Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
142 - 952
حدیث نمبر142
روایت ہے حضرت عوف سے وہ ابورجاء سے ۱؎ وہ عمران ابن حصین سے راوی فرمایا ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو لوگوں نے حضور سے پیاس کی شکایت کی آپ اترے اور فلاں کو بلایا ابو رجاء اس شخص کا نام لیتے تھے اسے عوف بھول گئے اور جناب علی کو بلایا ۲؎ پھر فرمایا تم دونوں جاؤ پانی تلاش کرو وہ چلے تو دونوں ایک عورت سے ملے جو دو بڑے یا چھوٹے توبڑوں کے درمیان تھی۳؎ توبڑے پانی کے تھے وہ دونوں اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اسے اس کے اونٹ سے اتارا ۴؎  اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک برتن منگایا پھر ان توبڑوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں آواز دی گئی کہ پی لو ۵؎ چنانچہ لوگوں نے خوب پیا فرمایا کہ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پیا حتی کہ سیر ہوگئے پھر ہم نے اپنے ساتھ والے مشکیزے اور برتن بھر لیے ۶؎ اﷲ کی قسم ان سے پانی لینا جب بند کیا گیا تو ہم کو خیال ہوتا تھا کہ وہ ابتداء کے مقابلہ میں اب زیادہ پُر ہیں ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ عوف تبع تابعی ہیں اور ابو رجاء تابعی ہیں ابو رجاء کا نام عمران ابن تمیم عطاردی ہے ،حضور انور کے زمانہ ہی میں مسلمان ہوگئے تھے مگر زیارت نہ کرسکے،بہت بڑی عمر پائی      ۱۰۷؁ ایک سو سات میں وفات ہوئی،ایک سو بیس سال سے زیادہ عمر پائی۔ (مرقات و اشعہ)

۲؎ یعنی حضور انور نے دو صاحبوں کو یہ حکم دیا ایک تو حضرت علی تھے، دوسرے فلاں صاحب تھے ان فلاں کا نام مجھے یاد نہ رہا ابو رجاء نے بتایا تھا عوف بھول گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنے دکھ درد حضور کو سنانا اور ان کے دفعیہ کے لیے حضور سے عرض کرنا نہ تو توکل کے خلاف ہے نہ شرک ہے بالکل جائز ہے دیکھو پیاس کی شکایت حضور سے کی۔اب بھی اپنے دکھ درد حضور سے کہنا بالکل جائز ہے،ہم بھیگ مانگنے ہی کو پیدا ہوئے،حضور بھیک دینے کو آئے"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔

۳؎ یعنی ایک حبشی عورت اونٹ پر سوار تھی اس کی دونوں جانب دو چھوٹے یا بڑے مشکیزے پانی کے بھرے ہوئے لٹک رہے تھے اور یہ عورت چلی جارہی تھی۔

۴؎ ھا ضمیر یا تو اس عورت کی طرف ہے یا اس کے مشکیزہ کی طرف یعنی اس عورت کو یا مشکیزے کو اونٹ سے اتارا یہ عورت بڑی مشکل سے حضور انور کی خدمت میں لائی گئی تھی وہ آنے پر تیار نہ تھی کیونکہ اس کے سفر میں حرج ہوتا تھا،جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔ یہاں دو باتیں دھیان میں رکھی جاویں: ایک یہ کہ ان دونوں صحابہ نے اس عورت کو حاضر بارگاہ کردیا اس کا پانی نہیں چھین لیا کیونکہ وہ عورت اس پانی کی مالکہ تھی اور مالک کی مرضی کے بغیر اس کی چیز استعمال نہیں کرسکتے،ہاں خود مالک کو حضور کی بارگاہ میں حاضر کردیا، دوسرے یہ کہ کسی کو جبرًا روکنا اسے اس کی سواری سے جبرًا اتارنا،اس کا پانی بغیر اس کی مرضی کے لے لینا قانون کے لحاظ سے ممنوع ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم انسانوں کے مالک ہیں اﷲ تعالٰی نے انہیں ملک تام بخشی ہے مالک اپنی لونڈی غلام میں ہر طرح تصرف کرسکتا ہے اس کی جان میں بھی اس کے مال میں بھی،خصوصًا جب کہ اس تصرف میں اس شخص کا نقصان بھی نہ ہو۔

 ۵؎ یعنی مشکیزے کے منہ سے پانی ایک برتن لگن وغیرہ میں ڈالا اور لوگوں نے اسی لگن سے پانی لیا کہ لوگ اس برتن سے پانی لیتے تھے۔اسقو کے معنی یہ ہیں کہ خود بھی پی لو اپنے جانوروں وغیرہا کو بھی پلالو۔

 ۶؎ یعنی فی الحال سب نے پانی پی بھی لیا اور آئندہ پینے کے لیے بھر بھی لیا،وضو و غسل بھی کرلیے حضور انور نے اس مشکیزہ کا کنکشن حوض کوثر سے کردیا تھا غالبًا یہ پانی وہاں سے آرہا تھا۔

۷؎ یعنی پانی کی برکت کا یہ حال تھا کہ ہم کو محسوس ہوتا تھا کہ جب پانی لینا شروع کیا گیا تھا اس وقت سے اب یہ مشکیزہ زیادہ پر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کی چیز ہمارے استعمال سے کم نہ ہو تو اس کی بغیر اجازت وہ چیز لے سکتے ہیں لہذا دوسرے کے چشمہ والے کنوئیں سے پانی بھر سکتے ہیں کسی کی روشنی سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں،بچوں سے ایصال ثواب کراسکتے ہیں۔
Flag Counter