بعد نَمازِ جنازہ تدفین ۱؎
{۱} جنازہقَبْر سے قبلے کی جانِب رکھنا مُسْتَحب ہے تاکہ میِّت قبلے کی طرف سے قَبْر میں اتاری جائے۔ قَبْر کی پائِنْتی(یعنی پاؤں کی جانِب والی جگہ)رکھ کر سَر کی طرف سے نہ لائیں ۲؎ {۲} حسبِ ضَرورت دو یاتین (بہتر یہ ہے کہ قَوی اور نیک)آدَمی َقَبْر میں اُتریں ۔ عورَت کی میِّت مَحارِم اُتاریں یہ نہ ہوں تو دیگر رِشتے دار یہ بھی نہ ہوں تو پرہیز گاروں سے اُتر وائیں ۳؎ {۳} عورت کی میِّت کواُتارنے سے لے کر تختے لگانے تک کسی کپڑے سے چُھپائے رکھیں {۴} قَبْر میں اُتارتے وَقْت یہ دُعا پڑھیں :بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہ ۴؎ {۵} میِّت کو سیدھی کروٹ پر لِٹائیں اور اُس کا مُنہ قبلے کی طرف کردیں اورکفن کی بندِش کھول دیں کہ اب ضَرورت نہیں ،نہ کھولی تو بھی حَرَج نہیں ۵؎ {۶} قَبْر کچّی اینٹوں ۶؎ سے بند کردیں اگر زَمین نَرْم ہو تو( لکڑی کے) تختے لگانا بھی جائز ہے ۷؎ {۷} اب مِٹّی دی جائے، مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف سے دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹّی ڈالیں۔پہلی بارکہیں مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ۸؎ دوسری بار وَفِیْھَا نُعِیْدُ کُمْ۹؎ تیسری بار وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۱۰؎
مـــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ ؎ جنازہ اُٹھانے اور اس کی نماز کا طریقہ ’’نماز کے اَحکام ‘‘میںمُلاحَظہ فرمائیے۔۲؎ بہارِ شریعت ج۱ص۸۴۴، ۳؎ عالمگیری ج ۱ ص۱۶۶،۴؎ تنویر الابصار ج۳ص۱۶۶،۵؎ عالمگیری ج۱ص۱۶۶،جوہرہ ص۱۴۰، ۶؎قبر کے اندورنی حصّے میں آگ کی پکّی ہوئی اینٹیں لگانا منع ہے مگر اکثر اب سیمنٹ کی دیواروں اور سلیب کا رواج ہے لہٰذا سیمنٹ کی دیواروں اور سیمنٹ کے تختوں کا وہ حصّہ جو اندر کی طرف رکھنا ہے کچی مِٹّی کے گارے سے لیپ دیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم ۔۷؎ بہارِشریعت ج۱ص۸۴۴،۸؎ ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا۔۹؎اور اسی میں تمہیں پِھرلے جائیں گے۔ ۱۰؎ اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔