Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
129 - 952
حدیث نمبر129
اور روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مشورہ اس وقت کیاجب ہم کو ابوسفیان کی آمد کی خبر پہنچی ۱؎  اور سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے بولے یا رسول اﷲ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم گھوڑے سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں ۲؎  اور اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم ان کے سینے برک غماد تک ماریں۳؎ تو  ہم ایسا ضرور کریں،راوی نے فرمایا کہ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو جہاد کے لیے بلایا تو لوگ چلے حتی کہ بدر میں اترے۴؎  پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ فلاں کافر کی قتل گاہ ہے اور اپنا ہاتھ زمین پر ادھر ادھر رکھتے تھے ۵؎  راوی نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ کی جگہ سے نہ ہٹا ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ واقعہ غزوہ بدر کا مقدمہ ہے،ابوسفیان چالیس ہمراہیوں کے ساتھ شام سے تجارت کرکے بہت نفع کما کر مکہ معظمہ جارہے تھے،یہ سارا منافع مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگی تیاریوں پر خرچ کرنا تھا راستہ میں مدینہ منورہ پڑتا تھا مسلمانوں کو خیال ہوا کہ اس قافلہ کو روک کر یہ مال چھین لیا جاوے،ابو سفیان بحرین کے راستہ سے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور جنگ بدر کی صورت بن گئی تب حضور انور نے مسلمانوں سے مشورہ فرمایا کہ کہو کیا رائے ہے حالات بدل گئے اور جنگ کا نقشہ بن گیا تب حضرات صحابہ نے یہ عرض کیا جو یہاں مذکور ہے۔

۲؎  حضرت سعد ابن عبادہ انصار کے سردار تھے انہوں نے حضور انور کے مشورہ فرمانے پر یہ ایما ن افروز جواب دیا۔مطلب یہ ہے کہ حضور انور یہ خیال نہ فرماویں کہ ہم کو ابوسفیان کے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے لایا گیا تھا نہ کہ جنگ کرنے کو اور اب جنگ سامنے آگئی ہم پیچھے جائیں گے ہم تو بندہ حکم ہیں جو حکم ہو ہم اس پر کاربند ہوں گے ہمارا حال تو یہ ہے     ؎

تعالٰی اﷲ یہ شیوہ ہی نہیں ہے باوفاؤ ں کا		 پیا ہے دودھ ہم لوگوں نے غیرتمندماؤ ں کا

نبی کا حکم ہو تو پھاند جائیں ہم سمندر میں		جہاں کو محو کر دیں نعرہ اﷲ اکبر میں 

نحیضھا میں ضمیر لوٹ رہی ہے گھوڑوں کی طرف وہ گھوڑے ان کے سامنے تھے ادھر ضمیر لوٹائی۔(مرقات)دیکھو آگے آرہا ہے اکبادھا۔

۳؎   برک غماد یمن یا ہجر کا آخری شہر ہے جو مدینہ منورہ سے بہت دور ہے۔سینہ مارنے سے مراد ہے ایڑھ مارنا سوار گھوڑے یا اونٹ کے سینہ پر اپنا قدم مارتا ہے تیز چلانے کے لیے یعنی اگر ہم کو حضور حکم دیں کہ برک غماد تک بذریعہ اونٹوں اور گھوڑوں کے پہنچو وہاں جہاد کرو تو ہم کو اس میں تأمل نہ ہوگا اگر چہ وہاں پہنچنا بہت دشوار ہے کیونکہ باوفا غلام ہیں وقت پر منہ موڑنے والے نہیں۔

۴؎  بدر دراصل ایک کنویں کا نام ہے جو اس کنویں کے بنانے والے کے نام پر مشہور ہوا،اب پوری بستی کا نام بدرہے۔یہ جگہ مدینہ منورہ سے قریبًا ایک سو پینتالیس کیلو میٹر پر واقع ہے،اس گنہگار نے اس جگہ کی مفصّل اور بارہا زیارت کی ہے۔ادھر ابوجہل مع اپنے ساتھیوں کے مکہ معظمہ سے چل کر بدر پہنچا ان کی تعداد نوسو پچاس تھی،سارے سامان جنگی سے لیس تھے، ادھر ابوسفیان ساحلی راستہ سے بخیریت گزرتے ہوئے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور ابوجہل کو پیغام بھیجا کہ اب چونکہ ہم لوگ بخیریت گھر پہنچ گئے ہیں تم بھی واپس آجاؤ مسلمانوں سے جنگ کی ضرورت نہیں مگر ابوجہل نے جواب بھیجا کہ بہادر جب جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو بغیر فتح ہوئے واپس نہیں ہوتے تم بھی ہم تک پہنچو۔چنانچہ پچاس آدمی ابوسفیان کو لے کر پہنچ گئے اب کفار کی تعداد ایک ہزار ہوگئی مسلمان غازی صرف تین سو تیرہ تھے جن کے پاس جو سامان جنگ تھا اس کی فہرست یہ ہے  ؎

تھےان کےساتھ دوگھوڑےچھ زرہیں آٹھ شمشیریں		پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں

یہ لشکر ساری دنیا میں انوکھا اور نرالا تھا			کہ اس لشکر کا افسر ایک کالی کملی والا تھا

۵؎ حضور انور نے یہ نشان دہی جنگ سے ایک دن پہلے کردی تھی فرمایا کہ کل ستر۷۰ کفار مارے جائیں گے یہاں فلاں اور یہاں فلاں۔

۶؎ سبحان اﷲ! یہ ہے کہ حضور انور کا معجزہ علم غیب جس جگہ جس کافر کے ہلاک ہونے کی خبر دی اسی جگہ وہ کافر مارا گیا ایک انچ آگے پیچھے نہ مرا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی نے ہر ایک کے وقت موت،جگہ موت اور کیفیت موت کی خبر دی ہے کہ کون کہاں مرے گا کب مرے گا اور کیسے مرے گا،کافر ہوکر مؤمن ہوکر،یہ علوم خمسہ ہیں جن کا ظہور بدر میں اس طرح ہوا۔اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں دیکھو۔
Flag Counter