رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نامِ اقدس کی ایک برکت نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: جو چاہے کہ ا س کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے:”اِنْ کَانَ ذَکَرًا فَقَدْ سَمَّیْتُہُ مُحَمَّدًا اگر لڑکا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا۔‘‘اِنْ شَآءَ اللہُ الْعَزِیْز لڑکا ہی ہوگا ۔(۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ پاک کی کتنی برکتیں اور فضیلتیں ہیں ،ان برکتوں اور فضیلتوں کو پانے کے لیے آپ بھی اپنے بچوں کے نام ”مُحَمَّد یا اَحْمَد“ رکھیےاور اِس نامِ پاک کی نسبت کے سبب ان کی عزّت وتکریم بھی کیجیے کہ حدیثِ پاک میں ہے :جب لڑکے کا نام ”مُحَمَّد“ رکھو تو اس کی عزّت کرو اور مجلس میں اس کے لیے جگہ کُشادہ کرو اور اسے بُرائی کی طرف نسبت نہ کرو۔(۲) ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین اس نام کا کتنا ادب واحترام کرتے تھے اس کا اندازہ اس حکایت سے لگائیے :
حضرتِسَیِّدُنا سلطان محمود غزنویعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی(بَہُت بڑے عاشقِ رسول بادشاہ تھے اُنہوں) نے ایک بار دَورانِ گفتگو(اپنے وزیر) ایاز کے بیٹے کو ’’اے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… فتاویٰ رضویہ ،۲۴/۶۹۰
… جامع صغیر،حرف الھمزة،ص۴۹،حدیث:۷۰۶