۱؎ قریش کو یقین تھاکہ حضور محمد مصطفےٰ صلی الله علیہ و سلم بیت المقدس کی نشانیاں نہیں بتاسکیں گے ہم کو وہ نشانیاں معلوم ہیں تو ہم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ آپ بیت المقدس گئے ہی نہیں جیسے آپ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ آپ آج رات بیت المقدس گئے تھے ایسے ہی یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ آپ آسمانوں پر گئے تھے۔کذبنی کے یہ ہی معنی ہیں یعنی انہوں نے مجھے جھوٹا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔
۲؎ ہم اس کے متعلق ابھی کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ الله تعالٰی نے ساری دنیا حضور انور کے سامنے فرمادی ہے مگر اس کشف کاظہور کبھی کبھی ہوتا ہے،کبھی خِفا جسے صوفیاء کی اصطلاح میں قبض وبسط کہتے ہیں۔جب رب تعالٰی کی طرف سے بسط کا فیض ہوا تو یہ حال ہوگیا کہ کفار وہاں کے نشانات پوچھتے تھے اور حضور انور دیکھ دیکھ کر بتاتے تھے،قبض و بسط کی مثال ایسی ہے جیسے کھیت میں بارش کی تری اور دھوپ کی خشکی،بسط بارش ہے قبض دھوپ،کھیت کے لیے نہ ہمیشہ بارش مفید ہے نہ ہمیشہ خشکی فائدہ مند دونوں ہی چاہئیں۔