| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھےحتی کہ ہم ایک وسیع جنگل میں اترے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت(استنجاء)کے لیے گئے تو ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آڑ کریں ۲؎ حضور نے جنگل کے کناروں میں دو درخت دیکھے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲ کے حکم سے میری اطاعت کر ۳؎ وہ آپ کے ساتھ اس مہار والے اونٹ کی طرح چلے جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے۴؎ حتی کہ آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے ۵؎ تو اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲ کے حکم سے میری اطاعت کروہ بھی اسی طرح حضور کے ساتھ چلا کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے ۶؎ تو فرمایا اﷲ کے حکم سے مجھ پر مل جاؤ وہ دونوں مل گئے میں بیٹھ گیا اپنے دل میں کچھ سوچتا تھا۷؎میرا اور طرف دھیان گیا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو آتے ہوئے دیکھا اور درختوں کو دیکھا۸؎ کہ جدا ہوگئے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا ہوگیا تھا ۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ افیح بنا ہے فیح سےبمعنی چوڑائی افیح کے معنی ہیں بہت فراخ لمبا چوڑا جنگل۔ ۲؎ اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بہت دور چلے گئے تھے مگر پھر بھی بغیر آڑ کے استنجاء کرنا مناسب نہ سمجھا۔بہتر یہ ہی ہے کہ جنگل میں آڑ میں استنجاء کرے۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ درخت بھی حضور انور کی بات سنتے ہیں،سمجھتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں جیسے حضور انور ان سب کی یوں سنتے سمجھتے ہیں،ان کے فیصلے کرتے ہیں ایسے ہی وہ تمام چیزیں حضور کی بات جانتی مانتی ہیں۔ ۴؎ درخت کے چلنے کی نوعیت یہ ہوئی کہ درخت کی جڑیں باہر آگئیں اور درخت مع اپنی جڑ کے حضور انور کے پیچھے پیچھے ہولیا۔یہ ہے حضور کی بادشاہت مطلقہ کہ انسان و جانور تو کیا درختوں پر بھی جاری ہے وہ بھی حضور کی اطاعت کرتے ہیں اگر انسان حضور کی فرمانبرداری نہ کرے تو درختوں سے بدتر ہے۔ ۵؎ سبحان اﷲ! یہ ہے حضور کا خدا داد اختیار اور ملکیت اور سارے جہان پر بادشاہت اس درخت کو وہاں دوسرے درخت کے پاس کھڑا نہ کردیا بلکہ اس دوسرے درخت کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا اس طرح کہ ایک ہاتھ میں ایک درخت کی شاخیں تھیں، دوسرے ہاتھ میں دوسرے درخت کی شاخیں تھیں اور دونوں درخت حضور انور کے پیچھے دوڑے آرہے ہیں۔وہ نظارہ بھی قابلِ دید ہوگا جب مطیع فرمانبردار اونٹوں کی طرح حضور کے پیچھے یہ دونوں درخت دوڑے چلے آرہے ہوں گے۔حضور انور صرف آواز دے کر بھی ان درختوں کو بلا سکتے تھے مگر یہ نظارہ دکھانے کے لیے خود انہیں پکڑ لائے۔ ۶؎ یعنی جب یہ دونوں درخت ان کے بیچ کی جگہ میں پہنچے تو ان دونوں کو ملادیا ان کے ملنے سے پردہ بن گیا۔ ۷؎ یعنی میں کچھ سوچنے لگا،نگاہ میری ان درختوں سے ہٹ گئی۔ ۸؎ بعض نسخوں میں الشجرتان ہے تب تو ظاہر ہے کہ الشجرتان مبتداء ہے اور قد افترقتا خبر اور ہمارے نسخوں میں الشجرتین ہے تو نظرت فعل پوشیدہ ہے جس کا یہ مفعول ہے۔ ۹؎ یعنی اب جو میں نے دیکھا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پہنچ چکے تھے میں ان کا جانا نہیں دیکھ سکا پلک جھپکتے وہ دونوں واپس ہوگئے۔معلوم ہوتا ہے کہ آئے تھے حضور کے پکڑنے سے، گئے حضور کے محض حکم اور اشارہ سے حضور کا پکڑنا اورحکم دینا ایک ہی درجہ کا ہے۔