Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
123 - 952
حدیث نمبر123
روایت ہے حضرت عبدالله سے ۱؎  فرمایا جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا یہ چھٹے آسمان میں ہے ۲؎ جو چیزیں زمین سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں اور جو چیزیں اوپر سے اتاری جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں۳؎ فرمایا کہ اچانک سدرہ پر چھاگئی جو چھاگئی فرمایا وہ سونے کے پتنگے تھے۴؎  پھر فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تین چیزیں دی گئیں آپ کو پانچ نمازیں دی گئیں اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات دی گئیں۵؎  اور آپ کی امت میں سے جو الله کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ان کے گناہ بخشے گئے ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ حدیث اور فقہ میں جب عبدالله بغیر قید آتا ہے تو حضرت عبدالله ابن مسعود مراد ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود نے فرمایا۔

۲؎  بعض روایات میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان میں ہے جیساکہ  مالک ابن صعصعہ کی روایت میں  ابھی کچھ پہلے گزرا مگر ان دونوں روایتوں میں مخالفت نہیں   اس کی جڑ چھٹے آسمان میں  ہے شاخیں ساتویں آسمان میں،یہاں جڑ کا ذکر ہے وہاں شاخوں کا تذکرہ تھا اس کی شاخوں کا سایہ تمام آسمانوں اور جنت میں ہے۔(مرقات)یہ ہی بات بہت قوی ہے۔

۳؎  جیسے دو ملکوں کی ڈاک کا تبادلہ باڈر یعنی سرحد پر ہوتا ہے اگرچہ دونوں ملکوں کا بادشاہ ایک ہی ہو۔سدرہ سے آگے ہمارے حضور کے سواء کوئی نہیں گیا بلکہ حضور تو اس جگہ گئے جہاں جگہ بھی نہیں وہاں نہ جہاں ہے نہ یہاں نہ وہاں     ؎

برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں		اسریٰ بعبدہ است من المسجد الحرام

تاعرصۂ وجوب کہ اقصاء عالم است		کانجانہ جا است ونے جہت ونے شان و نام

۴؎ یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے بیان میں جو آیت کریمہ"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"وارد ہے اس کی تفسیر حضور انور نے پتنگوں سے کی۔پتنگے یا تو فرشتے ہیں یا ارواح انبیاء جو پتنگوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ اس بیری کے ہر پتہ پر فرشتوں کی فوجیں ہیں،بزرگوں کی روحیں اور سبز رنگ کے غیبی پرندے اور رنگ برنگے انوار لہذا احادیث میں تعارض نہیں کہیں کسی چیز کا ذکر ہے کہیں کسی اور چیز کا۔اس سے پہلے گزرا کہ حضور نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ وہاں کیا چیزیں ہیں وہاں حضور انور کے علم کی نفی مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ تمہیں وہ چیزیں کیسے بتاؤں سمجھاؤں وہ بیان میں نہیں آسکتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔میں ان کے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں پاتا،یوں ہی رب کا فرمانا:"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"اس کا مطلب یہ نہیں کہ رب کو بھی خبر نہیں کہ سدرہ پر کون سی چیز چھا گئی تھی مطلب یہ ہی ہے کہ اس کا بیان نہیں ہوسکتا جیسے رب فرماتاہے: "فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الْـیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ"بہرحال اس قسم کے فرمان کا منشا بے خبری نہیں۔(مرقات)

۵؎  یا تو سورۂ بقرہ کی آخری آیات معراج کی رات بھی حضور کو عطا کی گئیں اور بعد ہجرت بھی نازل کی گئیں،پہلی عطا بغیر واسطہ فرشتہ ہوئی اور دوبارہ نزول بواسطہ فرشتہ ہوا،یا یہ مطلب ہے کہ ان دعاؤں کی قبولیت وہاں عطا کی گئی جو ان آیات میں تعلیم کی گئی ہے حضور سے وعدہ کرلیا گیا کہ جو بھی یہ دعائیں ہم سے مانگے گا ہم اسے عطا کریں گے،یا مطلب یہ ہے کہ ان آیات کے فیوض ان کے انوار ان کی برکتیں جو شمار سے باہر ہیں حضور کو اس رات عطا کی گئیں۔(مرقات،اشعہ)ہوسکتا ہے کہ یہ تمام چیزیں مراد ہوں ان آیات کے الفاظ،قبولیت،انوار برکات سب کچھ اس رات حضور کو عطا ہوئیں،یہ آیات"اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سے لے کر"فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک ہیں۔

۶؎ شرک بالله سے مراد مطلقًا کفر ہے یعنی کفر تو نہیں بخشا جاوے گا اس کے علاوہ سارے گناہ قابل بخشش ہیں،ہاں حقوق العباد خود حق والوں سے معاف کرائے جاویں گے جن کی تین نوعیتیں ہوں گی۔قرآن کریم میں قریبًا ہر جگہ شرک بمعنی کفر آتا ہے"لَا تُنۡکِحُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡ"۔
Flag Counter