Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
124 - 952
حدیث نمبر124
روایت ہے حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے کو حطیم میں دیکھا ۱؎  قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوالات کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی چیزوں کے متعلق سوالات کیے جو مجھے یاد نہ رہی تھیں ۲؎ تو میں اتنا غمگین ہوا جتنا کبھی نہ ہوا تھا ۳؎  تو الله نے میرے سامنے اسے کردیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے نہ پوچھتے تھے مگر میں انہیں بتا دیتا تھا۴؎ اور میں نے اپنے کونبیوں کی جماعت میں دیکھا ۵؎ تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے وہ درمیانہ قد گھونگریلے بال والے ہیں گویا وہ شنوءہ کے لوگوں میں سے ہیں ۶؎ اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۷؎  ان سے قریبًا ہم شکل عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں ۸؎  اورا براہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۹؎ سب میں زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب یعنی میں ہوں۱۰؎  پھر نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انکی امامت کی ۱۱؎  پھر جب نماز سے میں فارغ ہوگیا تو مجھ سے کسی کہنے والے نے کہا اے محمد یہ آگ کے خزانچی مالک ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے ان کی طرف توجہ کی تو انہوں نے مجھے سلام کرنے سے ابتداء کی۱۲؎ (مسلم)اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
شرح
۱؎ یعنی معراج کے سویرے کو جب ہم نے اپنی معراج کا اعلان کیا ہم حطیم کعبہ میں تھے کہ مشرکین مکہ نے ہم سے سوالات شروع کیے سوالات بھی لایعنی۔

۲؎  مثلًا یہ کہ بیت المقدس میں ستون کتنے ہیں،سیڑھیاں کتنی ہیں،منبر کس طرف ہے اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں تو بار بار دیکھنے پر بھی یاد نہیں رہتیں تو ایک بار دیکھنے پر یاد کیسے رہتیں۔کفار نے کہا کہ عرش و کرسی کی باتیں جو آپ بیان کررہے ہیں ان کی تو ہم کو خبر نہیں بیت المقدس ہم نے دیکھا ہوا ہے وہاں کی نشانیاں آپ ہم کو بتائیں اسی لیے رب نے اس معراج کے دو حصے کئے: بیت المقدس تک،پھر وہاں سے عرش کے آگے تک تاکہ لوگ اس حصہ معراج کو بہت دلائل سے معلوم کرلیں۔

۳؎  یہ غم اپنے متعلق نہ تھا بلکہ کفار کے متعلق تھا کہ اگر میں نے بیت المقدس کی نشانیاں بیان نہ کیں تو یہ میری معراج نہ مانیں گے اور کافر رہیں گے یہ غم بھی عبادت ہے۔

۴؎ خیال رہے کہ حضرات انبیاء کرام پر کبھی تو بسط کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ دنیا کے ذرہ ذرہ کو دیکھتے اس کی خبر رکھتے ہیں اور کبھی قبض کی حالت ہوتی ہے جب اپنے سے بھی بے خبر ہوتے ہیں لہذا یہ حدیث  اس حدیث کے خلاف نہیں رایت مشارق الارض ومغاربھا اس وقت قبض تھا جب بیت المقدس سامنے آگیا تو یہ وقت بسط کا تھا۔شیخ سعدی فرماتے ہیں   ؎

گہے برطارم اعلٰی نشینیم		گہے برپشت پائے خود نہ بینیم

۵؎ یعنی ہم معراج میں دوران سفر انبیاءکرام کی قبروں پر گزرے تو موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔حضور انور نے معراج میں چار بار انہیں کو دیکھا اولًا گزرتے ہوئے ان کی قبروں میں انہیں دیکھا،پھر بیت المقدس میں جہاں سب نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی،پھرآسمانوں میں اپنے مقامات پر،پھر واپسی معراج میں اپنے مقامات پر یہاں پہلی ملاقات کا ذکر ہے۔معلوم ہوا کہ انبیاءکرام اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں وہ زندہ ہیں مگر یہ نماز تکلیفی نہیں لذت و فرحت کی ہے۔

۶؎  شنوءہ یمن کا مشہور قبیلہ ہے،وہ لوگ بڑے خوبصورت ہوتے ہیں،فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کا شوق ہو تو ان لوگوں کو دیکھ لو۔

۷؎ غالبًا آپ آسمانوں میں اپنے مقام پر نماز پڑھتے ہوئے حضور کو ملے۔

۸؎  عروہ ابن مسعود ثقفی اور ہیں اور عروہ ابن مسعود ہزلی دوسرے ہیں،یہ عبدالله ابن مسعود کے بھائی ہیں اور ثقفی دوسرے ہیں،صحابی ہیں،نہایت حسین تھے۔

۹؎  ہوسکتا ہے کہ یصلی میں صلوۃ سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم پر درود شریف ہو یعنی میں نے انہیں اس طرح پایا کہ وہ مجھ پر درود شریف پڑھ رہے تھے۔

۱۰؎  یعنی اگر تم کو شوق ہو کہ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھو تو مجھے دیکھ لو میں ان کی ہم شکل ہوں۔

۱۱؎  یعنی بیت المقدس میں سارے نبیوں نے میری اقتداء میں نماز پڑھی ہم نے سب کی امامت فرمائی اور ہوسکتا ہے کہ بیت المعمور والی نماز کی امامت مراد ہو جہاں حضور نے فرشتوں کو نماز پڑھائی۔خیال رہے کہ حضور کو نماز تو عرش پر پہنچ کر ملی مگر اس سے پہلے ہی نبیوں فرشتوں کو نماز پڑھائی۔معلوم ہوا کہ امت کے لیے نماز عرش پر ملی حضور کو پہلے ہی مل چکی تھی۔

۱۲؎  اس آخری جملہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ نماز وہ ہے جو حضور انور نے بیت المعمور میں فرشتوں اور نبیوں کو پڑھائی کیونکہ یہاں ارشاد ہے کہ نماز سے فارغ ہوتے ہی داروغہ دوزخ مالک سے ملاقات ہوئی۔خیال رہے کہ ان تمام حضرات نے آج حضور کے پیچھے محمدی نماز پڑھی تھی انبیاءکرام نے اپنی اپنی نمازیں نہیں پڑھی تھیں۔سارے انبیاءکرام اور فرشتے حضور کے امتی ہیں یعنی قانونی طور پر حضور صلی الله علیہ و سلم مالک کو سلام فرماتے کیونکہ آنے والا سلام کیا کرتا ہے مگر خازن دوزخ نے حضور انور کا احترام کرتے ہوئے پہلے ہی سلام عرض کیا۔
Flag Counter