Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
8 - 43
ایاز کے لڑکے!‘‘ کہہ کر مخاطِب کیا۔ وہ گھبرا گیا اور اپنے والِد صاحب (ایاز) کی خدمت میں عرض کی کہ معلوم ہوتا ہے کہ میری کسی خطا کے سبب بادشاہ سلامت مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں جو مجھے آج ’’ایاز کا لڑکا‘‘ کہا، ورنہ ہمیشہ بڑے اَدَب سے میرا نام لیتے رہے ہیں۔ایاز نے آپرَحمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہو کر  بیٹے کے اِس خَدشہ کا اِظہار کیا، تو حضرتِ سَیِّدُنا سلطان محمود غزنویعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا:ایاز! تمہارے بیٹے کا نام”اَحْمَد“ہے اور یہ نام بَہُت ہی عظمت والا ہے لہٰذا میں یہ نام کبھی بے وُضو نہیں لیتا، اِتفاقًا میں اُس وقت بے وضو تھا اس لیے نام لینے کے بجائے مجبورًا ’’ایاز کا لڑکا‘‘ کہہ کر مجھے بات کرنی پڑی۔(۱)
نامِ اقدس کے ساتھ کوئی دوسرا نام نہ  ملائیے
عرض : نامِ اقدس  کے ساتھ کوئی دوسرا نام ملایا  مثلاً ”محمد حسین“یا” غلام محمد“ تو کیا اس صورت میں بھی مذکورہ فضائل حاصل ہوں گے؟
ارشاد: ”مُحَمَّدیا اَحْمَد“نام رکھنے کے فضائل وبرکات اسی وقت حاصل ہوں گے جب ان کے ساتھ کوئی دوسرا نام نہ ملایا  جائے کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمودہ فضائل تنہا ”مُحَمَّد“اور” اَحْمَد“ رکھنے کے ہیں  چنانچہ اعلیٰ

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… روحُ البیان،پ۲۲،الاحزاب،تحت الآیة:۴۰،۷/۱۸۵