دعوت کیلئے کوشاں رہوں ،محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت پاؤں اور بے حساب بخشا جاؤں ۔جنَّتُ الفِردَوسمیں پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب ہو ۔ آہ ! کاش! ہر وقت نظّارۂ محبوب میں گم رہوں۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنے حبیب پر بے شمار درودو سلام بھیج،ان کی تمام امت کی مغفرت فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم یا الٰہی! جب رضاؔ خواب گراں سے سر اُٹھائے
دولت بیدار عشق مصطفٰے کا ساتھ ہو
’’ مَدَنی وصیّت نامہ‘‘پہلی بارمُحَرَّمُ الحرام۱۴۱۱ھ مطابق 1990 ء
مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے جاری کیا تھا پھر کبھی کبھی تھوڑی بہت ترمیم کی گئی تھی،
اب مزید بعض ترامیم کے ساتھ حاضر کیا ہے۔
غم مدینہ ، بقیع ،
مغفر ت اوربے حساب
جنّت الفردوس میں
آقا کے پڑوس کاطالب
10جمادی الاولی۱۴۳۴
2013-23-03
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وصِیّت باعثِ مغفرت
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:’’ جو وصیت کرنے کے بعد فوت ہواوہ سیدھے راستے اورسنت پر فوت ہوا اوراس کی موت تقویٰ اور شہادت پر ہوئی اوراس حالت میں مرا کہ اس کی مغفرت ہوگئی۔‘‘ (ابنِ ماجہ ج۳ص۳۰۴حدیث۲۷۰۱)