| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرمایا کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ۱؎ حدیبیہ ایک کنواں ہے ہم نے اس کا پانی نکال ڈالا تو اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا ۲؎ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی آپ اس کنویں پر آئے اس کے کنارہ پر بیٹھےپھر پانی کا برتن منگایا وضو کیا پھر کلی کی اور دعا فرمائی پھر وہ پانی کنویں میں ڈال دیا ۳؎ پھر فرمایا اسے گھڑی بھر چھوڑدو ۴؎ پھر لوگ اپنے آپ کو اپنی سواریوں کو سیراب کرتے رہے حتی کہ وہاں سے کوچ کیا ۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ ان روایات کی مطابقت ابھی ذکر کی گئی کہ چودہ سو پندرہ سو تقریبی ہے یعنی قریبًا چودہ پندرہ سو تھے لہذا ان میں تعارض نہیں۔ ۲؎ عرب میں بلکہ پاکستان میں بعض جگہ کنویں ایسے ہیں کہ اگر ان سے پانی نکالا جاوے تو بہت جلد خشک ہوجاتے ہیں،نو کنڈی میں ہم نے کنویں دیکھے کہ دو تین سو ڈول نکالنے پر خشک ہوجاتے ہیں پھر چوبیس گھنٹے چھوڑے جاویں تب اس میں پانی اور آجاتا ہے یہ ہی حال حدیبیہ کے کنویں کا تھا۔ ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ وضو کلی ایک برتن میں کی پھر اس برتن پر دعاء برکت کی پھر یہ پانی حدیبیہ کنویں میں ڈال دیا،غالبًا حضور انور نے کلی علاوہ وضو کے کی تھی وضوء والی کلی اس کے سوا تھی لہذا تمضمض فرمانا زائد نہیں۔ ۴؎ یعنی ہمارا تبرک پانی پڑتے ہی کنویں سے پانی نکالنا شروع نہ کردو کچھ دیر ٹھہر جاؤ۔ساعۃ سے مراد گھنٹہ نہیں بلکہ گھڑی بھر مراد ہے یہ ٹھہرنا اس لیے تھا کہ یہ تبرک اپنا پورا اثر کرے۔یار کے جلوے مختلف ہیں کبھی فورًا تاثیر کبھی کچھ ٹھہر کر۔ ۵؎ غالب یہ ہے کہ یہ کنواں پھر برابر بھرا ہی رہا کبھی خشک نہ ہوا کاش کہ اس پر گنبد وغیرہ بنادیا جاتا کہ لوگ اس کی زیارت بھی کرتے پانی بھی تبرکًا پیتے۔(مرقات)یہ میدان حدیبیہ مکہ معظمہ سے بالکل قریب ہی ہے جدہ راستہ پر فقیر نے اس کی زیارت کی۔خیال رہے کہ حضرت جابر کا گزشتہ واقعہ اور ہے یہ واقعہ دوسرا ہےمگر یہ دونوں واقعہ ہوئے حدیبیہ میں۔