Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
122 - 952
حدیث نمبر122
روایت ہے ابن شہاب سے ۱؎  وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی فرمایا کہ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا ۲؎ پھر جناب جبریل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ کھولا پھر اسے آب زمزم سے دھویا ۳؎ پھر سونے کا ایک طشت لائے حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا اسے میرے سینہ میں لوٹ دیا۴؎ پھر اسے سی دیا ۵؎ پھر میرا ہاتھ پکڑا تو مجھے آسمان کی طرف لے گئے ۶؎ تو جب میں دنیاوی آسمان تک پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے خزانچی سے کہا کھولو اس نے کہا کون ہے،انہوں نے کہا یہ جبرئیل علیہ السلام ہیں،کہا کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے کہا ہاں میرے ساتھ محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں ۷؎  اس نے کہا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہاں ہاں ۸؎  جب کھولا تو ہم دنیا کے آسمان میں چڑھ گئے وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے جن کے داہنے کچھ جماعتیں تھیں اور ان کے بائیں کچھ جماعتیں تھیں تو جب اپنے داہنے دیکھتے تو ہنستے تھے اور جب اپنے بائیں دیکھتے تو روتے تھے ۹؎  انہوں نے کہا نبی صالح فرزند صالح خوب آئے،میں نے جبرئیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کون ہیں،انہوں نے کہا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جماعتیں جو ان کے داہنے بائیں ہیں وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں،داہنے والے ان میں سے جنتی ہیں اور وہ جماعتیں جو ان کے بائیں طرف ہیں وہ دوزخی لوگ ہیں ۱۰؎  جب وہ اپنے  داہنے دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں  اور جب اپنے بائیں دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ۱۱؎ حتی کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے پھر اس کے خزانچی سے کہا کھولو ان سے خزانچی نے اس طرح کہا جو پہلے نے کہا،انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نے ذکر کیا کہ آپ نے آسمانوں میں حضرت آدم علیہ السلام،ادریس علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام،عیسیٰ علیہ السلام،ابراہیم علیہ السلام کو پایا یہ یاد نہ رہا کہ ان کے مقامات کیسے تھے۱۲؎  بجز اس کے کہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ انہوں نے پہلے آسمان سے آدم علیہ السلام کو اور چھٹے آسمان میں ابراہیم علیہ السلام کو پایا۱۳؎  ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابن حزم نے خبردی۱۴؎ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوحیہ انصاری کہا کرتے تھے ۱۵؎ کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے چڑھایا گیا حتی کہ میں ایک میدان میں پہنچا ۱۶؎ جس میں قلموں کی چرچراہٹ سنتا تھا۱۷؎  اور ابن حزم اور انس نے فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پھر الله تعالٰی نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۱۸؎  تو میں یہ لےکر واپس ہوا حتی کہ موسیٰ علیہ السلام پرگزرا ۱۹؎ کہ انہوں نے کہا کہ الله تعالٰی نے آپ کے ذریعہ آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا پچاس نمازیں فرض کیں۲۰؎ انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی۲۱؎  انہوں نے مجھے واپس کردیا رب نے آدھی نمازیں معاف کردیں میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو میں نے کہا کہ اس کی آدھی معاف فرمادیں۲۲؎  انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس ہوا رب نے اس کی آدھی اور معاف فرمادیں۲۳؎  میں پھر موسیٰ کی طرف لوٹا،انہوں نے کہا کہ رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس گیا تو رب نے فرمایا کہ نمازیں پانچ ہیں وہ حقیقت میں پچاس ہیں ہمارے ہاں فیصلہ میں تبدیلی نہیں کی جاتی۲۴؎ میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے میں نے کہا کہ میں اپنے رب سے شرم کرتاہوں ۲۵؎ پھر مجھے لے گئے حتی کہ میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا ۲۶؎  اور اس پر مختلف رنگ چھا گئے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے ۲۷؎ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتی کی عمارتیں تھیں۲۸؎  اور اس کی مٹی مشک تھی ۲۹؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  آپ کا نام ابوبکر محمد ابن عبدالله ابن شہاب ہے،زہری قبیلہ سے ہیں جو زہرہ ابن کلاب کی طر ف منسوب ہے،آپ کو زہری کہا جاتا ہے،تابعی ہیں،بڑے فقیہ محدث ہیں،مدینہ منورہ میں قیام رہا،ماہ رمضان    ۱۲۴؁  ایک سو چوبیس میں وفات ہوئی۔(اکمال) آپ اپنی کنیت یعنی ابن شباب میں مشہور ہیں۔

۲؎  میرے گھر سے مراد میرے قیام کا گھر ہے ورنہ اس گھر کی مالکہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب تھیں حضور ان کے گھر سورہے تھے،ملائکہ یہاں سے جگا کر حضور کو حطیم کعبہ میں لائے ابھی تک آپ پر اونگھ طاری تھی پھر یہاں غسل وغیرہ دیا لہذا تمام حدیثیں درست ہیں ان میں تعارض نہیں۔ابتداءمعراج جناب ام ہانی کے مکان سے ہوئی ہے اور ابتداء عروج بیت المقدس سے جناب ام ہانی کا گھر محلہ شعب ابی طالب میں تھا،اب وہ جگہ حرم شریف میں داخل ہوگئی اس کے مقابل ایک دروازہ ہے جسے باب ام ہانی کہا جاتا ہے 

۳؎  دنیاوی دولہا کے جسم کو غسل دیا جاتا ہے حضور انور ایسے انوکھے دولہا ہیں کہ آپ کے دل کو بھی غسل دیا گیا۔آبِ زمزم دوسرے پانیوں سے افضل ہے کہ حضرت اسماعیل کے قدم سے جاری ہوا ہے ا س لیے یہ پانی اس غسل کے لیے منتخب ہوا۔

۴؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ یہ سونا جنت کا تھا ایمان و حکمت خاص خزانہ ربانی میں سے کیونکہ جنت میں پانی دودھ وغیرہ کے چشمے ہیں،پھل فروٹ کے باغات ہیں مگر وہاں ایمان و حکمت یا چشمہ یا باغ نہیں،یہ ایمان و حکمت کا چشمہ علاوہ اس ایمان و حکمت کے ہے جو اول سے ہی حضور انور کو عطا فرمایا گیا تھا آج اس میں اور اضافہ کیا گیا،یہ دونوں چیزیں رب کے ہاں مستقل صورت و حیثیت رکھتی ہیں

۵؎  یعنی یہ ایمان و حکمت انڈیل کر میرا سینہ بھر دیا پھر اسے سی دیا۔

۶؎  یہاں نہ تو براق کا ذکر ہے نہ مسجد اقصیٰ کی نماز کا۔اس بنا پر بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ معراج خواب کی ہے جسمانی معراج میں براق تھا فرشتوں کی برات بھی بیت المقدس کی نماز بھی۔جو حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں بھی جسمانی معراج مراد ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہاں اجمال ہے وہاں تفصیل تھی یہاں ان دو تین چیزوں کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔

۷؎  اس سوال کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ آج حضرت جبریل اس دروازے پر دستک دے رہے ہیں جو صرف حضور انور کی معراج کے لیے مخصوص تھا اس کے سواء کسی کے لیے اس کا کھلنا ناممکن تھا،پوچھا اے جبرئیل یہ دروازہ تمہارا تو ہے نہیں تم یہاں کیوں آئے ہو کیا کسی کو لائے ہو ان کی خاطر تم بھی یہاں آئے،انہوں نے فرمایا ہاں انہیں کو لایا ہوں جن کے لیے یہ دروازہ کھلنا ہے۔

۸؎  یہ سوال انتہائی خوشی کی بنا پر ہے کہ کیا آج معراج کی رات ہے حضور بہ حیثیت مہمان بلائے گئے ہیں،فرمایا ہاں یہ وہی رات ہے۔

۹؎ واقعہ وہ ہی ہے جو پہلے بیان ہوچکا یعنی پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات،یہاں کچھ تفصیل ہوگئی ہے کہ جناب آدم علیہ السلام کو اس طرح پایا۔

۱۰؎  یہ مؤمنین اور کفار وہ ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے آئندہ تاقیامت پیدا ہونے والے ہیں وہ آپ کے اردگرد اس طرح جمع ہیں کیونکہ جو مؤمنین اور کفار پیدا ہوکر مرچکے وہ اس آسمان پر کیسے آسکتے ہیں۔مؤمنین کی روحیں اعلٰی علیین میں پہنچیں کفار کی روحیں سجین میں ان کا اجتماع کیسا۔(مرقات)یا یوں کہو کہ یہ وہ ہی مؤمنین و کفار ہیں جو مرچکے ہیں،وہ لوگ کبھی کبھار اپنے مقامات سے بلا کر یہاں اس طرح آدم علیہ السلام کو دکھائے جاتے ہیں،حضور انور جب وہاں پہنچے تو یہ ہی وقت تھا ان کی پیشی کا حضور انور نے یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اس واقعہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام تا قیامت ہر سعید و شقی سے خبردار ہیں کہ کون ایمان پر مرے گا اور کون کفر پر،یہ ہی بات علوم خمسہ سے ہے۔دوسرے یہ کہ ان سعید و شقی لوگوں کو حضور انور نے بھی معراج کی رات دیکھا ہے اور سب کو پہچانتے ہیں،حضور ہر ایک کے انجام سے خبردار ہیں     ؎

بلکہ قبل از زادن تو سالہا			ہم چنیں بینند چندیں حالہا

۱۱؎ حضرت آدم علیہ السلام کا یہ ہنسنا رونا محبت پدری کی بنا پر تھا۔باپ اپنی اولاد کو اچھے حال میں دیکھے تو خوش ہوتا ہے اور تکلیف میں دیکھے تو غمگین ہوتا ہے یہ ہی حالت آپ کی اس وقت تھی کہ دوزخیوں کو دیکھ کر افسوس کرتے تھے کہ یہ میری اولاد کافر رہی دوزخ میں جائے گی،جنتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے کہ یہ میرے بچے خوش نصیب ہیں جنت میں جائیں گے۔

۱۲؎  یعنی حضور انور نے ان تمام رسولوں کے مقامات بالتفصیل بیان فرمائے تھے مگر تفصیل یاد نہ ر ہی  یہ یاد نہ رہنا حدیث کو ضعیف نہیں کردیتا کیونکہ جو انہیں یاد نہ رہا اس کی روایت ہی نہیں کی جو یاد نہ رہنا حدیث کو ضعیف کرتا ہے۔جب غلط بات حضور انور کی طرف غلطی سے نسبت کردے اسے سوء حفظ کہتے ہیں وہ یہاں موجود نہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں۔

۱۳؎ پچھلی حدیث میں گزرا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضور انور نے ساتویں آسمان میں پایا وہ ہی قوی ہے کیونکہ وہاں تفصیل موجود ہے کہ بیت المعمور سے پشت لگائے ہوئے پایا اور اگر یہ متعدد معراج کے واقعات ہیں تب تو کوئی دشواری ہی نہیں کہ ایک معراج میں حضور نے جناب ابراہیم کو چھٹے آسمان پر پایا دوسری معراج میں ساتویں آسمان پر پایا۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں آسمانوں پر حضور انور کا استقبال کیا چھٹے پر بھی اور ساتویں پر بھی تب حدیث واضح ہے۔

۱۴؎  ابن شہاب یعنی امام زہری کے حالات تو ہم بیان کرچکے۔ابن حزم کا نام محمد ابن عمرو ابن حزم ہے،ان کے والد صحابی ہیں، انصاری ہیں،محمد ابن عمرو ابن حزم       ۱۰ ؁ ہجری میں نجران میں پیدا ہوئے جب کہ ان کے والد حضور انور کی طرف سے نجران کے حاکم تھے،آپ جنگ حرہ میں شہید ہوئے،تریپن سال عمر پائی،   ۶۳ھ؁  میں واقعہ حرہ میں شہید ہوئے۔(مرقات و اکمال)

۱۵؎  ابوحیہ کا نام عامر یا مالک یا ثابت ابن نعمان انصاری ہے،صحابی ہیں،بدری ہیں،غزوہ احد میں شہید ہوئے۔

۱۶؎  مستوی ہر میدان کو نہیں کہتے بلکہ بلند اور اعلٰی میدان کو کہتے ہیں۔

۱۷؎  وہ قلم جس نے لوح محفوظ پر سب کچھ لکھا اور لکھ کر خشک ہوچکا وہ اور قلم ہے جس کے متعلق ارشاد ہے اول ماخلق اللہ القلم۔یہاں وہ قلم مراد نہیں جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں وہ فرشتے ان قلموں سے روزانہ کے احکام الہیہ لکھتے ہیں اور لوح محفوظ سے ایک سال کے واقعات الگ الگ صحیفوں میں نقل کرتے ہیں یہ صحیفے متعلقہ حکام فرشتوں کو پندرھویں شعبان کی شب میں حوالہ کردیئے جاتے ہیں،رب فرماتاہے:"فِیۡہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیۡمٍ"۔ ان قلموں کی درازی رب تعالٰی ہی جانتا ہے۔دیسی قلم جب کاغذ پر چلتا ہے تو اس سے چرچراہٹ پیدا ہوتی ہے،حضور انور اس قدر ان سے قریب ہوئے کہ قلموں کی چرچراہٹ سن لی یقینًا تحریر بھی دیکھ لی قدرت کی تحریر حضور کے علم میں ہیں      ؎

قدرت کی تحریریں جانے امی اور تقریریں جانے		بخشش کی تدبیریں جانے وہ ہے رحمت والا

جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہے اوجیالا

۱۸؎   اگرچہ یہ پچاس نمازیں حضور انور پر بھی فرض کی گئیں تھیں مگر امت پر فرض تھیں پڑھنے کے لیے حضور پر فرض تھیں پڑھانے اور سکھانے کے لیے اس لیے امت کا ذکر فرمایا۔

۱۹؎  اسی ترتیب سے جس ترتیب سے جاتے ہوئے گزرے تھے ہر آسمان پر انہیں پیغمبر سے ملاقات ہوئی جن سے جاتے ہوئے ملاقات ہوئی تھی۔

۲۰؎  خیال رہے کہ اسلام کے تمام فرائض فرش پر ہی بھیجے صرف نمازیں معراج میں عرش پر فرض کی گئیں اس لیے حضور انور نے صرف نمازوں کا ذکر فرمایا اور کسی فرض کا ذکر نہیں کیا۔

۲۱؎  امت کہہ کر یہ بتایا کہ حضور ان نمازوں پر آپ اور آپ کے خاص غلام تو طاقت رکھتے مگر عام امت والے اس کی طاقت نہیں رکھتے۔

۲۲؎   یہاں اجمال ہے یعنی چند بار حاضریوں میں آدھی نمازیں معاف فرمادیں یعنی پانچ بار حاضری میں پچیس نمازیں کم فرمادیں اور پچیس نمازیں باقی رکھیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں شطر بمعنی آدھا نہیں بلکہ بمعنی ایک حصہ ہے یعنی رب نے اس ایک حاضری میں پچاس نمازوں کا ایک حصہ یعنی پانچ نمازیں معاف فرمادیں اس صورت میں مطلب بالکل ظاہر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

۲۳؎  یہاں شطر بمعنی ایک حصہ ہے نہ کہ بمعنی آدھا جیساکہ ظاہر ہے کیونکہ اگر پچاس کا دوسرا آدھا حصہ بھی معاف ہوجاتا تو کوئی نماز فرض نہ رہتی۔

۲۴؎  نسخ کی حقیقت یہ ہی ہے کہ اس میں حکم کی تبدیلی نہیں بلکہ اس حکم کی مدت کی انتہاء کا بیان ہوتا ہے یعنی پچاس نمازوں کا حکم آپ کی اس آمدورفت تک تھا اب پانچ نمازیں فرض ہیں اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ان پر ثواب پچاس ہی کا ہوگا پڑھنے میں پانچ ثواب میں پچاس۔

۲۵؎  حضور کا یہ شرم فرمانا اس لیے تھا کہ اب حضور کا جانا طے شدہ پروگرام کے خلاف ہوتا پہلی تمام آمدورفتیں پروگرام کے مطابق تھیں۔والله ورسولہ اعلم !

۲۶؎  غالبًا سدرۃ المنتہیٰ کی یہ دوسری سیر ہے واپس آتے ہوئے کیونکہ نمازوں کی فرضیت تو عرش سے اوپر جاکر ہوئی سدرہ اس سے کہیں نیچے ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم جاتے ہوئے ان تمام مقامات سے دیکھتے ہوئے گزر گئے واپسی میں پھر ان تمام پر تشریف لائے سیر فرمائی جیسے حاجی عرفات جاتے ہوئے مزدلفہ سے گزر جاتے ہیں پھر عرفات سے آتے ہوئے مزدلفہ میں ایک رات قیام کرتے ہیں۔

۲۷؎  یعنی اس بار سدرہ پر ایسے رنگ برنگے انوار چھا گئے کہ ان کی حقیقت رب تعالٰی ہی جانتا ہے ان کا حسن بیان میں نہیں آسکتا۔یہ انوار حضور انور کے استقبال کے لیے تھے جیسے معزز مہمان کی تشریف آوری پر دن کو شہر،کوٹھی سجائی جاتی ہے،رات کو سارے ہی چراغ،غبارے،آتشبازی سے رونق کی جاتی ہے یہ ساری سج دھج حضور کے دم قدم سے تھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت حضور کو ان انوار کی خبر نہ ہوئی کیونکہ اس وقت حضور کی توجہ خالق کی طرف تھی جیسے دولہا برات کی پرواہ نہ کرے کہ اس کی نگاہ اصلی مقصود پر ہے۔

۲۸؎  جنابذ جمع ہے جنبذہ کی بمعنی اونچی عمارت۔جنت میں ایک ایک موتی کا ایک ایک وسیع محل ہے اگر وہ ایک موتی دنیا میں آجائے تو سورج کی روشنی خیرہ ہو جائے اور اس کی قیمت ساری دنیا کے خزانے نہ ہوسکیں۔

۲۹؎  یہ سمجھانے کے لیے ہے ورنہ دنیا کے مشک کو اس خوشبو سے کیا تعلق،اس مٹی کی خوشبو پانچ سو سال کی راہ سے محفوظ ہوتی ہے بھلا مشک میں یہ بات کہاں،ہاں مشک کی خوشبو اس مٹی کی خوشبو کی حکایت ہے دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔
Flag Counter