Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
120 - 952
باب فی المعراج

معراج کا بیان   ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  معراج عروج کا اسم آلہ ہے،عروج کے معنی ہیں چڑھنا،معراج بمعنی چڑھنے کا آلہ یعنی سیڑھی مگر اصطلاح میں بمعنی مصدر آتا جیسے میلاد بمعنی ولادت یا معیاد بمعنی وعدہ"اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ"ایسے ہی معراج بمعنی عروج۔معراج کے متعلق لوگوں کے بہت سے قول ہیں: جسمانی تھی یا خواب میں،بارہویں ربیع الاول میں ہوئی یا ستائیسویں رمضان کو،نبوت سے پہلے ہوئی یا بعد میں،نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئی یا کم و بیش۔مگر قوی اور صحیح یہ ہے کہ حضور انور کو بہت بار معراج ہوئی: ایک بار جسمانی باقی خواب میں۔جسمانی معراج نبوت کے گیارہویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے ہوئی اور اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے گھر سے ہوئی ستائیسویں رجب شب دوشنبہ کو ہوئی،رب فرماتاہے:"اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ"اگر صرف خواب میں معراج ہوتی تو بعبدہٖ نہ فرمایا جاتا۔عبد کہتے ہیں جسم مع روح کو، نیز پھر لوگوں میں اتنا شور نہ مچتا خواب پر کون اعتراض کرتا ہے۔

مسئلہ:  بیت الله شریف سے بیت المقدس تک کی جسمانی معراج قطعی یقینی ہے،اس کا انکار کفر ہے۔بیت المقدس سے آسمان بلکہ لامکان تک کی معراج کا اگر اس لیے انکار کرتا ہے کہ آسمان کے پھٹنے کو ناممکن مانتا ہے تو بھی کافر ہے کہ اس میں آیات قرآنیہ کا انکار ہے ورنہ گمراہ ہے۔اس کی پوری بحث یہاں مرقات اور اشعۃ اللمعات اور ہماری کتاب شانِ حبیب الرحمن میں ملاحظہ کرو۔ ہم نے کہا ہے کہ آیۃ کریمہ"سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ سے بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ" تک بیت المقدس تک کی معراج کا ذکر ہے اور"لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا" میں آسمانی معراج کا ذکر ہے اور"اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ البَصِیۡرُ"میں لامکانی معراج کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر120
روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ حضرت انس ابن مالک سے وہ مالک ابن صعصعہ سے راوی ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے انہیں اس رات کے متعلق خبر دی جس میں حضور کو معراج کرائی گئی۲؎  جب کہ میں حطیم بسا اوقات فرمایا کہ حجر میں تھا۳؎ کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اس نے یہاں سے یہاں تک چیرا یعنی آپ کے گلے کی گھنڈی سے آپ کے بالوں تک۴؎  پھر میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا تھا پھر میرا دل دھویا گیا ۵؎ پھر اسے بھردیا گیا پھر لوٹا دیا گیا اور ایک روایت میں ہے پھر پیٹ دھویا گیا زمزم کے پانی سے پھر ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۶؎ پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا سفید رنگ تھا جسے براق کہا جاتا ہے۷؎  وہ اپنی انتہائی نظر پر اپنا ایک قدم رکھتا ہے تو میں اس پر سوار کیا گیا ۸؎ پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام لے چلے حتی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے ۹؎  دروازہ کھلوایا کہا گیا کون۱۰؎  فرمایا جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے، فرمایا حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہےکہا ہاں ۱۱؎ ان کی خوش آمدید ہو وہ خوب آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں جناب آدم علیہ السلام تھے۱۲؎ کہا یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو۱۳؎  میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا صالح فرزند صالح نبی تم خوب تشریف لائے۱۴؎  پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام اوپر لے گئے حتی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون بولے میں ہوں جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں،کہا خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے،پھر دروازہ کھول دیا گیا تو جب میں اندر پہنچا تو ناگہاں وہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے وہ دونوں خالہ زاد ہیں۱۵؎ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحیی علیہ السلام ہیں یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے سلام کیا ۱۶؎  ان دونوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے،پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون وہ بولے جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ  علیہ وسلم ہیں،کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں خوش آمدید تم خوب ہی آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے ۱۷؎  جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے ۱۸؎ پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا گیا، کہا گیا کون ہیں فرمایا میں جبریل ہوں،کہا گیا تمھارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم،کہا گیا کیا انہیں بولایا گیا ہے  کہا ہاں  کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا  آپ آئےدروازہ کھو لا گیا جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۱۹؎  جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں آپ انہیں اسلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی۲۰؎ پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں بلایا گیا ہے،کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا جب میں اندر گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے ۲۱؎ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی۲۲؎ پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چھٹے آسمان  پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہامیں جبریل علیہ السلام ہوں،کہاگیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہاگیا کیا انہیں بلایاگیا ہے کہا ہاں،کہاگیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں جب اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے۲۳؎ جبریل  علیہ السلام نے کہا   یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا  پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی  صالح نبی جب وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے۲۴؎ ان سے کہا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے فرمایا اس لیے کہ ایک فرزند ۲۵؎ میرے بعد نبی بنائے گئے ان کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی ۲۶؎ پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے،پھر جب میں وہاں داخل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں تھے ۲۷؎ جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کریں ۲۸؎  میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی ۲۹؎ پھر میں سدرۃ المنتہیٰ تک اٹھایا گیا۳۰؎  تو اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے ۳۱؎ اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح،جبریل علیہ السلام نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے وہاں چار نہریں تھیں: دو نہریں تو خفیہ تھیں اور دو نہریں ظاہر۳۲؎ میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے عرض کیا کہ خفیہ نہریں تو جنت کی دو نہریں ہیں۳۳؎ لیکن ظاہری نہریں وہ نیل اور فرات ہیں۳۴؎ پھر میرے سامنے بیت المعمور لایا گیا۳۵؎ پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا ۳۶؎  میں نے دودھ قبول کیا تو جبریل علیہ السلام نے کہا یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے ۳۷؎ پھر مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر میں واپس ہوا تو موسیٰ علیہ السلام پر گزرا ۳۸؎  انہوں نے کہا آپ کو کیا حکم دیا گیا میں نے کہا ہر دن پچاس نمازوں کا،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی۳۹؎  الله کی قسم میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی اور بنی اسرائیل کو تو خوب آزمایا۴۰؎  لہذا آپ اپنے رب کی طرف لوٹیے اور اس سے اپنی امت کے لیے آسانی مانگیے۴۱؎  چنانچہ میں واپس ہوا تو اس نے مجھ سے دس نمازیں کم کردیں پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں پھر رب کی طرف لوٹا اس نے مجھ سے دس معاف فرمادیں میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا  اس نے مجھے سے دس اور معاف فرمادی  میں پھر جناب موسیٰ  کی طر ف لوٹا انہوں نے  پھر وہی کہا  میں پھر لوٹا رب نے مجھ سے دس اور معاف کردیں۴۲؎ پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا تو مجھے ہر دن پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ۴۳؎  میں پھر جناب موسیٰ کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے میں نے کہا ہر دن پانچ نمازیں،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پانچ نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی۴۴؎  میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کرلی ہے اور بنی اسرائیل کو تو میں نے اچھی طرح آزمالیا ہے آپ پھر اپنے رب کی طرف لوٹیے آپ اس سے اپنی امت کے لیے کمی کا سوال کریں ۴۵؎ حضور نے کہا کہ میں نے اپنے رب سے اتنے سوال کرلیے کہ اب شرم کرتا ہوں لیکن میں راضی ہوں تسلیم کرتا ہوں ۴۶؎  فرمایا کہ پھر میں جب آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے اپنا فریضہ جاری کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی۴۷؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  قتادہ تابعی ہیں اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی مشہور صحابی ہیں اور مالک ابن صعصعہ بھی صحابی ہیں۔

۲؎  اسریٰ بنا ہے اسراء سے بمعنی رات میں سیر کرنا۔سارے معجزات لوگوں کو دکھائے مگر معراج لوگوں سے چھپائی گئی بعد میں سنائی گئی کیونکہ معراج میں رب سے وصال تھا،اس میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت بھی ظاہر تھی اور حضور کا لباس بھی نورانی تھا،کسی آنکھ میں طاقت نہ تھی کہ حضور کو دیکھتی،گھر کا لباس اور ہوتا ہے دفتر کا لباس دوسرا،دنیا حضور کا دفتر ہے یہاں لباس بشریت میں آئے وہ جہاں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے وہاں کا لباس نور ہے۔

۳؎  حجر اور حطیم ایک ہی چیز ہے یعنی کعبہ معظمہ کا پرنالہ گرنے کی جگہ اس کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں۔اگر یہ جسمانی معراج کا ذکر ہے تو حضور اول شب میں حطیم میں تھے اور آخر شب میں ام ہانی کے گھر میں،یا یوں کہو کہ حضور انورکو ام ہانی کےمکان سے یہاں حطیم میں لائے اور یہاں لاکر لٹایا۔یہاں سینہ پاک چاک کیا یہاں کوثر اور زمزم سے غسل دیا،یہاں حلہ بہشتی پہناکر حضور کو دولہا بنایا،یہاں سے برات کے جلوس میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر فرشتے چلے تو اس حدیث میں اس جگہ سے معراج کا ذکر ہے۔فرشتہ یعنی جبریل امین کا ام ہانی کے گھر آنا اور قسم کا ہے یہاں حطیم میں آنا دوسری نوعیت کا ہے۔

۴؎  بالوں سے مراد زیر ناف کے بال ہیں یعنی سارا پیٹ چاک کیا۔

۵؎  بچپن شریف میں دل نکالا گیا تھا اس سے ایک چیز نکال دینے کے لیے،آج دل نکالا گیا ہے اس میں علم و عرفان بھر دینے کے لیے۔ وہاں تخلیہ یعنی صفائی تھی آج تحلیہ یعنی دل کی آراستگی ہے،بغیر تکلیف دل دھونا اور حضور انور کا زندہ رہنا یہ بھی معجزہ ہے۔

۶؎  حضور کے قلب شریف میں ایمان و حکمت پہلے ہی سے موجود تھا یہ بھی زیادتی فرمانے کے لیے ہوا سینۂ پاک پہلے ہی نورانی تھا اب نور علی نور ہوگیا۔سوناجنتی تھا،پانی زمزم،جنتی سونے کی لگن میں حرم کا پانی شریف سبحان الله سونے پر سہاگہ ہے۔

۷؎  براق بنا ہے برق سے بمعنی بجلی یا چمک دار سفیدی،چونکہ اس کی رفتار بجلی کی طرح تیز ہے اور وہ چمک دار سفید رنگ ہے اس لیے براق کہتے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس پر گذشتہ انبیاءکرام بھی سواری کرتے رہے تھے،بعض نے فرمایا کہ ہر نبی کا براق علیحدہ ہے یہ براق خاص حضور صلی الله علیہ و سلم کے لیے تھا اور ہے۔(مرقات)اس پر حضور معراج میں بھی سوار ہوئے اور قیامت میں بھی سوار ہوں گے۔یہ جنت میں چرتا رہا ہے،وہاں یہ جانور کسی عمل کی جزا کے لیے نہیں پہنچا تاکہ یہ کہا جائے کہ جنت تو صرف انسانوں کی جگہ ہے وہاں جانور کیسے پہنچا بلکہ حوروغلمان جنتی چڑیوں کی طرح یہ بھی خدمت کے لیے ہے۔ خیال رہے کہ ہر نبی کا جنت میں ایک حوض ہوگا مگر حضور کے حوض کا نام کوثر ہے جو سب سے اعلٰی ہے،یوں ہی ہر نبی کا جنت میں ایک براق ہوگا سواری کے لیے مگر حضور کا براق سب سے اعلٰی ہوگا وہ یہ ہی براق ہے۔(اشعہ)

۸؎  یعنی میں خود سوار نہ ہوا بلکہ سوار کیا گیا،جبریل امین نے حضور کو سوار کیا رکاب جناب جبریل نے تھامی اور لگام میکائیل نے پکڑی اس شان سے دولہا کی سواری چلی۔(اشعہ)خیال رہے کہ  حضور انور کا براق پر سوار ہونا اظہار شان کے لیے تھا جیسے دولہا گھوڑے پر ہوتے ہیں براتی پیدل اور گھوڑا خراماں خراماں چلتا ہے براق کی یہ رفتار بھی خراماں تھی ورنہ اس دن خود حضور کی اپنی رفتار براق سے زیادہ تیز ہوتی،دیکھو حضرات انبیاءکرام نے بیت المقدس میں حضور کے پیچھے نماز پڑھی اور حضور کو وداع کیا مگر آسمانوں پر حضور سے پہلے پہنچ گئے اور حضور کا استقبال کیاجیساکہ آگے آرہا ہے کیونکہ آج ان حضرات کی کارکردگی کا دن تھا،حضور کے دولہا بننے کا دن تھا یہ ہے نبی کی رفتار۔

۹؎ حدیث میں اجمال ہے یہاں بیت المقدس کی نماز و خطبہ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا گیا دوسری احادیث میں کیا گیا ہے۔اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضور انور آسمان پر براق کے ہی ذریعہ پہنچے۔بعض نے کہا کہ وہاں بادبان کے ذریعہ پہنچے،بعض نے کہا کہ وہاں حضرت جبریل اپنے بازؤوں پر لے گئے براق صرف بیت المقدس تک تھا مگر قوی پہلا قول ہے۔(اشعہ ومرقات)خیال رہے کہ اسی معراج کے تین حصہ ہیں: فرش سے فرش تک یعنی بیت الحرام سے بیت المقدس تک،دوسرا فرش سے عرش تک،تیسرا حصہ عرش سے لامکاں تک۔ بیت المقدس    تک  اس لیے پہنچایا گیا  تاکہ اہل مکہ کو  بیت المقدس کے حالات بتا کر  دوسری دو معراجوں کا ثبوت دیا جاوے کیونکہ وہ لوگ بیت المقدس جاتے آتے رہتے تھے اور تاکہ بیت المقدس کی عظمت کو چار چاند لگ جاویں،نیز آسمانوں کے دروازے بیت المقدس کے مقابل ہیں یہاں سے سیدھے ان دروازوں پر پہنچا جاوے۔(مرقات)

۱۰؎  اگرچہ فرشتوں میں حضور کی آمد کا پہلے سے ہی اعلان ہوچکا تھا اور آسمانوں کو ہر طرح سجایا آراستہ کیا جاچکا تھا،تشریف آوری کی دھوم مچ چکی تھی مگر دربار الٰہی کا ادب یہ ہے کہ وہاں اجازت لے کر حاضری دی جاوے حضور الله کے محبوب بھی ہیں اور عبد بھی معراج میں دونوں شانوں کا اظہار ہے۔خیال رہے کہ اس رات کو کروڑوں فرشتے تو حضور انور کو لینے مکہ معظمہ آئے تھے اور بہت سے فرشتے استقبال کے لیے اپنی ڈیوٹیوں پر تھے اور آج جبریل امین اس دروازے سے حضور کو لے گئے تھے جو آج تک کسی کے لیے نہیں کھولا گیا تھا وہ صرف حضور انور کے لیے ہی تھا۔آسمان کے کروڑوں دروازے ہیں ہرشخص کی روزی اترنے کا دروازہ،اعمال چڑھنے کا دروازہ،فرشتوں کے چڑھنے کے دروازے ہیں یہ باب الصعود یا باب العروج تھا،مصعد ملائکہ دروازہ کا ذکر اس جگہ مرقات میں بھی ہے۔

۱۱؎  دربان فرشتے کے یہ تین سوال اسی لیے ہیں کہ جبریل یہ دروازہ تمہارے لیے تو ہے نہیں تمہارا دروازہ اور ہے آج تم ادھر کیوں داخل ہونا چاہتے ہو،انہوں نے فرمایا کہ آج میں ان کے ساتھ ہوں جن کی خاطر یہ دروازہ بنایا اور بند رکھا گیا ہے آج اس دروازہ کے کھلنے کا دن ہے،اس رات نہ معلوم کتنے دروازے کھلے ہوں گے۔ارسل الیہ کا مطلب وہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ کیا آج وہ بلائے گئے ہیں،یہ سوال اس اعلان کے خلاف نہیں جو پہلے سے حضور کی معراج کا ہوچکا تھا۔یہ ضابطہ کی کارروائی ہے۔یہاں مرقات میں فرمایا کہ خود رب تعالٰی حضور انور کے ساتھ تھا اور خود ہی حضور کا استقبال فرمارہا تھا۔

۱۲؎  آدم علیہ السلام نے ابھی بیت المقدس میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور حضور کو ودا ع فرمایا خود پیچھے روانہ ہوئے مگر استقبال کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یہاں پہنچ گئے۔یہ ہے نبی کی رفتار حضور کے براق کی یہ رفتار خراماں تھی،ان حضرات کی کارگزاری کا دن تھا اس لیے وہ کبھی اپنی قبر میں ہیں،کبھی بیت المقدس میں،کبھی آسمان کے دروازے میں جیساکہ برات کے منتظمین کا حال ہوتا ہے۔

۱۳؎  چونکہ حضور وہاں سے گزرے ہیں اور آدم علیہ السلام وہاں ہی ہیں اور رہیں گے آنے والا ٹھہرے ہوئے کو سلام کرتا ہے اس لیے آپ سلام کریں ورنہ حضور سارے نبیوں سے افضل ہیں۔

۱۴؎  صالح یا تو صلاحیت سے ہے بمعنی معراج حق سے ملاقات اس کے دیدار کی صلاحیت رکھنے والے یا اصلاح سے ہے بمعنی نیک، خوش خصال،یا صالح وہ ہے جو خالق و مخلوق دونوں کے حق ادا کرے اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی"وَّ اَلْحِقْنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ"صالح وہ ہے جس میں ساری خوبیاں جمع ہیں۔(مرقات)

۱۵؎  یہ دونوں پیغمبر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی جگہ ملے،یحیی علیہ السلام کی خالہ یعنی مریم کی بہن حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی تھیں،اس رشتہ سے حضرت زکریا نے جناب مریم کی پرورش کا حق ثابت کیا تھا۔(اشعہ)اس کے معنی اور بھی کیے گئے ہیں کہ مریم کی خالہ حضرت زکریا کی زوجہ تھیں تو معنی یہ ہیں کہ یہ دونوں خالہ بھانجی کے بیٹے ہیں کہ مریم بھانجی ہیں اور ایشا یعنی والدہ یحیی علیہ السلام خالہ ابنا خالہ کہنا تغلیبًا ہے جیسے چاند سورج کو قمرین کہہ دیتے ہیں۔

۱۶؎  خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھالیے گئے باقی انبیاءکرام دوسروں کی طرح مرتے نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں یعنی دار فنا سے دار بقا کی طرف وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔(مرقات)

۱۷؎  خیال رہے کہ ان حضرات انبیاء کرام نے حضور انور کو اپنا بھائی فرمایا کیونکہ سارے نبی نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں جیساکہ حدیث میں ہے کہ انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں،عقائد سب کے ایک قواعد شرعیہ میں مختلف۔یہ بھی خیال رہے کہ ان حضرات کا مختلف آسمانوں پر حضور سے ملاقات کرنا استقبال کے لیے ہے ورنہ ان کے مقامات یہ نہیں ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام کا مقام چوتھا آسمان ہے مگر معراج میں انہوں نے حضور سے دوسرے آسمان پر ملاقات کی جیسے جب حاجی صاحبان حج سے آتے ہیں تو کوئی کراچی جاکر ان کا استقبال کرتا ہے کوئی لاہور جاکر اور کوئی گجرات کے اسٹیشن پر۔تفسیر روح البیان نے اس ترتیب مکان کی وجہ بہت شاندار بیان کی ہے دیکھو ہماری تفسیرنعیمی۔

۱۸؎  ان سب حضرات کا یہ فرمانا استقبالیہ کلمات کے طور پر تھا۔

۱۹؎  خیال رہے کہ ادریس علیہ السلام کا مقام جنت ہے،آپ نے دنیا میں عارضی موت اختیار کی پھر زندہ ہوئے اور جنت میں داخل ہوئے پھر وہاں سے نہ نکلے،رب نے فرمایا اچھا انہیں یہاں ہی رہنے دو،رب فرماتاہے:"وَرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا"مگر آج حضور انور کے استقبال کے لیے چوتھے آسمان کے اس دروازہ پر آئے چوتھا آسمان گویا ان کا دفتر ہے جنت انکا گھر،کارگزاری دفتروں میں ہوا کرتی ہے نہ کہ گھر میں۔

۲۰؎  ادریس علیہ السلام حضور انور کے آباءواجداد میں سے ہیں کیونکہ آپ نوح علیہ السلام کے آباؤ اجداد میں سے ہیں مگر آپ کو بھائی کہا اس لیے کہ نبوت کے لحاظ سے سارے انبیاء آپس میں بھائی ہیں اس نبوت کے رشتہ سے حضور کو بھائی کہا جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں۔(مرقات،اشعہ)

۲۱؎ تفسیر روح البیان نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ حضرت انبیاء کرام کے یہ مقامات ان کے درجات اور علوم کے لحاظ سے تھے، جس نبی کا جتنا درجہ اعلٰی اتنا ہی مقام بلند،دیکھو حضرت ہارون علیہ السلام اور ان سے اوپر چھٹے آسمان پر حضور انور سے ملے جیساکہ آگے آرہا ہے۔ابراہیم علیہ السلام چونکہ انبیاء کرام کے والد ہیں اور بڑے درجہ والے اس لیے وہ سب سے اوپر ساتویں آسمان پر حضور انور سے ملے،یہ فرق مراتب بیت المقدس کی نماز میں بھی تھا اعلٰی درجہ والے نبی پہلی صف میں تھے۔والله اعلم!

۲۲؎  صالح کے نہایت لذیذ و نفیس معنی ابھی کچھ پہلے عرض کیے گئے کہ رب کے دیدار،اس سے بالمشافہ کلام فرمانے،اس سے اپنی بات منوانے،گنہگاروں کی شفاعت فرمانے کی صلاحیت رکھنے والے۔یہ صلاحیتیں سواء حضور انور کے اور کسی میں نہیں۔

۲۳؎ چونکہ موسیٰ علیہ السلام پہلے صاحبِ کتاب نبی ہیں آپ کی توریت پر ہزارہا نبیوں نے عمل کیا"یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ" آپ کلیم الله ہیں اس لیے آپ ان سب نبیوں سے اوپر یعنی چھٹے آسمان پر دکھائے گئے۔اکثر علماء فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جناب عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں،ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔

۲۴؎  بعض بیوقوفوں نے سمجھا کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ رونا حضور صلی الله علیہ و سلم پر حسد کی وجہ سے تھاکہ جو درجہ انہیں مل گیا وہ مجھے نہ ملا اور ان کی امت جس قدر اہل جنت ہوئے میری نہ ہوئی مگر یہ غلط محض ہے کیونکہ آخرت میں تو الله تعالٰی مؤمنوں کے سینوں سے بھی حسد دور کرے گا،فرماتاہے:"وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ"تو وہ حضرات انبیاءکرام جو دنیا میں حسد سے پاک تھے وہاں حسد کیسے کریں گے۔عام شارحین فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ رونا اپنی امت پر اظہار افسوس کے لیے ہے کہ ان بدنصیبوں نے ہمیشہ میری مخالفت کی اس لیے ان میں جنتی تھوڑے ہوئے اور ان محبوب کی امت ان کی اطاعت بہت کرے گی اس لیے وہ جنتی زیادہ ہوں گے مگر عشاق کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کایہ رونا خوشی کا تھاکہ آج ان کی طور والی تمنا پوری ہوگی کہ آج بار بار حضور صلی الله علیہ و سلم کو دیکھیں گے اور میں ان کی آنکھوں کو دیکھوں گا گویا رخسار مصطفی جمال الٰہی کا میرے لیے آئینہ بنیں گے۔اگلا مضمون رونے کی وجہ نہیں ہے بلکہ مستقل کلام ہے یہ توجیہ بڑی لذیذ ہے ان شاءالله اس کا ذکر بھی آگے آتا ہے۔

۲۵؎ عرب میں غلام بمعنی قوی اور طاقتور بھی آتا ہے اگرچہ وہ ادھیڑ یا بوڑھا ہے۔چنانچہ اہل عرب حضور انور کو شاب یعنی جوان کہتے تھے اور ان سے کم عمر حضرت ابوبکر صدیق کو شیخ کہتے تھے۔موسیٰ علیہ السلام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو غلام کہابمعنی نہایت قوت و طاقت والے رسول جنہوں نے تھوڑے عرصہ میں دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے بگڑی قوم کو بنانا بہت دشوار کام ہے۔

۲۶؎ اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض کیا گیا کہ یہ حسد یا غبط نہیں بلکہ اپنی امت اسرائیلیوں پر اظہار افسوس ہے کہ کاش میری امت بھی ان محبوب کی امت کی طرح تابع فرمان ہوتی،میری امت میں بھی ان کی امت کی طرح اولیاء علماء صالحین رہتے۔

۲۷؎  یعنی سب سے بلند مقام ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی،یہ ہی ترتیب اکثر روایات میں ہے۔بعض روایات میں اس کے خلاف بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو ساتوں آسمان میں دیکھا،ادریس علیہ السلام کو تیسرے آسمان میں، یوسف علیہ السلام کو دوسرے آسمان میں۔اگر وہ روایت درست ہے تو وہ واقعہ کسی اور معراج کا ہے،حضور انور کو معراجیں بہت ہوئی ہیں ایک جسمانی باقی منامی یعنی خواب میں۔

۲۸؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ معراج کی رات حضور صلی الله علیہ و سلم شوق دیدار الٰہی میں بحالت استغراق تھے اس لیے جبریل علیہ السلام ہر بار عرض کرتے تھے کہ یہ فلاں نبی ہیں اور یہ فلاں رسول آپ انہیں سلام کریں،آپ کی توجہ تام رب انام کی طرف تھی"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی"کا ظہور تھا۔(مرقات)ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم ان تمام انبیاء کرام کو جانتے پہچانتے تھے،کیسے نہ جانتے ابھی کچھ دیر پہلے تو بیت المقدس میں یہ سب حضرات حضور انور کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں،آپ سے ملاقات کرچکے ہیں،آپ کو وہاں سے وداع کرچکے ہیں پھر نہ پہچاننے کے کیا معنی بات وہ ہی ہے جو مرقات میں فرمائی۔

۲۹؎  یہاں مرقات نے باتیں بہت مفید بیان فرمائیں: ایک یہ کہ ان آسمانوں پر یہ انبیاء کرام اپنے جسم شریف سے ہی موجود تھے صرف روح نہ تھی۔دوسرے یہ کہ ہر آسمان پر بہت سے نبی استقبال کے لیے موجود تھے جن کی قیادت خاص خاص نبی کر رہے تھے۔پہلے آسمان کی قیادت آدم علیہ السلام کررہے تھے حتی کہ ساتویں آسمان والوں کی قیادت ابراہیم علیہ السلام کررہے تھے،یہاں قائدین انبیاء کا ذکر ہے۔تیسرے یہ کہ اس ترتیب مکانی میں رب تعالٰی کی بڑی حکمتیں تھیں،چونکہ آدم علیہ السلام اول بشر اول نبی ہیں لہذا وہ اول آسمان پر تشریف فرما ہوئے اولیت کے اظہار کے لیے،عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی الله علیہ و سلم سے قریب ترین ہیں کہ آپ میں اور ان کے درمیان میں کوئی اور نبی نہیں لہذا وہ وہاں سے قریب ترین جگہ یعنی دوسرے آسمان پر دکھائے گئے،چونکہ حضور کی امت شکل یوسفی میں جنت میں داخل ہوگی اس لیے آپ ان کے بعد دکھائے گئے اور چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نبیوں کے والد ہیں اس لیے آپ کو سب سے اونچے آسمان پر بلایا گیا۔

۳۰؎  یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر۔اسے منتہی چند وجہ سے کہتے ہیں: ایک یہ کہ فرشتوں کے علم کی انتہاء یہاں ہے اس سے اوپر کی خبر کسی فرشتے کو نہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انورکے سواء کوئی نبی یہاں سے آگے تشریف نہ لے گئے۔تیسرے یہ کہ سب سے بڑے فرشتے حضرت جبریل کی انتہا یہاں ہی ہے کہ وہ اس سے آگے نہیں بڑھتے۔چوتھے یہ کہ لوگوں کے اعمال یہاں تک ہی بذریعہ فرشتے کے پہنچتے ہیں پھر یہاں سے اوپر اٹھائے جاتے ہیں،یوں ہی احکام الٰہی اوپر سے یہاں تک آتے ہیں پھر فرشتے یہاں سے لیتے ہیں۔بہرحال یہ بیری چند وجہوں سے منتہیٰ یعنی ختم ہونے کی جگہ ہے،یہاں اضافت موصوف کی صفت کی طرف ہے۔(مرقات)

۳۱؎  ہجر یمن کا ایک شہر ہے جہاں کے مٹکے بہت بڑے ہوتے ہیں۔فرمایا اس بیری کے بیر مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح ہیں۔خیال رہے کہ تمام درختوں میں بیری افضل ہے اس کے بعد کھجور کا درخت۔

۳۲؎  یعنی اس بیری کے درخت کی جڑ سے چار نہریں نکل رہی ہیں: دو تو ظاہر بہتی ہیں اور دو زمین دوز جیسے مکہ معظمہ میں نہر زبیدہ۔

۳۳؎  یہ جنتی نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں یا کوثر اور نہر رحمت۔

۳۴؎  معلوم ہوا کہ نیل اور فرات بڑی اشرف و اعلٰی نہریں ہیں کہ ان کی اصل جنت سے ہے۔

۳۵؎  اس طرح کہ بیت المعمور تک پہنچایا گیا اور وہ میرے سامنے آیا جیسے لاہور جانے والا کہتا ہے کہ لاہور آگیا یعنی میں لاہور آگیا۔بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ ہے،کعبہ معظمہ کے مقابل ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے وہاں فرشتوں کو نماز پڑھائی جیسے بیت المقدس میں نبیوں کو پڑھائی تھی۔اعلٰی حضرت فرماتے ہیں۔شعر

یہ نور سدا سماں پہ بندھا یہ سدرہ اٹھا وہ عرش جھکا		صفوف سمانے سجدہ کیا ہوئی جو اذاں تمہارے لیے

۳۶؎  وہاں دین فطرت دودھ کی شکل میں دکھایا گیا،دودھ ہی دنیا میں انسان کی پہلی غذا ہے اس کا رنگ سفید ہے اور سفید رنگ تمام رنگوں کی اصل ہے۔فطرت کی اصل شریعت کی اتباع ہے انتہا وصول الی الله ہے۔آج بھی جو خواب میں دودھ پئے تو اس کی تعبیر فطرت علم دین اور اسلام پر استقامت ہوتی ہے(اشعہ،مرقات)اگرچہ شہد بھی اچھی چیز ہے مگر اس میں دودھ کی سی سفیدی صفائی غذائیت نہیں ہے،یہ شراب جنت تھی جو حرام نہیں۔

۳۷؎  نماز کی فرضیت لامکان میں پہنچ کر ایسے مقام پر ہوئی جہاں نہ مکان تھا نہ مقام،نہ یہاں تھا نہ وہاں۔یہ خاص تحفہ تھا جو امت محمدیہ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دیا گیا،حضور انور تو پہلے ہی سے نمازیں ادا کرتے تھے۔

۳۸؎  یعنی چھٹے آسمان پر۔معلوم ہوتا ہے کہ واپسی میں بھی حضور انور سے تمام نبیوں نے اسی ترتیب سے ملاقات کی جس ترتیب سے جاتے وقت ملاقات کی تھی،یہ ہی سواریوں کا حال تھا کہ براق رفرف وغیرہ جس ترتیب سے حضور کو لے گئے تھے اسی ترتیب سے واپس لائے۔

۳۹؎  یہ ہے موسیٰ علیہ السلام کا علم غیب کہ امت محمدیہ جو ان کے بہت بعد ہے اور تاقیامت رہے گی اس کی طبعی کیفیت سے خبردار ہیں۔واقعی اگر نمازیں پچاس رہتیں تو چوبیس گھنٹہ میں پچاس نمازیں سخت بھاری پڑتیں نمازوں کے بعد کوئی وقت ہی نہ بچتا جو دوسرا کام کیا جاتا،کھانا کمانا سونا وغیرہ سب بند ہوجاتے۔خیال رہے کہ طاقت سے زیادہ کی تکلیف دینا رب کا قانون نہیں"لَا یُکَلِّفُ اللهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا"۔یہاں تکلیف نہیں کیونکہ یہ حکم امت تک پہنچا ہی نہیں جب ان تک پہنچا تو آسان بن چکا تھا لہذا اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

۴۰؎  موسیٰ علیہ السلام کی امت پر دن رات میں صرف دو نمازیں فرض تھیں جنہیں وہ ادا نہ کرسکے اس لیے آپ یہ فرما رہے ہیں اگر موسیٰ علیہ السلام کی ہر بات مانی جاتی تو غالبًا ہفتہ میں ایک نماز رہتی۔

۴۱؎  خیال رہے کہ الله تعالٰی ارحم الراحمین ہے حضور صلی الله علیہ و سلم رؤف ر حیم ہیں مگر امت محمدیہ پر رحم آیا جلال والے نبی موسیٰ علیہ السلام کو،آخر یہ کیوں؟ اس کی چند وجہیں ہیں: ایک یہ کہ رب چاہتا تھا کہ دکھادیا جاوے کہ الله کے مقبول بندے بعد وفات لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات سے تین ہزار سال بعد مسلمانوں کی مدد یہ کی کہ پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں۔دوسرے یہ کہ بتا دیا جاوے کہ الله تعالٰی جسے دیتا ہے اپنے مقبولوں کے ذریعہ وسیلہ سے دیتا ہے،رب نے یہ رعایت دی کہ پچاس نمازوں کی پانچ کر دیں مگر موسیٰ علیہ السلام کے وسیلہ سے۔تیسرے یہ کہ موسیٰ علیہ السلام بھی رب سے عرض و معروض کرتے ہیں تو حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کے وسیلہ سے،دیکھو جناب موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی رب سے یہ نہ کہہ دیا کہ پچاس نمازیں زیادہ ہیں بلکہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی معرفت کہا۔اے لوگو! تم بھی حضور کے توسل سے رب سے عرض و معروض کیا کرو۔چوتھے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہِ الٰہی میں ایسی باریابی ہے کہ بار بار حاضر ہوسکتے ہیں،دیکھو حضور نے یہاں سے ہی دعا نہ کردی بلکہ بار بار حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رب تعالٰی کے درمیان آتے جاتے رہے اس لیے رب تعالٰی نے پانچ پانچ نمازیں کم کیں ایک بار ہی پینتالیس کم نہ کردیں۔پانچویں یہ کہ موسیٰ علیہ السلام چاہتے تھے کہ محبوب بار بار رب کو دیکھ کر آتے ہیں اور میں محبوب کو ان کی آنکھوں کو بار بار دیکھتا ہوں رخسار مصطفی جمال کبریا کا آئینہ تھے۔طور والی دعائے دیدار آج قبول ہو رہی ہے،وہ تمنا آج پوری ہورہی ہے امت کا بہانہ تھا کام اپنا بنانا تھا اس لیے اس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام منتخب ہوئے۔غرضیکہ اس واقعہ میں بہت سی حکمتیں ہیں جو رب ہی جانے یا اس کے محبوب صلی الله علیہ و سلم۔

۴۲؎  یہاں دس دس نمازوں کی معافی کا ذکر ہے،دوسری روایت میں ہے کہ رب نے آدھی نمازیں معاف کردیں،ایک اور روایت میں ہے کہ پانچ پانچ نمازیں معاف فرمائیں یہ آخری روایت مفصل ہے باقی دونوں روایتیں مجمل ہیں یعنی چند بار میں آدھی نمازیں معاف ہوئیں یا دوبار میں دس نمازیں معاف فرمائیں۔تفصیل یہ ہے کہ پانچ پانچ نمازیں معاف ہوئیں اور حضور انور اسی رات دس دفعہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوئے ایک دفعہ تو پہلی بار اور نو دفعہ حضرت موسیٰ اور رب تعالٰی کے درمیان تب نمازیں پچاس کی پانچ ہوئیں۔

۴۳؎  یعنی میں نے آخر بار میں موسیٰ علیہ السلام کہا کہ نمازیں پینتالیس معاف ہوگئیں اور پانچ باقی رہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حکم شرعی عمل بلکہ مکلفین کی خبر سے پہلے بھی منسوخ ہوسکتا ہے،دیکھو معاف شدہ پینتالیس نمازوں کا حکم ہوا مگر مسلمانوں نے نہ تو ان پر عمل کیا نہ ادا کیں کہ منسوخ ہوگئیں،صرف حضور انور کے علم میں آئیں نسخ سے پہلے حضور کا علم ہی کافی ہے۔

۴۴؎  یعنی عام مسلمان پانچ نمازوں کی پابندی نہیں کرسکیں گے اس میں سستی کیا کریں گے،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل درست ہوا،دیکھ لو آج مسلمان زکوۃ،حج،جہاد،مسجدوں کی تعمیر بڑے شوق سے کرتے ہیں،روزے کے لیے بچے ضدیں کرتے ہیں مگر نماز کا پابند کوئی کوئی ہی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ"یہاں طاقت سے مراد قوت نہیں بلکہ رغبت والی طاقت مراد ہے۔لہذا اس فرمان موسوی پر کوئی اعتراض نہیں نہ تو رب نے طاقت سے زیادہ نمازوں کا ہم کو مکلف کیا ہے اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان غلط ہوا،طاقت واستطاعت کی بہت سی قسمیں ہیں۔

۴۵؎  یعنی نمازیں پانچ سے بھی کم کردی جاویں شاید جناب کلیم الله کا مقصد یہ ہوگا کہ دن رات میں ایک بلکہ ہفتہ میں ایک نماز رہے۔

۴۶؎  صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ پروگرام پہلے ہی طے شدہ تھا ورنہ جب نو بار حضور انور نے بے جھجک عرض معروض کی تو اب کیوں حیاء فرمائی۔

۴۷؎  یعنی نمازیں پڑھنے میں کم کی گئی ہیں ثواب میں کم نہیں کی گئیں مسلمان پڑھیں پانچ مگر ثواب پچاس ہی کا پائیں گے،رب فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔
Flag Counter