| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ عبداﷲا بن سلام نے رسول اﷲ کی تشریف آوری کی خبر سنی حالانکہ وہ ایک زمین میں کام کر رہے تھے ۱؎ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،عرض کیا کہ میں آپ سے تین ایسی باتیں پوچھتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۲؎ قیامت کی پہلی علامت کیا ہے اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے اور بچے کو کون سی چیز اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے۳؎ راوی نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ابھی مجھے ان کی خبر جبریل علیہ اسلام نے دی۴؎ قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچادے گی ۵؎ اور پہلا وہ کھانا جسے جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہے ۶؎ اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجاوے تو مرد بچہ کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوجاوے تو وہ کھینچ لیتی ہے ۷؎ عبداﷲ بولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اﷲ کے رسول ہیں ۸؎ یارسول اﷲ یہود بہتان لگانے والی قوم ہے اگر آپ کی پوچھ گچھ سے پہلے وہ میرے اسلام کو جان لیں تو مجھے بہتان لگادیں گے۹؎ چنانچہ یہود آئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں عبداﷲ کیسے شخص ہیں وہ بولے کہ ہم میں بہترین ہیں اور ہمارے بہترین کے بیٹے ہیں ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۱۰؎ فرمایا بتاؤ تو اگر عبداﷲ ابن سلام مسلمان ہوجائیں وہ بولے کہ انہیں اﷲ اس سے پناہ دے ۱۱؎ تو عبداﷲ نکلے بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اﷲ کے رسول ہیں تو یہود بولے کہ وہ ہمارے بدترین ہیں اور ہمارے بدترین کے بیٹے ہیں۱۲؎ ان کی بہت برائی کی، عبداﷲ نے کہا یارسول اﷲ یہ ہی وہ چیز ہے جس سے میں ڈرتا تھا۱۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ باغ میں پھل چن رہے تھے وہ پھل آپ کی گود میں تھے دامن پیچھے سے بندھا ہوا تھا،حضور انور کے پاس آئے تو خوشی کے مارے وہ پھل گھر میں رکھ دینا بھول گئے اسی طرح پھل گود میں لیے ہوئے حاضر ہوگئے۔ ۲؎ یعنی ان تین سوالوں کے جوابات صرف نبی کو یا ان کے وسیلہ سے،ان کی کتابوں سے،ان کی تعلیم سے دوسروں کو معلوم ہوسکتے ہیں۔مجھے خبر ہے کہ آپ نے کوئی آسمانی کتاب کسی عالم سے پڑھی نہیں ان نبیوں کی تعلیمات آپ تک پہنچی نہیں تو اب آپ نور نبوت سے جواب دے سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداﷲ ابن سلام بھی تو نبی نہ تھے انہیں یہ جوابات کیسے معلوم تھے کیونکہ حضرت عبداﷲ توریت کے بڑے عالم ماہر تھے۔ ۳؎ خیال تو کرو کہ کیسے گہرے سوالات ہیں جن میں ابتداء انتہا سب کا سوال ہے کہ بیٹا یا بیٹی باپ کے ہم شکل یا ماں کی صورت پر کیوں ہوتے ہیں یکساں کیوں نہیں ہوتے،یہ مبداء کے متعلق سوال ہے اور اہلِ جنت کو پہلی غذا کیا دی جاوے گی،یہ انتہا کے متعلق سوال ہے،حضور انور نے یہ نہ فرمایا کہ مجھ سے نماز وغیرہ کے مسائل عقائد اسلامیہ پوچھو مجھے ان باتوں کی کیا خبر۔ معلوم ہوا کہ نبی یقینًا ہر بات جانتے ہیں،نبی کے معنی غیبی خبر والے یعنی غیبی خبریں دینے والے یا خبریں رکھنے والے یا سب کی خبر لینے والے۔ان سوالات نے نبی کا مقام بتادیا نبی بے خبر نہیں ہوتے اور بے خبر نبی نہیں ہوتے۔ ۴؎ خیال رہے کہ نبی کو علوم غیبیہ آہستگی سے عطا ہوتے ہیں۔چنانچہ یہاں اس کا ذکر ہے کہ اس وقت جبریل امین کے ذریعہ مجھے اس وقت ان کے جوابات بتائے اس میں حضرت ابن سلام کی نہایت ہی عزت افزائی ہے کہ ان کے سوالات کے جوابات آسمان سے آئے۔ ۵؎ اس کا تفصیلی ذکر باب علامات القیامت میں ہوچکا ہے۔یہ آگ قریب قیامت عدن سے اُٹھے گی لوگ آگے آگے بھاگیں آگ پیچھے پیچھے ہوگی،رات کو ٹھہرا کرے گی تاکہ لوگ آرام کرسکیں،سب کو فلسطین یا شام میں پہنچا کر غائب ہوجائے گی۔ اول علامت سے مراد ہے قیامت سے بالکل متصل بڑی علامت پہلی یہ ہوگی۔ ۶؎ اس کا ذکر بھی باب صفۃ الجنۃ واھلھا میں ہوچکا کہ جنتیوں کو سب سے پہلے زمین کی روٹی اور مچھلی جس پر زمین اٹھانے والی گائے کھڑی ہے اس کی کلیجی کا مزیدار کنارہ کھلایا جاوے گا اس کے بعد انہیں کبھی بھوک نہ لگے گی،پھل فروٹ لذت کے لیے کھایا کریں گے۔ ۷؎ یعنی اگر رحم میں پہلے مرد کی منی گرے تو بچہ باپ کے ہم شکل ہوتا ہے اور اگر پہلے عورت کی منی گرے تو ماں کی ہم شکل ہوتا ہے،اگر مرد کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکا ہوتا ہے اور ماں کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکی ہوتی ہے اس لیے جس عورت کے لڑکیاں ہی ہوتی ہوں اسے شروع حمل میں بعض دوائیں کھلائی جاتی ہیں جن سے مرد کا نطفہ قوی ہوجاوے اور بچہ لڑکا بنے، تعویذ دعائیں بھی اسی مقصد کے لیے دیئے جاتے ہیں۔یہ مضمون کچھ فرق کے ساتھ کتاب الطہارۃ باب الغسل میں گزر چکا ہے۔ ۸؎ یعنی حضور کے ان جوابات سے مجھے حضور کی نبوت کا یقین ہوگیا۔کوئی یار کا رخسار دیکھ کر ایمان لایا،کوئی گفتار سن کر،کوئی رفتار دیکھ کر،کسی نے دلیل سے مانا،کسی نے دل سے،حضرت عبداﷲ چہرہ انور دیکھ کر ہی دل سے ایمان لاچکے تھے مگر زبانی اقرار کے لیے احتیاطًا یہ سوالات کیے وہ سمجھے کہ پانی پینا چھان کر مرشد کرنا جان کر۔ ۹؎ یعنی یارسول اﷲ میں چاہتا ہوں کہ حضور انور یہود میں میرا مقام معلوم فرمالیں میرے اسلام کی یہود کو خبر نہ دیں ورنہ وہ جھوٹ بول کر مجھے بگاڑ کر پیش کریں گے بلکہ حضور پہلے ان سے میرے متعلق دریافت کریں کہ میرے متعلق ان کا اعتقاد کیا ہے پھر میرے اسلام کی انہیں خبر دیں یہ فخر نہیں بلکہ رب کی نعمت کا اظہار ہے۔ ۱۰؎ یعنی خاندانی لحاظ سے بھی وہ ہم سب میں بہتر ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،ان کا خاندان ان کا نسب ہم سب میں اعلیٰ ہے،وہ حسب و نسب میں بہت اونچے ہیں اور علمی عملی لحاظ سے ہم سب سے افضل ہیں،توریت کے بڑے عالم اور اس پر عامل ہیں۔خیرنا و سیدنا میں یہ فرق ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ اولاد نبی ہونا اﷲ کی نعمت ہے بشرطیکہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ ہو کیونکہ حضور انور نے ان یہود کے اس قول کی تردید نہیں فرمائی یونہی علمی خاندان سے ہونا اﷲ کی نعمت ہے۔ان تمام کے متعلق ہماری کتاب الکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسول کا مطالعہ کرو جس میں کہا گیا ہے کہ حضور کا نسب شریف طیب و طاہر اور قیامت میں کام آنے والا ہے۔ ۱۱؎ ان کے نزدیک اسلام ایک مصیبت تھی انہوں نے یہ کہا کہ ابن اسلام کے متعلق یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہو جاویں یہ لفظ یا خبر ہے یا دعا۔ ۱۲؎ یہود کی ہٹ دھرمی تو دیکھو کہ سیدنا ابن اسلام کا ایمان دیکھ کر بجائے اس کے کہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجاتے حضرت عبداﷲ ابن سلام بلکہ ان کے خاندان کی شرافت کا انکار کر بیٹھے۔خیال رہے کہ قرآن مجید نے حضرت عبداﷲ ابن سلام کے اسلام قبول کرلینے کو اسلام کی حقانیت کی دلیل قرار دیا ہے،فرماتاہے:"اَوَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ اٰیَۃً اَنۡ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ"کسی چیز کو علماء حقانی کا مان لینا اس چیز کی حقانیت کی دلیل ہے۔ ۱۳؎ یعنی اگر حضور انور پہلے ہی سے انہیں میرے اسلام کی خبر دے دیتے تو یہ لوگ میری متعلق وہ ہی کہتے جو اب کہتے ہیں،یہ لوگ ایسے سرکش ہیں اگر حضور انور کو یہ نہ مانیں تو حضور غمگین نہ ہوں۔