کہیں۔اب باقی مِٹّی پھاؤڑے وغیرہ سے ڈال دیں ۱؎ {۸} جتنی مِٹّی قَبْر سے نکلی ہے اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے ۲؎ {۹} قَبْر اُونٹ کے کوہان کی طرح ڈھال والی بنائیں چَوکُھونٹی (یعنی چار کونوں والی جیسا کہ آجکل تدفین کے کچھ روز بعد اکثر اینٹوں وغیرہ سے بناتے ہیں )نہ بنائیں ۳؎ {۱۰} قَبْر ایک بالِشت اونچی ہو یا اِس سے معمولی زیادہ ۴؎ {۱۱} بعدِدفن قبرپر پانی چِھڑکنا مسنون ہے ۵؎ {۱۲} اس کے علاوہ بعد میں پودے وغیرہ کو پانی دینے کی غرض سے چھڑکیں تو جائزہے {۱۳} بعض لوگ اپنے عزیز کیقَبْر پر بِلا مقصد ِصحیح محض رسمی طور پر پانی چِھڑکتے ہیں یہ اِسراف و ناجائز ہے، فتاویٰ رضویہ شریف جلد9 صَفْحَہ373 پر ہے:بے حاجت (قبرپر )پانی کا ڈالناضائع کرناہے اورپانی ضائع کرناجائز نہیں {۱۴} دَفْن کے بعد سرہانے الٓـمّٓتا مُفْلِحُوْن اور قدموں کی طرف اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ سے ختم سورہ تک پڑھنا مستحب ہے ۶؎ {۱۵} تلقین کیجئے۔ (طریقہ صفحہ6 کے حاشِیہ پر مُلاحظہ فرمائیے){۱۶} قبر پر پھول ڈالنابہترہے کہ جب تک تررہیں گے تسبیح کریں گے اورمیِّت کادل بہلے گا۷؎ {۱۷}قبر کے سرہانے قِبلہ رُو کھڑے ہوکر اذان دیجئے۔ ۸؎
۱؎ : جوہرہ ص۱۴۱ ، ۲؎ : عالمگیری ج۱ص۱۶۶، ۳؎: رَدُّالْمُحتار ج۳ص۱۶۹، ۴؎ :ایضاًص۱۶۸،۵؎ : فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج۹ص۳۷۳، ۶؎: جوہرہ ص۱۴۱، بہارِ شریعت ج۱ص۸۴۶، ۷؎ :رَدُّالْمُحتارج ۳ص ۱۸۴، ۸؎ : ماخوذ از فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج۵ ص۷۰ ۳