Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
127 - 952
حدیث نمبر127
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ اپنے والد سے راوی انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو بکر مجھے بتاؤ کہ جب تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ گئے تھے تو تم نے کیا کیا تھا ۱؎ فرمایا ہم اپنی رات چلتے رہے اور کل بھی حتی کہ دوپہری کا ٹھہرنے والا ٹھہر گیا ۲؎  اور راستہ خالی ہوگیا کہ اس میں کوئی نہیں گزرتا تھا تو ہم کو ایک لمبا پتھر ظاہر ہوا جس کا سایہ تھا اس پر دھوپ نہیں آئی تھی ہم اس کے پاس اتر گئے۳؎  اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ہموار کردی جس پر حضور سوئیں اور اس پر پوستین بچھادی ۴؎  اور میں نے عرض کیا یارسول اﷲ سو جائیے میں آپ کے اردگرد پہرہ دوں گا ۵؎  چنانچہ آپ سو گئے اور اور میں آپ کے اردگرد پہرہ دینے لگا۶؎ تو میں نے ایک چرواہا سامنے سے آتا دیکھا میں نے کہا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے وہ بولا ہاں میں نے کہا کیا دودھ دے گا بولا ہاں۷؎  تو اس نے ایک بکری پکڑی ایک پیالہ میں تھوڑا سا دودھ دوہا ۸؎ میرے ساتھ برتن تھا جو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لایا تھا جس میں آپ سیراب ہوتے تھے پیتے تھے اور وضو کرتے تھے تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے آپ کو جگانا پسند نہیں کیا تو میں نے انتظار کیا حتی کہ آپ بیدار ہوگئے ۹؎ پھر میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتی کہ اس کا تلہ بھی ٹھنڈا ہوگیا ۱۰؎  میں نے عرض کیا یارسول اﷲ حضور پئیں آپ نے پیا حتی کہ میں راضی ہوگیا ۱۱؎ پھر فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا پھرہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے۱۲؎ اور سراقہ ابن مالک ہمارے پیچھے پہنچ گئے۱۳؎  میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم آن لیے گئے۱۴؎  فرمایا غم نہ کرو اﷲ ہمارے ساتھ ہے ۱۵؎ پھر انکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی تو ان کا گھوڑا ان کے ساتھ پیٹ تک دھنس گیا سخت زمین میں۱۶؎  سراقہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں صاحبوں نے مجھ پر بددعا کی ہے ۱۷؎ میں آپ دونوں کو اﷲ کا ضمان دیتا ہوں کہ میں تم دونوں سے تلاش کرنے والوں کو دور کردوں گا ۱۸؎  چنانچہ ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی وہ چھوٹ گئے ۱۹؎ پھر وہ یہ کرنے لگے کہ کسی سے نہیں ملتے تھے مگر کہتے تھے تم کفایت کیے گئے ادھر وہ نہیں ہیں کسی سے نہ ملتے مگر اسے واپس کردیتے ۲۰؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ چونکہ ہجرت کی رات صرف جناب صدیق ہی حضور انور کے ساتھ تھے اس لیے لوگ یہ واقعہ انہیں سرکار سے پوچھا کرتے تھے اور جناب صدیق کی یہ خدمت ایسی مقبول ہوئی کہ سبحان اﷲ! جب جناب صدیق حضور کا سر مبارک اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھے ہوں گے اور خوب جی بھر بھر کر چہرہ انور کو دیکھتے ہوں گے اس وقت ان کے دل کا کیا حال ہوگا،وہ اس رات ایسی عبادات کر رہے تھے جو فرش وعرش پر کوئی نہ کر رہا تھا،ان کا زانو حضور کی رحل بنی تھی سامنے جمال یار تھا۔

۲؎  یعنی سورج بیچ آسمان میں آگیا ہمارے سروں پر ٹھہرگیا،اہل عرب دوپہری کے وقت کو کہتے ہیں کہ سورج بیچ آسمان پر ٹھہر گیا کیونکہ اس وقت سورج کی رفتار بہت کم محسوس ہوتی ہے گویا وہ ٹھہرا ہوا ہے یہ ہی محاورہ یہاں استعمال ہوا ہے۔

۳؎  یعنی ہم کو پہاڑ کے دامن میں ایک چوڑا پتھر نظر پڑا جس کے نیچے سایہ تھا وہاں دھوپ نہ پہنچ سکی تھی میں مع اپنے محبوب کے اس سایہ میں اتر گئے۔

۴؎  جناب صدیق اکبر اس سفر میں پانی کا ایک مشکیزہ،ایک کھال کچھ پیسے اپنے ہمراہ لائے تھےوہ بھی حضور کے لیے اور اپنے لیے حضور کو لائے تھے سارا مال و متاع مکہ میں چھوڑ آئے تھے اور جسم کی چادر پھاڑ پھاڑ کر غار ثور کے حوالہ کر آئے تھے آپ کا جسم بے چادر تھا    ؎

عشق نے کیتا حال فقیراں کپڑے کرکے لیراں لیراں	بند  چاکیتا  غار  نبی  دا  اوہ  وس دا

۵؎  یعنی حضور بے فکر سوجائیں ہر چہار طرف پہرہ میں دیتا رہوں گا کسی کو آپ تک نہ پہنچنے دوں گا،رات بھر تو جانوروں کو حضور سے دور رکھ چکا ہوں اب دشمن انسانوں کو حضور سے دور رکھوں گا،اب بھی صدیق حضور انور کے پاس قبر میں سو رہے ہیں پہرا دے رہے ہیں کہ کسی نااہل کو اس سرکار تک نہیں پہنچنے دیتے۔ہر چاہنے والے فقیر و بے نوا کو حضور تک آپ ہی پہچانتے ہیں،یہ پہرا تاقیامت قائم ہے،اس گنہگار نے خواب میں اس کا نظارہ کیا۔انفض بنا ہے نفض سے بمعنی ہر چہار طرف نظر رکھنا،ہر ایک کا حال دیکھنا اس لیے جاسوس جماعت کو نفضہ کہا جاتا ہے دیکھو اشعہ اور مرقات۔

۶؎ خرجت سے معلوم ہوا کہ حضرت صدیق وہاں ہی بیٹھے نہ رہے بلکہ حضور کے اردگرد چکر لگاتے پہرہ دیتے رہے کہ کوئی کسی طرف سے آتا نہ ہو۔

۷؎  ظاہر یہ ہے کہ جناب صدیق نے اس سے یہ دودھ خریدا تھا مانگا نہ تھا اور یہ بکریاں اس چرواہے کی اپنی تھیں یا مالک کی اجازت تھی کہ دودھ فروخت کردیا کرے لہذا اس واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں۔(لمعات)

۸؎  قعب کہتے ہیں لکڑی کے پیالے کو،کثبہ کے معنی ہیں تھوڑا سا یعنی جناب صدیق اکبر کے ساتھ ایک لکڑی کا پیالہ تھا آپ نے اس میں دودھ چوایا۔

۹؎  فوافقتہ کی دو روایتیں ہیں: ایک روایت پہلے ق بعد میں ف سے بمعنی انتظار کرناٹھہرے رہنا،یعنی میں حضور کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا کہ جب جاگیں تب لسی پلاؤ ں۔دوسرے پہلے ف بعد میں قاف سے یعنی میں نے حضور کی موافقت کی کہ کچھ دیر میں بھی حضور انور کے پاس ہی سوگیا۔(اشعۃ اللمعات)

۱۰؎  یعنی میرے ساتھ پانی کا مشکیزہ تھا میں نے اس سے ٹھنڈا پانی دودھ میں اس قدر ڈالا کہ دودھ کچی لسی بن گیا لسی بھی خوب ٹھنڈی۔

۱۱؎  یعنی میں اصرار کرکے بار بار حضور کو پلاتا رہا اور حضور میری عرض قبول کرکے پیتے رہے میں خوش ہوتا رہا یا تو سارا ہی پلا دیا یا کچھ بقیہ جناب صدیق اکبر نے پیا دونوں صورتوں میں آپ کی خوش نصیبی خوش قسمتی پر قربان جائیے۔

۱۲؎  یعنی جب سورج ڈھل گیا اور دوپہری کی تیزی قدرے کم ہوگئی تب ہم دونوں روانہ ہوگئے۔

۱۳؎  کفار مکہ نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کرکے ہمارے حوالہ کردے یا انہیں شہید کرکے ہم کو ثبوت دے دے ہم اسے ایک سو اونٹ انعام دیں گے،اس اعلان پر بہت لوگ چوطرفہ دوڑ پڑے،اس طرف حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعثم مدلجی کنانی آپہنچے اس وقت یہ کافر تھے بعد میں بڑے جلیل القدر صحابی بنے رضی اﷲ عنہ۔

۱۴؎ اس وقت حضور انور تلاوت قرآن میں مشغول تھے محویت کے عالم میں تھے،جناب صدیق ہر چہار طرف دیکھ رہے تھے انہیں اپنا خوف نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جان پاک کا خوف،اپنے کو تو غار ثور میں فدا کرچکے تھے۔

۱۵؎  حضور انور کا یہ فرمان عالی اب دوسری بار جناب صدیق نے سنا پہلے غار ثور میں سن چکے تھے اب اس جگہ سنا،جناب موسیٰ علیہ السلام سے بھی بنی اسرائیل نے یہ کہا تھا انا المدرکون ہم تو پکڑے گئے تو آپ نے فرمایا "اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ" وہاں اپنا ذکر پہلے تھا رب کا ذکر بعد میں،یہاں اﷲ کا نام پہلے ہے اپنا ذکر بعد میں،نیز وہاں ربی یعنی صفاتی نام کا ذکر ہے یہاں اﷲ یعنی ذات نام کا ذکر،نیز وہاں معی واحد ہے یہاں معنا جمع ہے یعنی اﷲ ہم دونوں کے ساتھ ہے،یا اﷲ ہمارے اور ہماری ساری امت کے ساتھ ہے تم غم نہ کرو اس کی تصدیق رب نے فرمائی کہ ارشاد کیا گیا"وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ"۔

۱۶؎  حضور نے دعا یہ فرمائی کہ مولیٰ ہم کو سراقہ کی شر سے بچالے یہ نہیں دعا کی تھی کہ سراقہ کو ہلاک کردے ورنہ سراقہ زندہ نہ بچتے،جو عرض کیا تھا رب نے وہ ہی کردیا۔جَلد کہتے ہیں سخت زمین کو جو دھنسنے کے قابل نہ ہو،دلدل یا گہرے ریتے والی زمین میں دھنس جانا ممکن ہے مگر سخت زمین میں دھسنا معجزہ ہے۔

۱۷؎  اس وقت سراقہ حضور انور سے اتنے قریب تھے کہ آپ کی آواز حضور انور تک پہنچ سکتی تھی،سراقہ نے یہ عرض تیسری بار میں کی ہر دفعہ دھنسنے پر دل میں توبہ کرتے زمین چھوڑ دیتی،چھوٹ کر پھر نیت بگڑتی کہ گرفتار یا شہید کرنے پر سو اونٹ ملیں گے زمین پھر پکڑلیتی تھی تیسری بار میں اﷲ کے حبیب کو پکارا۔

۱۸؎  یہاں حدیث شریف میں اجمال اور اختصار ہے۔حضور انور کی دعا سے زمین نے سراقہ کو چھوڑ دیا،سراقہ بارگاہ اقدس میں بہت نیاز مندی اور اخلاص سے حاضر ہوئے،پھر اپنے اور اپنے بچوں کے لیے حضور انور سے امان تحریری حاصل کی،دل سے مؤمن ہوگئے مگر اپنا ایمان ابھی ظاہر نہیں کیا اور وعدہ کیا کہ حضور آپ اطمینان سے سفر فرماویں میں ادھر کسی جاسوس کو نہ آنے دوں گا سب سے کہہ دوں گا کہ ادھر میں دیکھ آیا ہوں،حضور نے فرمایا کہ سراقہ میں تمہارے ہاتھ میں کسریٰ شاہ فارس کے سونے کے کنگن دیکھتا ہوں۔چنانچہ عہد فاروقی میں فارس فتح ہوا کسریٰ کے کنگن سراقہ کو جناب فاروق نے عطا کیے آپ نے پہنے   ؎

ابن مالک کو دی بشارت زر 			اے مرے غیب داں ترے صدقے

مجھ خطا کار پر عطا پہ عطا 			اے مرے مہرباں تیرے صدقے

اﷲ کی شان ہے کہ جو گرفتاری کرنے آئے تھے وہ خود محبوب کی محبت میں گرفتار ہوگئے،جو پکڑنے آئے تھے وہ محافظ بن گئے۔غار ثور میں مکڑی کے جالے اور کبوتری کے انڈے سے یار کی حفاظت کرائی اور یہاں خود دشمن کو محافظ و نگران بنا دیا۔

۱۹؎  یہاں بیان ترتیب واقعہ کے موافق نہیں پہلے وہ زمین کی گرفت سے چھوٹے پھر یہ کام ہوئے جو یہاں مذکور ہیں۔

۲۰؎  یعنی میں ادھر دیکھ آیا ہوں ادھر وہ نہیں ہیں جنہیں تم تلاش کرتے ہو چونکہ ابھی سراقہ شرعًا مسلمان نہیں ہوئے تھے،نیز اس قول میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی حفاظت تھی،نیز حضور انور نے اس کہنے کا انہیں حکم نہیں دیا تھا اس لیے وہ اس جھوٹ بولنے پر گنہگار نہیں ہوئے اور اگر ماھھنا میں ما کو موصولہ مان لو تو پھر جھوٹ بنتا ہی نہیں یعنی اس سمت میں جو کچھ ہے اس کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوچکا تم تکلیف نہ کرو ادھر نہ جاؤ۔(مرقات)
Flag Counter