| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ لوگ حدیبیہ کے دن پیاسے ہوئے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک ڈول تھا ۱؎ جس سے حضور نے وضو کیا پھر لوگ اس طرف دوڑ پڑےبولے ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کریں اور پئیں سواء اس پانی کے جو آپ کے ڈو ل میں ہے۲؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا ہاتھ اس ڈول میں رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پھوٹنے لگا ۳؎ فرمایا کہ ہم نے پیا اور وضو کیا ۴؎ حضرت جابر سے کہا گیا کہ تم کتنے تھے فرمایا اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہم کو کافی ہوتا ہم پندرہ سو تھے ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی صلح حدیبیہ کے دن حدیبیہ کنویں کا پانی ہم نے تھوڑی دیر میں ہی خشک کردیاجیسا کہ عرب کے کنوؤ ں کا حال ہوتا ہے۔اب پانی صرف ایک چمڑے کے ڈول میں تھا جو حضور انور کے سامنے رکھا ہوا تھا،کوہ حمیرہ کا ایک ڈول یا بڑا لوٹا جس سے وضو وغیرہ کیا جاوے۔ ۲؎ یعنی اسلامی فوج بغیر پانی کے ہے پیاسی بھی ہے وضو وغیرہ کی بھی اسے ضرورت ہے اور پانی صرف اتنا ہے جتنا آپ کے ساتھ ہے۔ ۳؎ حضور انور کا یہ معجزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے سے افضل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو اس سے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوگئے کیونکہ پتھر سے پانی جاری کردینا واقعی معجزہ ہے مگر انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دینا بڑا معجزہ۔اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا ؎ انگلیاں ہیں فیض پرٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر ندیاں پنجاب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ ۵؎ خوش نصیب تھے یہ حضرات جنہیں اس پانی سے وضو نصیب ہوگیا جس سے ان کے ظاہر باطن دونوں پاک ہوئے،تمام پانیوں سے حتی کہ آبِ زمزم سے بھی یہ پانی افضل تھا۔(ازمرقات) ۶؎ خیال رہے کہ اہلِ حدیبیہ کی تعداد میں مختلف روایات ہیں چودہ سو،پندرہ سو،تیرہ سو تحقیق یہ ہے کہ ان کی تعداد پندرہ سو پچیس تھی،باقی روایات یا تو تخمینی ہیں یا راوی کی اطلاع کے مطابق ہیں کہ انہیں اطلاع یہ ہی پہنچی۔(مرقات)آپ یہ بتارہے ہیں کہ ہم اس دن قریبًا پندرہ سو تھے مگر پانی کے جوش اور کثرت کا یہ عالم تھا کہ اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی سب کے پینے،وضو، غسل کو کافی ہوتا۔