۳؎ بنی غنم انصارکا ایک قبیلہ تھا جن کا محلہ بنی قریظہ کے راستہ میں پڑتا تھا یہاں اس کی نشاندہی فرمائی جارہی ہے۔
۴؎ موکب میم کے فتحہ کاف کے کسرہ سے سواروں کی جماعت جو آہستہ آہستہ چلے یعنی ہم نے اپنی آنکھوں سے بنی غنم کی گلیوں میں غبار اڑتا ہوا دیکھا مگر کوئی چلنے والا نظر نہیں آتا تھا، ہوا بھی تیز نہ تھی حضور انور نے بتایا کہ یہ غبار فرشتوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھ رہا ہے اس واقعہ میں حضور انور کے بہت سے معجزات کااظہار ہے۔خیال رہے کہ فرشتوں کی جماعت کے سردار حضرت جبریل علیہ السلام تھے اس لیے صرف انہیں کا ذکر فرمایا۔