Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
10 - 43
ہیں،اس صورت میں نام کی بھی بَرکت ہو گی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے۔(1)
 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری یہی  عادت ہے کہ حُصولِ بَرکت کے لیے نومولُود  کا نام ”مُحَمَّدیا اَحْمَد“تجویز کرتا ہوں مگر کچھ نہ کچھ عُرف بھی رکھ دیتا ہوں تاکہ اس بچے کو عُرف سے پُکارا جائے اور نامِ اقدس کی بے اَدَبی کا اندیشہ نہ رہے۔(2)
طٰہٰ اور  یٰس نام رکھنا کیسا؟
عرض : طٰہٰ،یٰس نام رکھنا کیسا ہے؟
ارشاد:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت(جلد سوم) صَفْحَہ 605پر ہے: ”طٰہٰ، یٰس نام بھی نہ رکھے جائیں کہ یہ مقطعاتِ قرآنیہ سے ہیں جن کے معنیٰ معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اَسمائے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہیں اور بعض عُلَما نے اَسمائے الٰہیہ سے کہا۔ بہر حال جب معنیٰ معلوم نہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس کے ایسے معنیٰ ہوں جو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیا اللہتعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملا کرمحمد طٰہٰ،

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… بہارِشریعت،۳/۳۵۶،حصہ۱۵
2 … شیخِ طریقت، امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے اپنے بڑے صاحبزادے کا نام ’’احمد‘‘ اور عُرف ’’عبید رضا‘‘ جبکہ چھوٹے صاحبزادے کا نام’’ محمد‘‘ اور  عُرف ’’بلال رضا‘‘ رکھا ہے۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)