۱؎ حضرت عمار ابن یاسر کی والدہ ماجدہ کا نام سمیہ بنت ابی حذیفہ تھا،قبیلہ بنی مخزوم سے تھیں،مکہ مکرمہ میں اسلام لائیں، ابوجہل اور دیگر کفارکے ہاتھوں بہت ہی بے دردی سے شہید کی گئیں۔اس جملہ کی کئی ترکیبیں ہیں۔آسان ترکیب یہ ہے بؤس ایک پوشیدہ فعل کا فاعل ہے اور ابن سمیہ منادی ہے یعنی اے سمیہ کے فرزند تم کو سخت تکلیف پہنچے گی۔
۲؎ اس فرمان عالی میں تین غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ حضرت عمار شہید ہوں گے،دوسرے یہ کہ مظلوم ہوں گے،تیسرے یہ کہ ان کے قاتل باغی ہوں گے یعنی امام برحق پر بغاوت کرنے والے،یہ تینوں خبریں من و عن اسی طرح ظاہر ہوئیں۔ حضرت عمار جناب مولیٰ کائنات علی المرتضٰی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھے،جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے۔جب یہ حدیث شہادت عمار کے بعد حضرت امیر معاویہ کو پہنچی کہ عمرو ابن عاص نے کہا کہ معاویہ غضب ہوگیا حضرت عمار ہماری جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے اور حضور انور نے ان کے قاتلین کو فئۃ باغیہ فرمایا ہے ہم اس حدیث کے ماتحت باغی ہوئے تو امیر معاویہ نے کہا نحن امۃ باغیۃ لدم عثمان یعنی یہاں باغیہ بغاوت سے نہیں بلکہ بغیٌ بمعنی مطالبہ سے،ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ مانگنے والے ہیں،اس معنی سے واقعی ہم لوگ باغی ہیں۔ دوسرے یہ کہ عمار کو قتل کرنے والے دراصل علی ہیں جو انہیں جنگ میں لائے ہم تو عمار کا بڑا احترام کرتے تھے اور کرتے ہیں۔حضرت علی نے فرمایا کہ اگر حدیث کا مطلب یہ ہے تو جناب حمزہ کے قاتل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کہ وہ ہی آپ کو جنگ احد میں لے گئے تھے۔بہرحال حضرت علی خلیفہ برحق ہیں،امیرمعاویہ ان کی مخالفت کی بنا پر باغی ہیں،حضرت علی کی ڈگری امیر معاویہ کی معافی ہے۔(مرقات و اشعہ)اس کی نفیس تحقیق ہماری کتابہ امیر معاویہ پر ایک نظر میں دیکھو،صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار سب کا احترام لازم ہے۔