گے اور نرمی کرتا ہے ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تووہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے۔(۱)
جو لوگ شطرنج کھیل رہے ہوں ان کو سلام کیا جائے یا نہ کیا جائے، جو عُلَما سلام کرنے کو جائز فرماتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ سلام اس مقصد سے کرے کہ اتنی دیر تک کہ وہ جواب دیں گے، کھیل سے باز رہیں گے۔ یہ سلام ان کومعصیت سے بچانے کے لیے ہے،اگرچہ اتنی ہی دیر تک سہی۔جو فرماتے ہیں کہ سلام کرنا ناجائز ہے ان کا مقصد زَجرو توبیخ ہے کہ اس میں ان کی تذلیل ہے۔(۲)
سوئے ہوئے لوگوں کو سلام نہ کیا جائے ۔جب کچھ لوگ سو رہے ہوں اور کچھ جاگ رہے ہوں تو جاگنے والوں کو بھی آہستہ آواز سے سلام کیا جائے تاکہ ان کی نیند میں خلل واقع نہ ہو۔حضرتِ سیِّدُنا مِقْدادرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خَلق کے رہبر،شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو تشریف لاتے تو سلام کہتے۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسونے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… فتاویٰ ھندیة،کتاب الکراھیة،الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس ،۵/۳۲۶
۲ … فتاویٰ ھندیة،کتاب الکراھیة،الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس ،۵/۳۲۶