ارشا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میرا سنّتوں کا کاروبار ہے اور دعوتِ اسلامی گویا کہ میری دکان ہے۔ہر دُکاندار یہ چاہتا ہے کہ اُس کو باصلاحیت سیلزمین (Salesman) ملے تاکہ اس کی زیادہ سے زیادہ بِکری(یعنی کمائی) ہو۔ میری بھی خواہش ہے کہ ہر باصلاحیت مسلمان میرا سیلز مین (Salesman) بن جائے تاکہ ساری دنیا کے لوگوں کو نمازی اور سنتوں کا عادی بنایا جائے۔ مساجد آباد ہوں اور گناہوں کے اَڈّے ویران ہوں، بے پردگی اور فحاشی کے سیلاب کے آگے بند باندھا جائے۔ جو اسلامی بھائی صلاحیت ہونے کے باوجود مدنی کاموں کی کوئی ذِمَّہ داری قبول نہیں کرتے تو بھلے وہ مجھے خوبصورت تحائف اور لاکھوں کروڑوں روپوں کے نذرانے پیش کریں ایسوں سے میرا دل خوش نہیں ہوتا کیونکہ مجھے مال ودولت کی نہیں بلکہ مدنی کام کرنے والے اسلامی بھائیوں کی ضرورت ہے۔ جو اسلامی بھائی دعوت ِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لیے کڑھتے اور ذِمَّہ داری ملنے پر بخوشی قبول کر تے اور اَحسن طریقے سے اسے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے اسلامی بھائیوں سے میرا دل خوش ہوتا ہے اور ان کے لیے میرے دل سے دُعائیں نکلتی ہیں۔
تمہیں اے مبلغ! ہماری دُعا ہے
کئے جاؤ طے تم ترقی کا زینہ (وسائلِ بخشش)