۱؎ آپ صحابی ہیں،کوفی ہیں،بڑے بزرگ تھے،واقعہ کربلا کے بعد آپ نے یزیدیوں سے بدلہ لینے کے لیے بہت بڑی جماعت جمع کی اس کوشش میں شہید ہوئے۔(اشعہ)
۲؎ احزاب غزوہ خندق کو کہتے ہیں،یہ غزوہ ۵ھ میں ہوا۔احزاب جمع ہے حزب کی بمعنی گروہ و جماعت،چونکہ اس غزوہ میں کفار کی بہت جماعتیں جمع ہوکر مدینہ طیبہ پر ٹوٹ پڑیں تھیں اس لیے اسے احزاب کہتے ہیں۔ان تمام کے سردار ابوسفیان تھے، ان کی تعداد دس ہزار تھی۔چنانچہ نجدی کفار ایک ہزار تھے جن کا سردار عیینہ ابن حصن تھا ہوازن کا سردار عامر ابن طفیل تھا،بنی کنانہ وغیرہ کے الگ الگ سردار تھے،مدینہ کے یہودی بنی قریظہ اور بنی نضیر ان سے مل گئے تھے ایک ماہ تک مدینہ منورہ کا محاصرہ رہا تھا،دو طرفہ سے تیر اندازیاں اور معمولی جھڑپیں ہوتی رہیں تھیں کھل کر جنگ نہیں ہوئی پھر اﷲ تعالٰی نے تیز آندھی بھیجی جس سے لشکر کفار تتربتر ہوکر بھاگ گیا۔(مرقات وغیرہ)
۳؎ اس میں غیبی خبر ہے کہ اب آئندہ مدینہ منورہ پر کفار حملہ نہ کرسکیں گے بلکہ اب ہم ہی ان پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا کہ غزوۂ طائف،غزوۂ خیبر،فتح مکہ،تبوک وغیرہ سب میں مسلمان ہی حملہ آور ہوئے۔