Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
138 - 952
حدیث نمبر138
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم خندق سے لوٹے اور ہتھیار رکھ دیئے اور غسل فرمایا تو آپ کے پاس حضرت جبریل اپنا سر غبار سے جھاڑتے ہوئے آئے ۱؎ بولے آپ نے تو ہتھیار اتار دیئے خدا کی قسم میں نے نہیں اتارے ان کی طرف جائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کہا،جبریل نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لے گئے ۲؎
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ ھو ضمیر حضرت جبریل کی طرف ہے یعنی جبریل اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔چونکہ حضرت جبریل حضور کے خادم اور اسلام کے غازی بن کر آئے تھے اس لیے ان پر غازیوں کے آثار یعنی غبار اور ہتھیار تھے ورنہ فرشتوں پر نہ ہتھیار ہوتے ہیں نہ غبار۔

۲؎ بنی قریظہ اور بنی نضیر یہ یہود مدینہ کی دو جماعتیں تھیں جنہوں نے پہلے تو مسلمانوں سے معاہدہ کیا پھر خود ہی یہ معاہدہ توڑ دیا اور تمام مشرکین عرب کو مدینہ پر چڑھا کر یہ ہی لائے تھے۔انہوں نے مشرکین سے کہا کہ تم باہر سے مسلمانوں پر حملہ کرو ہم اندرون مدینہ ان پر حملہ کریں اور انہیں ایسا پیس ڈالیں جیسے چکی میں دانے۔غزوہ خندق سے فارغ ہو کر حضور انور نے ان پر حملہ کیا،بنی قریظہ چن چن کر قتل کردیئے گئے،بنی نضیر جلا وطن کردیئے گئے یہاں وہ واقعہ مذکور ہے،کتب تواریخ میں یہ واقعہ بالتفصیل موجو د ہے۔
Flag Counter