{۳۶} میری تالیفات اور میرے بیان کی کیسٹوں سے میرے ورثاء کو دنیا کی دولت کمانے سے بچنے کی مَدَنی التجا ہے ۔
{۳۷} میرے’’ترکے‘‘ وغیرہ کے معاملے میں حکم شریعت پر عمل کیا جائے۔
{۳۸} مجھے جو کوئی گالی دے ،برا بھلا کہے،زخمی کردے یا کسی طرح بھی دل آزاری کا سبب بنے میں اُسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے پیشگی معا ف کرچکا ہوں۔
{۳۹} مجھے ستانے والوں سے کوئی انتقام نہ لے۔
{۴۰} بالفرض کوئی مجھے شہید کردے تو میری طرف سے اُسے میرے حقوق معاف ہیں ۔ ورثاء سے بھی درخواست ہے کہ اسے اپنا حق معاف کر دیں ۔ اگر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت کے صدقے محشر میں خصوصی کرم ہوگیا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے قاتل یعنی مجھے شہادت کا جام پلانے والے کوبھی جنت میں لیتا جاؤں گابشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔(اگر میری شہادت عمل میں آئے تو اس کی وجہ سے کسی قسم کے ہنگامے اور ہڑتالیں نہ کی جائیں۔اگر’’ ہڑتال‘‘ا س کا نام ہے کہ زبردستی کاروبار بند کروایا جائے، دکانوں اور گاڑیوں پر پتھراؤوغیرہ کیا جائے توبندوں کی ایسی حق تلفیاں کرناکوئی بھی مفتیِ اسلامجائز نہیں کہہ سکتا ،اِس طرح کی ہڑتال حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ )
کاش!گناہ بخشنے والا خدائے غفّار عَزَّ وَجَلَّ مجھ گنہگار کو اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل معاف فرمادے۔اے میرے پیارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جب تک زندہ رہوں عشق رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں گم رہوں ،ذکر مدینہ کرتا رہوں ،نیکی کی