۱؎ معجزات جمع ہے معجزہ کی،یہ بناہے اعجاز سے بمعنی عاجز کرنا،وہ کام جس کے مقابلہ سے بلکہ اس کی سمجھ سے خلق عاجز ہو اسے معجزہ کہتے ہیں۔شریعت کی اصطلاح میں معجزہ ہر وہ عجیب و غریب خلاف عادت کام ہے جو دعویٰ نبوت کرنے والے کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔دعویٰ نبوت سے پہلے جو نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوا اسے کہتے ہیں ارہاص،بمعنی عمارت کومضبوط وپختہ بنانا بنیاد مستحکم رکھنا،اس کے ذریعے نبوت کی دیوار کی پختگی کی جاتی ہے۔اولیاء اللہ کے ہاتھ پر جو عجیب بات ظاہر ہو اسے کہتے ہیں کرامت۔عام مؤمنین کے ہاتھ پر اگر کبھی کوئی عجیب بات ظاہر ہو وہ ہے معونت اور کفار کے ہاتھ سے جو عجوبہ ظاہر ہو وہ ہے استدراج۔یہ پانچ قسمیں یاد رکھو: معجزہ،ارہاص،کرامت،معونت،استدراج۔ گذشتہ انبیاءکرام کو ایک یا دو معجزے عطا ہوئے تھے حضور انور کو ہزارہا معجزے عطا ہوئے،کسی نبی کے ہاتھ میں معجزہ تھا،کسی کے سانس میں،کسی کی آنکھ میں مگر حضور کی شان یہ ہے کہ ؎ دیئے معجزے انبیاءکو خدا نے ہمارا نبی معجزہ بن کے آیا نیز سارے نبیوں کے معجزے قصے بن گئے،ہمارے حضور کے بہت سے معجزے تاقیامت دیکھنے میں آئیں گے ذکر کثیر،محبوبیت قرآن مجید،پتھروں،جانوروں پر حضور کا نام کندہ ملنا وغیرہ یہ زندہ جاوید معجزات ہیں۔حضور کے اولیاء اللہ ان کی کرامت حضور کے زندہ معجزے ہیں،مشکوۃ شریف میں چند خصوصی معجزے بیان ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر126
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۱؎ کہ میں نے اپنے سروں کے اوپر مشرکین کے قدم دیکھے جب کہ ہم غار میں تھے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر ان میں سے ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہم کو دیکھ لے۲؎ فرمایا اے ابوبکر تمہیں ان دو کے متعلق کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے ۳؎ (مسلم، بخاری)
شرح
۱؎ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے۔صادق وہ جو زبان کا سچا ہو،صدیق وہ ہے جو نیت،ارادہ،زبان،ہاتھ پاؤں غرض کہ سارے ظاہر باطن اعضاء کا سچا ہو۔صادق وہ کہ جیسا واقعہ ہو ویسا کہے اور صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے واقعہ ایسا ہی ہوجاوے اسی لیے شاہی ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کہا جب کہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا،عرض کیا"یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ"۔حضرت صدیق اکبر نے مالک بن سنان کے متعلق جو کہا تھا وہ ہی ہوا کہ وہ شہید ہونے کے بعد زندہ ہو کر آئے،ان شاء اﷲ یہ واقعہ باب الکرامات میں عرض ہوگا۔ ۲؎ جب ہجرت کی شب حضور انور کو لے کر صدیق اکبر غار ثور میں بیٹھے تب مشرکین عرب اس غار کے دروازے پر پہنچ گئے تب آپ نے نہایت خوف کی حالت میں یہ کہا،جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے سانپ سے کٹوالیا،خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا،یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہوں۔ ۳؎ حضرت صدیق اکبر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو رب تعالٰی کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا"اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصٰحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا"۔اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر کے چند فضائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انہیں حضور کا ثانی اثنین،پھر انہیں تیسرا کون کرے حضور کے بعد درجہ اس ثانی کا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں حضور کا صحابی فرمایا گیا لِصٰحِبِہٖ ان کی صحابیت قطعی یقینی ہے۔تیسرے یہ کہ انہیں یار غار یعنی حضور کا گہرا دوست غار کا ساتھی کہا گیا آج بھی کہتے ہیں فلاں میرا یار غار ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور نے فرمایا:"اِنَّ اللہَ مَعَنَا "۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی جیسے اپنے حبیب کے ساتھ ہے ویسے ہی جناب صدیق کے ساتھ بھی ہے یعنی جو ان دونوں کے دامن سے الگ ہو اللہ اس کے ساتھ نہیں۔خیال رہے کہ اﷲ ثالثھما کہنا عین ایمان ہے اور ان اﷲ ثالث ثلثۃ کہنا عین کفر ہے یعنی خدا کو نسبت کرو ناقص عدد کی طرف نہ کہ برابر عددکی طرف جیسے وھو رابعھم اور و ھو ثالثھم رب کو قرآن میں فرمایا گیا ہے۔(مرقات)یہ واقعہ اس لیے معجزہ بنا کہ حضور کی خبر کے مطابق کفار ان دونوں حضرات کو نقصان نہ پہنچاسکے،مکڑی کے جالے اورکبوتری کے انڈے کے ذریعہ رب نے ان دونوں جانوں کو کفار سے بچالیا۔(مرقات)پھر حضرت صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سب کچھ کہتے رہے مگر ان کی آواز کفار نے نہیں سنی اور کفار کی آوازیں غار میں جناب صدیق سنتے رہے یہ بھی معجزہ ہے۔۱؎ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے۔صادق وہ جو زبان کا سچا ہو،صدیق وہ ہے جو نیت،ارادہ،زبان،ہاتھ پاؤں غرض کہ سارے ظاہر باطن اعضاء کا سچا ہو۔صادق وہ کہ جیسا واقعہ ہو ویسا کہے اور صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے واقعہ ایسا ہی ہوجاوے اسی لیے شاہی ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کہا جب کہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا،عرض کیا"یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ"۔حضرت صدیق اکبر نے مالک بن سنان کے متعلق جو کہا تھا وہ ہی ہوا کہ وہ شہید ہونے کے بعد زندہ ہو کر آئے،ان شاء اﷲ یہ واقعہ باب الکرامات میں عرض ہوگا۔ ۲؎ جب ہجرت کی شب حضور انور کو لے کر صدیق اکبر غار ثور میں بیٹھے تب مشرکین عرب اس غار کے دروازے پر پہنچ گئے تب آپ نے نہایت خوف کی حالت میں یہ کہا،جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے سانپ سے کٹوالیا،خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا،یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہوں۔ ۳؎ حضرت صدیق اکبر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو رب تعالٰی کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا"اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصٰحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا"۔اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر کے چند فضائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انہیں حضور کا ثانی اثنین،پھر انہیں تیسرا کون کرے حضور کے بعد درجہ اس ثانی کا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں حضور کا صحابی فرمایا گیا لِصٰحِبِہٖ ان کی صحابیت قطعی یقینی ہے۔تیسرے یہ کہ انہیں یار غار یعنی حضور کا گہرا دوست غار کا ساتھی کہا گیا آج بھی کہتے ہیں فلاں میرا یار غار ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور نے فرمایا:"اِنَّ اللہَ مَعَنَا "۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی جیسے اپنے حبیب کے ساتھ ہے ویسے ہی جناب صدیق کے ساتھ بھی ہے یعنی جو ان دونوں کے دامن سے الگ ہو اللہ اس کے ساتھ نہیں۔خیال رہے کہ اﷲ ثالثھما کہنا عین ایمان ہے اور ان اﷲ ثالث ثلثۃ کہنا عین کفر ہے یعنی خدا کو نسبت کرو ناقص عدد کی طرف نہ کہ برابر عددکی طرف جیسے وھو رابعھم اور و ھو ثالثھم رب کو قرآن میں فرمایا گیا ہے۔(مرقات)یہ واقعہ اس لیے معجزہ بنا کہ حضور کی خبر کے مطابق کفار ان دونوں حضرات کو نقصان نہ پہنچاسکے،مکڑی کے جالے اورکبوتری کے انڈے کے ذریعہ رب نے ان دونوں جانوں کو کفار سے بچالیا۔(مرقات)پھر حضرت صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سب کچھ کہتے رہے مگر ان کی آواز کفار نے نہیں سنی اور کفار کی آوازیں غار میں جناب صدیق سنتے رہے یہ بھی معجزہ ہے۔