حضرت،امامِ اہلسنَّت ،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اَسمائے مبارکہ کے وارِد ہوئے ہیں۔(۱)
تصغیر سے بچنے کا طریقہ
عرض :اگر محمد نام رکھنے میں تصغیرکا اندیشہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے ؟
ارشاد: اگر محمد نام رکھنے میں تصغیر(یعنی نام کو اس طرح بگاڑنا جس سے حقارت نکلتی ہو)کا اندیشہ ہو تو پھر یہ نام نہیں رکھنا چاہیے، البتہ تصغیر سے بچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ عقیقے والے دن نام ’’محمد‘‘رکھیں مگر عُرْف(یعنی پکارنے کے لیے) کوئی اور نام رکھ لیں جیسا کہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں :محمد بہت پیارا نام ہے، اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے۔ اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا یہ نام ہو(یعنی عقیقے والے دن نام ’’محمد ‘‘رکھ دیا جائے) اور پکارنے کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائےاور ہندوستان میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ ایک شخص کے کئی نام ہوتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… فتاویٰ رضویہ،۲۴/۶۹۱