Brailvi Books

مدنی وصیت نامہ
15 - 15
کہیں۔اب باقی مِٹّی پھاؤڑے وغیرہ سے ڈال دیں   ۱؎  {۸} جتنی مِٹّی قَبْر سے نکلی ہے اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے  ۲؎  {۹} قَبْر اُونٹ کے کوہان کی طرح ڈھال والی بنائیں  چَوکُھونٹی (یعنی چار کونوں  والی جیسا کہ آجکل تدفین کے کچھ روز بعد اکثر اینٹوں  وغیرہ سے بناتے ہیں )نہ بنائیں ۳؎  {۱۰}  قَبْر ایک بالِشت اونچی ہو یا اِس سے معمولی زیادہ ۴؎    {۱۱} بعدِدفن قبرپر پانی چِھڑکنا مسنون ہے ۵؎ {۱۲}  اس کے علاوہ بعد میں  پودے وغیرہ کو پانی دینے کی غرض سے چھڑکیں  تو جائزہے {۱۳}  بعض لوگ اپنے عزیز کیقَبْر پر بِلا مقصد ِصحیح محض رسمی طور پر پانی چِھڑکتے ہیں  یہ اِسراف و ناجائز ہے، فتاویٰ رضویہ شریف جلد9 صَفْحَہ373 پر ہے:بے حاجت (قبرپر )پانی کا ڈالناضائع کرناہے اورپانی ضائع کرناجائز نہیں  {۱۴} دَفْن کے بعد سرہانے الٓـمّٓتا مُفْلِحُوْن اور قدموں  کی طرف اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ سے ختم سورہ تک پڑھنا مستحب ہے ۶؎ {۱۵} تلقین کیجئے۔ (طریقہ صفحہ6 کے حاشِیہ پر مُلاحظہ فرمائیے){۱۶}  قبر پر پھول ڈالنابہترہے کہ جب تک تررہیں گے تسبیح کریں گے اورمیِّت کادل بہلے گا۷؎  {۱۷}قبر کے سرہانے قِبلہ رُو کھڑے ہوکر اذان دیجئے۔ ۸؎      

       ۱؎ : جوہرہ ص۱۴۱ ،   ۲؎ : عالمگیری ج۱ص۱۶۶، ۳؎:  رَدُّالْمُحتار ج۳ص۱۶۹، ۴؎  :ایضاًص۱۶۸،۵؎ : فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج۹ص۳۷۳، ۶؎:  جوہرہ ص۱۴۱، بہارِ شریعت ج۱ص۸۴۶، ۷؎  :رَدُّالْمُحتارج ۳ص ۱۸۴،  ۸؎ : ماخوذ از فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج۵ ص۷۰ ۳