| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کہ آپ بدر کے دن ایک قبہ میں تھے ۱؎ الٰہی میں تجھ سے تیرا عہد تیرا وعدہ مانگتا ہوں ۲؎ الٰہی اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جاوے۳؎ تب جناب ابوبکر نے آپ کا ہاتھ پکڑا عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے اپنے رب پر زاری کافی کرلی ۴؎ تو آپ اس طرح نکلے کہ زرہ میں چل رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ مجمع کفار بھگا دیا جائے گا پیٹھیں پھیر دی جائیں گی ۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ اس قبہ کی جگہ اب ایک مسجد بنی ہے جسے مسجد عریش کہتے ہیں۔اس کے سامنے ایک میٹھے پانی کا چشمہ ہے،فقیر نے اس مسجد میں نماز پڑھی ہے اور ایک بار پڑھائی ہے اور اس چشمہ میں غسل کیا ہے۔ ۲؎ شاید اس عہد و وعدہ سے مراد وہ عہد و وعدہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے"وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی کے وعدہ کے وسیلے سے دعا کرنا سنت ہے بلکہ اس کے نبی کے وعدے کے توسل سے دعا کرنا حکم الٰہی ہے،فرماتا ہے کہ ہم سے یوں دعا کیا کروں"رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ"یہ تقاضا نہیں بلکہ توسل ہےیعنی وسیلہ کے ذریعہ دعا کرنا۔ ۳؎ یعنی اگر تو نے ان مسلمانوں کی مدد نہ فرمائی اور یہ شکست کھا گئے یا شہید ہوگئے تو پھر دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔حضور انور نے یہ دعا اس جوش سے کی کہ آپ کی چادر مبارک کندھے شریف سے گر گئی اور حضور انور پر بہت رقت بلکہ وارفتگی طاری ہوگئی۔(اشعۃ اللمعات)یہ دعا تھی کہ تیر قضا تھا جو اپنا کام کر گیا۔ ۴؎ حضرت ابوبکر صدیق کے عرض معروض کا مقصد ہے کہ یارسول اﷲ حضور انور جو یہ دعا فرمارہے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں،حضور یقین فرمائیں کہ حضور کی دعا سے ہمارے دلوں کو بالکل قوت و اطمینان میسر ہو گئے ہیں،حضور یہ دعا کافی ہے ہمارے دل قوی اور مطمئن ہوچکے ہیں۔اس عرض کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باﷲ حضور انور کو پریشانی تھی اورحضرت صدیق اکبر کو اطمینان تھا،حضور انور کو اﷲ کی رحمت سے اپنی فتح کا یقین تھا یہ دعا مسلمانوں کے دلوں کو چین دلانے کے لیے تھی"اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ"۔ ۵؎ اس میں بھی غیبی خبریں ہیں کہ بفضلہ تعالٰی فتح ہماری ہوگی کفار مارے جائیں گے اور جو بچیں گے وہ بھاگ جائیں گے مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا۔