روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابوسفیان ابن حرب نے منہ در منہ خبر دی ۱؎ کہا کہ میں اس صلح کے زمانہ میں جو میرے اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے درمیان تھی۲؎ کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کا فرمان نامہ ہرقل کی پاس لایا گیا۳؎ ابوسفیان نے کہا کہ یہ خط دحیہ کلبی لائے تھے اور انہوں نے بصرےٰ کے وزیر کو دیا تھا۴؎ پھر بصرےٰ کے وزیر نے ہرقل کو پہنچایا ہرقل بولا کہ کیا یہاں ان صاحب کی قوم کا کوئی آدمی ہے جو دعویٰ نبوت کررہے ہیں۵؎ لوگوں نے کہا ہاں چنانچہ قریش کی ایک جماعت میں میں بلایا گیا۶؎ تو ہم ہرقل کے پاس گئے ہم کو اس کے سامنے بٹھلایا گیا۷؎ وہ بولا کہ جن صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے ان سے زیادہ قریبی تم میں کون ہے ۸؎ ابوسفیان نے کہا کہ میں بولا میں ہوں ۹؎ تو مجھے اس کے سامنے بٹھادیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے۱۰؎ پھر اپنے مترجم کو بلایا اس نے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ان سے ان صاحب کے متعلق کچھ پوچھوں گا جو اپنے کو نبی کہتے ہیں تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہیں تو تم انہیں جھٹلادینا ۱۱؎ ابو سفیان کہتے ہیں الله کی قسم اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ پر جھوٹ مشہور کیا جاوے گا تو میں اس سے جھوٹ بول دیتا۱۲؎ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھوں کہ ان نبی کا خاندان تم میں کیسا ہے میں نے کہا وہ عالی خاندان ہیں۱۳؎ بولا کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا میں نے کہا نہی۱۴؎ بولا کیا ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے تم انہیں جھوٹ سے متہم کرتے تھے میں نے کہا نہیں۱۵؎ وہ بولا ان کی پیروی کون کرتا ہے سردار لوگ یا کمزور لوگ میں نے کہا بلکہ کمزور لوگ۱۶؎ بولا یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں نےکہا بلکہ بڑھ رہے ہیں بولا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اپنے دین سے ناراض ہو کر پھر جاتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا نہیں۱۷؎ بولا کیا تم نے ان سے کبھی جنگ کی ہے میں نے کہا ہاں بولا تمہاری ان سے جنگ کیسی ہوتی ہے کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہمارے ان کے درمیان جنگ ایک ڈول ہوتی ہے۱۸؎ کبھی ہم پر وہ غالب ہوتے کبھی ان پر ہم غالب،بولا کیا بدعہدی کرتے ہیں میں نے کہا نہیں ۱۹؎ آج کل ہم ان سے صلح میں ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کریں گے۲۰؎ کہتے ہیں کہ الله کی قسم کہ اس بات کے سوا اور کوئی چیز شامل کرنے کا مجھے موقعہ نہیں ملا ۲۱؎ وہ بولا کیا ان سے پہلے کسی نے یہ بات کہی تھی۲۲؎ میں نے کہا نہیں۲۳؎ پھر بادشاہ نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں عالی نسب ہیں اسی طرح انبیاءکرام اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں بھیجے جاتے ہیں۲۴؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر انکے باپ دادوں میں بادشاہ ہوا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو اپنے باپ دادوں کے ملک کے طالب ہیں۲۵؎ اور میں نے تم سے ان کے متبعین کے متعلق پوچھا کہ معمولی لوگ ہیں یا بڑے لوگ تو تم نے کہا بلکہ کمزور لوگ ہیں یہ ہی کمزور نبیوں کی متبعین رہے ہیں ۲۶؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے اس دعویٰ سے پہلے تم انہیں جھوٹ کا الزام دیتے تھے تم نے کہا کہ نہیں میں نے پہچان لیا کہ یہ ناممکن ہےکہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولیں پھر الله پر جھوٹ باندھنے لگیں۲۷؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی اس دین میں داخل ہونے کے بعد اپنے دین اسلام سے ناراض ہوکر پھر بھی جاتا ہے تم نے کہا کہ نہیں ایمان کا ایسا ہی حال جب اس کی لذت و فرحت دلوں میں گھل مل جاتی ہے۲۸؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ مسلمان بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ایمان کا یہی حال ہے حتی کہ پورا ہوجاتا ہے ۲۹؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی ہے تو تم نے کہا کہ تم نے ان سے جنگ کی ہے تو جنگ تمہارے اور ان کے درمیان ایک ڈول ہوتی ہے کہ وہ تم سے اور تم ان سے لیتے ہو اسی طرح انبیاءکرام آزمائے جاتے ہیں انجام انہیں کے حق میں ہوتا ہے۳۰؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا عہدشکنی کرتے ہیں تم نے کہا کہ نہیں کرتے اسی طرح انبیاء عہد شکنی نہیں کرتے ۳۱؎ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں کہتا کہ ایسے صاحب ہیں جو اپنے سے پہلے کہی ہوئی بات کی پیروی کررہے ہیں ۳۲؎ پھر بولا وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں۳۳؎ ہم نے کہا کہ ہم کو نماز،زکوۃ،صلہ رحمی،پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں ۳۴؎ وہ بولا جو تم کہتے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ بھیجے نبی ہیں۳۵؎ میں تو جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میرا خیال یہ نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہیں ۳۶؎ اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو ان سے ملنا پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے قدم دھوتا۳۷؎ اور ان کا ملک میرے قدموں کے نیچے تک پہنچ جاوے گا۳۸؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا خط منگایا پھر اسے پڑھا۔(مسلم،بخاری) بقیہ پوری حدیث کتاب الی الکفار کے باب میں گزرگئی ۳۹؎
شرح
۱؎ ابوسفیان اپنے زمانہ کفر کا یہ واقعہ مسلمان ہونے کے بعد سنا رہے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے کفر کے زمانہ کی روایت معتبر ہے۔من فیہ فرماکر یہ بتایا کہ مجھ سے براہ راست ابو سفیان نے یہ کہا کوئی واسطہ درمیان میں نہیں ہے۔ایمان لائے،غزوہ حنین میں شریک ہوئے،حضور انور نے انہیں حنین کی غنیمت سے ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور چالیس اوقیے سونا،غزوہ طائف میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی غزوہ یرموک میں دوسری آنکھ بھی بے کار ہوگئی تھی، ۳۴ھ چونتیس میں وفات پائی،مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دفن ہوئے،حضرت عثمان غنی نے آپ کا جنازہ پڑھا،آپ سے حضرت عبدالله ابن عباس وغیرہم نے احادیث نقل کیں۔(اکمال) ۲؎ یعنی ۶ چھ ہجری میں میرے اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے درمیان حدیبیہ میں صلح ہوئی جس کی معیاد دس سال تھی اسی صلح کے بعد ہی سفر میں مکہ مظمہ سے باہر گیا۔خیال رہےکہ صلح حدیبیہ کی مدت تھی تو دس دس سال مگر کفار مکہ نے اس صلح کی ایک شرط توڑ دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے قتل میں مدد کردی اس لیے حضور انور نے ۸ھ میں مکہ معظمہ پر حملہ فرمایا اسے فتح کرلیا۔ ۳؎ حضور انور نے شاہان عرب و عجم کو تبلیغی فرمان نامے بھیجے جن میں ان سلاطین کو دعوت اسلام دی،اس سلسلہ میں شاہ روم ہرقل کو بھی دحیہ کلبی کے ہاں فرمان نامہ بھیجا یہاں اس واقعہ کا ذکر ہے۔ ۴؎ خیال رہے کہ بصرہ عراق کا ایک مشہور شہر ہے بغداد شریف کے قریب یہاں وہ مراد نہیں بلکہ بُصرہ ب کے پیش سے آخر میں ہ۔یہ دمشق کے پاس ایک بستی ہے شام کا ایک شہر ہے یہاں وہ بستی مراد ہے۔حضور انور نے دحیہ کلبی کو یہ ہی حکم دیا تھا کہ ہمارا فرمان نامہ عظیم بصرہ کو دو وہ ہرقل کو پہنچائے عظیم بصرہ ہرقل کا گویا وزیر خارجہ تھا،دوسرے ممالک کے بادشاہوں سے کلام وزیر خارجہ کے ذریعے سے ہی ہوتا ہے۔ ۵؎ ہرقل نے چاہا کہ فرمان عالی پڑھنے سے پہلے حضور انور کے حالات معلوم کرے پھر خط شریف کا مطالعہ کرے متکلم کے کلام کا حال معلوم ہوتا ہے۔ ۶؎ یہ تیس آدمی تھے جو بغرض تجارت مکہ معظمہ سے شام کے ملک میں گئے ہوئے تھے ان کے سردار ابوسفیان تھے،یہ سب ہرقل کے دربار میں بلائے گئے۔ ۷؎ ابوسفیان اور ان کی جماعت کو حضور انور کا پہلا فیض تو یہ ملا کہ ان کے صدقہ سے ان لوگوں کو شاہی دربار میں رسائی وہاں باریابی نصیب ہوئی۔ ۸؎ یعنی تم سب ہمارے پاس رہو مگر مجھ سے کلام وہ کرے جو حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم سے نسب و قرابت میں بہت قریب ہو۔یہ اس لیے کہا کہ قریبی رشتہ دار حالات سے زیادہ خبردار ہوتےہیں وہ حضور انور کے ہرطرح کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ۹؎ کیونکہ ابوسفیان قرشی ہیں،عبد مناف میں حضور انور سے مل جاتے ہیں،دوسرے لوگوں کو حضور انور سے یہ قرب میسر نہ تھا۔ ۱۰؎ یہ نشست اس ترتیب سے اس لیے رکھی کہ بادشاہ مجھ سے بہ آسانی بات کرسکے اور مجھے میرے ساتھی بات بتاسکیں اگر میں کچھ بھول جاؤں اور ٹوک سکیں اگر میں غلط گوئی کروں۔ ۱۱؎ یعنی تم لوگ اس گفتگو میں میری بھی مدد کرو اور ان ابوسفیان کی بھی،ان کی مدد تو اس طرح کہ ان کی سچی باتوں کی زبانی یا باشارہ سر تائید کرو اور جو وہ بھول جائیں انہیں بتادو،میری مدد اس طرح کہ اگر یہ کچھ جھوٹ بولیں تو انہیں نہ بولنے دو روک دو تاکہ مجھ کو ان کے متعلق صحیح حالات معلوم ہوجائیں۔ ۱۲؎ یعنی مجھے حضور انور سے اس زمانہ میں اتنی عداوت تھی کہ اگر میرے ساتھی میرے پاس نہ ہوتے اور مجھے اپنی بدنامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو حضور انور کے متعلق بہت جھوٹی باتیں کہہ دیتا تاکہ اس کے دل میں حضور سے نفرت پیدا ہو۔معلوم ہوا کہ جھوٹ اور بدنامی کو کفار بھی برا سمجھتے تھے افسوس ان لوگوں پر جو خدا تعالٰی کو جھوٹ سے متصف مانیں۔ ۱۳؎ حسب بمعنی نسب بھی آتا ہے اور باپ دادوں کے فضائل کے معنی میں بھی یہاں دونوں احتمال ہیں،بخاری شریف میں بجائے حسب کے نسب ہے ممکن ہے کہ اس نے دونوں لفظ بولے ہوں۔ابوسفیان نے اقرار کیا کہ وہ سرکار سارے عرب میں عالی نسب والا حسب ہیں کیونکہ وہ قرشی،ہاشمی،مطلبی ہیں اتنا اعلیٰ خاندان کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ ۱۴؎ یعنی وہ سرکار شاہی خاندان سے یا مساکین خاندان سے ذاتی شرافت کے بعد بیرونی شرافت کا سوال کیا جواب دیا کہ ان کے خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا مساکین کا خاندان ہے یہ شرافت عارضی کا ذکر ہوا۔ ۱۵؎ اس جواب سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضور انور کی زبان پاک پر ساری عمر شریف میں ایک بار بھی جھوٹ نہ آیا اگر ایک بار بھی جھوٹ بولا ہوتا تو آج ابوسفیان بڑھا چڑھا کر اسے بیان کرتے کیونکہ وہ اس وقت حضور انور کے سخت تر دشمن تھے،یہ ہے دشمنوں کا اقرار و اعتراف الفضل ما شہدت بہ اعداء۔ ۱۶؎ یعنی عام طور پر مساکین و فقراء ہی ان پر ایمان لائے ہیں امیر اور سردار بہت کم ایمان لائے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ کوئی سردار اور امیر ان پر ایمان نہیں لایا کیونکہ حضرت عمر،ابوبکر صدیق،حمزہ،جعفر جو قریش کے بڑے سردار تھے اور حضرت عثمان جو سردار بھی تھے اور بڑے مالدار بھی اس وقت ایمان لاچکے تھے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ ۱۷؎ یعنی اب تک کوئی مسلمان اسلام میں خرابی دیکھ کر اسلام سے نہیں پھرا،قبیلہ عرینہ والے لوگ تو اپنی خیانت اور ڈکیتی کی عادت کی بنا پر مرتد ہوئے تھے نہ کہ اسلام میں خرابی دیکھ کر۔غرضکہ مسلمان گھٹتے نہیں ان میں سے کوئی اسلام سے نکلتا نہیں ہاں بڑھ رہے ہیں کہ لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔ ۱۸؎ یہاں ڈول سے مراد پرانے زمانہ کا وہ ڈول ہے جس سے اس زمانہ میں کھیت سیراب کیے جاتے تھے کہ ایک رسے کے کناروں پر دو ڈول باندھ کر گول چکر پر رسا چڑھا کر ایک ڈول کو اوپر اور دوسرے کو نیچے کیا جاتا ہے،پھر ایک ڈول داہنے دوسرا بائیں طرف ڈالا جاتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ کبھی وہ ہم پر غالب آتے ہیں جیسے غزوہ بدر میں اور کبھی ہم ان پر غالب آجاتے ہیں جیسے غزوہ احد میں۔شعر فیوما علینا ویوما لنا ویوما نسر ویوما نساء رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتِلْکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ"۔ ۱۹؎ یعنی انہوں نے آج تک کبھی اپنا وعدہ خلاف نہیں کیا حتی کہ مکہ والوں نے حضور کو صادق الوعد اور امین کے خطاب دیئے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ جھوٹ عام ہے اور وعدہ خلافی خاص اس لیے اس نے جھوٹ کے متعلق پوچھنے کے بعد وعدہ خلافی کے متعلق پوچھا۔ ۲۰؎ یعنی آج کل حدیبیہ کے مقام پر ہم میں جنگ بندی وغیرہ پر معاملہ ہوچکا اب خبر نہیں کہ وہ اس وعدے کو پورا کریں گے یا نہیں اب تک تو کبھی وعدہ خلافی انہوں نے کی تو نہیں۔ ۲۱؎ یعنی مجھے یقین تھا کہ حضور انور اس دفعہ بھی وعدہ خلافی نہیں کریں گے مگر میں نے اپنی ذاتی دشمنی کی بناء پر اتنی بات ہرقل سے کہہ ضرور دی کہ نہ معلوم وہ یہ وعدہ پورا کریں یا نہ کریں،یہ تھا انتہائی دشمنی کا اثر۔ ۲۲؎ یعنی کیا تمہارے خاندان یا تمہارے ملک میں حضور صلی الله علیہ و سلم سے پہلے کسی نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ ۲۳؎ خیال رہے کہ ملک عرب میں حضرت اسمعیل علیہ السلام سے لے کر حضور انور صلی الله علیہ و سلم تک قریبًا چار ہزار سال کا فاصلہ ہے اس زمانہ میں ملک عرب میں نہ تو کوئی نبی آیا نہ کسی نے دعویٰ نبوت کیا۔لوگ نبوت کو بھول چکے تھے اور نبی کے فیض سے یک سر محروم ہوچکے تھے،رب فرماتاہے:" لِتُنۡذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمْ"اور فرماتا ہے:"وَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡہِمْ قَبْلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ"یہ لوگ اس زمانہ میں نبوت سے محروم رہنے کی وجہ سے انسانیت تک کھو چکے تھے حضور انور نے ایسوں کو سنبھالا ہے۔ ۲۴؎ ہرقل مذہبًا عیسائی تھا،بادشاہ بھی تھا اور اپنے دین کا بڑا عالم بھی،توریت و انجیل کا ماہر تھا،گزشتہ انبیاءکرام کے حالات طیبہ سے پورا خبردار بھی۔اس نے بتایا کہ ہمیشہ انبیاءکرام اپنی ہی قوم میں بڑے عالی نسب و عالی حسب میں آئے کیونکہ نیچی قوم والے کا اونچی قوم میں احترام نہیں ہوتا حتی کہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد سارے نبی ان کی اولاد ہی میں آئے کوئی غیر ابراہیمی شخص نبی نہ ہوا،رب فرماتاہے:"وَ جَعَلْنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ"۔مرزائے قادیان نرا جھوٹا تھا،اگر نبی ہوتا تو اولاد ابراہیم یعنی سید ہوتا۔سادات کرام کے ہوتے ہوئے مغل بچہ نبی کیسا۔جن لوگوں نے کہا کہ ہر قوم میں نبی ہوئے اس قوم سے بھنگیوں میں بھنگی،چماروں میں چمار انہوں نے غلط کہا آیت کریمہ"وَ اِنۡ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ"میں نذیر سے مراد نبی نہیں بلکہ ڈرانے والے مبلغین مراد ہیں۔ہمیشہ نبی اونچی قوم میں آئے نیچے قومیں ان کے تابع رہیں۔خیال رہے کہ اسلام میں کوئی قوم ذلیل نہیں،ہاں بعض قومیں بعض سے افضل ہیں جیسے حضرات سادات کرام دوسری قوموں سے افضل و اشرف ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب الکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسول میں ملاحظہ کرو۔ ۲۵؎ یعنی اگر وہ شاہی خاندان سے ہوتے پھر دعویٰ نبوت کرتے تو کہا جاسکتا تھا کہ یہ دین کے بہانہ سے اپنے لیے رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں کہ اس ذریعہ سے لوگ میرے ہمنوا بن جاویں اور مجھے اپنا بادشاہ بنالیں میرے باپ دادوں کی طرح یہاں یہ بھی نہیں۔خیال رہے کہ حضور نے دین پھیلانے کے لیے ممالک فتح فرمائے وہ بھی بعد ہجرت۔ملک فتح کے لیے دین کو بہانہ نہیں بنایا لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور آخر کار بادشاہ تو ہوئے،نیز حضور انور نے بادشاہ بننے کے بعد بھی اپنا گزارہ نہایت معمولی سادہ رکھا،زندگی شریف میں کوئی فرق نہیں آیا،ٹوٹا چھوٹا سا گھر بوریا بستر۔فقر و فاقہ،قناعت رضا اسی طرح رہی،مرزا غلام احمد پندرہ روپیہ ماہوار پر چونگی کا محرر تھا،نبوت کا ڈھونگ رچا کر نواب بن گیا،یہ فرق ہے سچے اور جھوٹے میں۔ ۲۶؎ یعنی میں نے گزشتہ نبیوں کی تاریخ پڑھی ہے تمام نبیوں کی اتباع پہلے غریبوں نے کی ہے امیر لوگ بعد میں ساتھ لگ گئے اس قاعدے سے بھی وہ سچے نبی معلوم ہوتے ہیں۔دیکھ لو آج بھی اسلام غریبوں سے ہی آباد ہے علماء،حافظ، مجاہد،غازی،اولیاءالله عمومًا غریبوں میں ہی ہیں۔مسجدیں آباد ہیں تو غریبوں سے،خانقاہوں میں رونق ہے تو غریبوں سے، دین سے الفت ہے تو عمومًا غریبوں کو۔ ۲۷؎ سبحان الله! کیسی نفیس دلیل دی یعنی جو ذات کریم تم میں چالیس سال گزارے اور اس دوران میں اس کے منہ سے مخلوق کے متعلق ایک جھوٹ نہ نکلے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ چالیس سال کے بعد یکدم الله تعالٰی پر جھوٹ باندھنا شروع کردے کہ کہے مجھے الله نے نبی بنایا حالانکہ یہ بات غلط ہو،الله پر جھوٹ باندھنا بدترین جرم ہے۔ہرقل نے متکلم کے صدق سے کلام کا صدق پہچانا یعنی کلام سے متکلم کو نہیں بلکہ متکلم سے کلام کو جانا پہچانا۔ ۲۸؎ یعنی ایمان و عرفان ایسی مزیدار چیزیں ہیں کہ جس دل میں یہ پہنچ جاویں وہاں سے پھر نہیں نکلتیں،کوئی لالچ تکلیف دل سے ایمان نہیں نکال سکتی۔اس کی تفسیر و شرح حضرت بلال،صہیب،عمار ابن یاسر وغیرہم فقراء صحابہ کی زندگیاں ہیں کہ انہوں نے اسلام کی خاطر ہر طرح کی مصیبتیں جھلیں،دین سے نہ پھرے،جو ایک دو آدمی مرتد ہوئے ان کے دل میں ایما ن جاگزیں نہیں ہوا تھا۔ ۲۹؎ یعنی قانون قدرت اور دستور ربانی یہ ہی ہے کہ ایمان کا معاملہ بہت معمولی طور سے شروع ہوتا ہے پھر پھیلتا اور پھلتا پھولتا ہے،رب تعالٰی نے اس کی مثال کھیت سے دی ہے جو کمزور نمودار ہوتا ہے پھر زور پکڑتا ہے،ہرقل کی یہ تمام باتیں بالکل درست تھیں۔ ۳۰؎ یعنی تمہاری یہ فتوحات ظاہری اور محض عارضی ہیں،آخر کار چاند انہیں کا چمکے گا سورج انہیں کا چڑھے گا،ہرقل کا یہ خیال بالکل صحیح ثابت ہوا۔ ۳۱؎ یعنی حضرات انبیاءکرام وعدہ خلافی عہد شکنی سے معصوم ہوتے ہیں کہ یہ عیوب تو انسانیت کے خلاف ہیں چہ جائیکہ شان نبوت۔اس سے معلوم ہوا کہ علم تاریخ بہترین فن ہے کبھی اس سے ایمان مل جاتا ہے،دیکھو ہرقل تاریخ کا بڑا ماہر تھا تو کس طرح حضور انور کی شان پہچان رہا ہے،یہ دل میں ایمان لاچکا تھا مگر زبان سے اقرار نہ کرسکا اپنی سلطنت کے خوف سے۔ ۳۲؎ حضور انور سے پہلے ملک عرب تو کیا غالبًا ساری دنیا میں کسی نے دعویٰ نبوت جھوٹا نہیں کیا۔عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضور انور تک پونے چھ سو برس کے عرصہ میں کوئی نبی تشریف نہیں لائے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی فلسطین میں رہے عرب تشریف نہیں لائے،ان حالات کے ماتحت یہ احتمال بھی نہیں ہوسکتا کہ حضور انور نے کسی کی نقل کرتے ہوئے دعویٰ نبوت فرمایا، ہاں حضور کے زمانہ پاک میں آپ کو دیکھ کر مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا جو عہد صدیقی میں قتل کیا گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو بہت لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے آخر میں پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے،رب تعالٰی نے ان سب کو ذلت کی موت ہلاک کیا۔ ۳۳؎ حضور انور کے حالات معلوم کرنے کے بعد اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ابو سفیان سے پوچھیں،اسلام کی اصل بھی یہ ہی ہے کہ پہلے حضور انور کو پہچانو پھر قرآن مجید وغیرہ کی تعلیمات کو،پہلے کلمہ پڑھ کر مسلمان بنو پھر اور کچھ کرو۔اصل ایمان حضور کی پہچان ہے حتی کہ رب تعالٰی کو بھی حضور ہی کی معرفت جانو پہچانو،یعقوب علیہ السلام کی اولاد نے کہا تھا"نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ"۔ ۳۴؎ چونکہ اس وقت زکوۃ کے احکام آچکے تھے بلکہ جہاد وغیرہ کے بھی اس لیے زکوۃ کا ذکر بھی کیا۔مطلب یہ ہے کہ حضور انور سارے انسانوں کو حکم دیتے ہیں کہ ایمان لاکر بدنی مالی عبادات کرو اپنے اخلاق درست کرو لہذا اس پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ ہجرت سے پہلے حضور انور نے زکوۃ کا حکم نہیں دیا تھا ابوسفیان سے ملاقات حضور انور کی اس زمانہ میں تھی نہ یہ کہ کفار پر نمازو زکوۃ فرض نہیں۔ ۳۵؎ اس نے توریت و انجیل میں حضور انور کی یہ علامات اور تعلیمات پڑھیں تھیں اس لیے اس نے یہ کہا کوئی معجزہ دریافت کیا۔ ۳۶؎ یعنی مجھے نبی آخر الزمان کے ظہور کا یقین تھا مگرمیرا خیال یہ تھا کہ وہ دوسرے نبیوں کی طرح بنی اسرائیل میں سے ہوں گے شام یا فلسطین میں،یہ خیال نہ تھا کہ عرب میں بنی اسماعیل میں پیدا ہوں گے اس کا یہ خیال غلط تھا اور کتابوں میں حضور کی ولادت گاہ اور ہجرت گاہ دونوں کا صاف ذکر تھا جیساکہ گزشتہ بابوں میں گزر چکا حتی کہ یہ بھی تھا و ملکہ بالشام ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔ ۳۷؎ یعنی میں سلطنت کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ سکتا اور اگر پہنچ جاتا تو ان کے قدم شریف دھوتا اور قدموں کا دھوون پیتا۔افسوس! کہ اس قدر جاننے کے باوجود ایمان نہ لایا بلکہ ہمیشہ صحابہ کرام سے لڑ بھڑ کر شکستیں کھاکر مرا،اس کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوا،اس کی ہلاکت پر اس کی سلطنت کا چراغ بجھ گیا وہ ممالک اسلامی سلطنت میں داخل ہوگئے، حضرت عمر فاروق کی تاریخ پڑھو۔ ۳۸؎ یعنی ان کا یہاں بھی راج ہوگا اس نے یہ بات گزشتہ کتابوں میں دیکھ کر اور کہانت کے ذریعے معلوم کی تھی وہ کاہن بھی تھا جیساکہ بخاری شریف میں ہے۔ ۳۹؎ بخاری شریف میں ہے کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو نبی پر ایمان لے آؤ وہ سب بھڑک گئے تو وہ بولا کہ میں تو تمہاری دین کی پختگی آزماتا تھا۔مسند امام احمد میں ہے کہ اس نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر ایک خط حضور انور کی خدمت میں بھیجا کہ میں مسلمان ہوں حضور نے فرمایا کہ وہ جھوٹا ہے وہ نرا عیسائی ہے۔ (اشعہ)معلوم ہوا کہ ہدایت بغیر رب کی مہربانی کے میسر نہیں ہوتی کبھی سلطنت اور امیری ایمان سے روک دیتی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور کو جان پہچان لینا ایمان نہیں بلکہ انہیں ماننا ایمان ہے۔