۸؎ حنین میں جب مسلمان تتر بتر ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم قریبًا اکیلے رہ گئے اور کفار نے حضور انور کا خچر گھیر لیا اور بھرپور حملہ کرنا چاہا تب حضور انور گھبرائے بالکل نہیں بلکہ نہایت جرأت  سے نیچے اترے تلوار سونت لی اور یہ ارشاد فرمایا کہ میں جھوٹا نبی نہیں ہوں تاکہ بزدل ہوں،بلکہ سچا نبی ہوں سچے نبی بہادر ہوتے ہیں پھر میں عبدالمطلب کا فرزند جو بہادری شجاعت میں مشہور ہوا کہ بعض موقعوں پر خصوصًا جہاد میں کفار کے مقابل اپنے نسب پر فخر کرنا بالکل جائز ہے خصوصًا جب کہ نسب بہادری شجاعت میں مشہور ہو۔ہاں مسلمانوں کے مقابل اپنے نسب پر فخر کرنا اس طرح کہ دوسروں کی توہین ہو حرام ہے لہذا یہ فرمان عالی ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں نسب پر فخر کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ایسے نازک موقعہ پر اپنے نسب کا ذکر دشمن کو مرعوب کرنے کا ذریعہ ہے۔حضرت عبدالمطلب سارے عرب میں بہادری شجاعت و کرامت و عزت میں مشہور تھے۔

 ۹؎ وہ ہی مسلمان جو تتر بتر ہونے کے بعد حضور انور کے پاس جمع ہوگئے ان کی صفیں بنائیں اس زمانہ میں صفیں بنا کر جنگ ہوتی تھی۔
Flag Counter