سلام اس لیے ہے کہ ملاقات کرنے کو جو شخص آئے وہ سلام کرے کہ زائر اور ملاقات کرنے والے کی یہ تحیت ہے لہٰذا جو شخص مسجد میں آیا اور حاضرینِ مسجد تلاوتِ قرآن و تسبیح ودُرُود میں مشغول ہیں یا انتظارِ نماز میں بیٹھے ہیں تو سلام نہ کرے کہ یہ سلام کا وقت نہیں۔ اسی واسطے فقہا یہ فرماتے ہیں کہ ان کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں اس لیے بیٹھا ہے کہ لوگ اس کے پاس ملاقات کو آئیں تو آنے والے سلام کریں۔(۱)
کوئی شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں ہے تو اس کو سلام نہ کرے۔ اسی طرح اذان و اقامت و خطبۂ جمعہ و عیدین کے وقت سلام نہ کرے۔ سب لوگ علمی گفتگو کررہے ہوں یا ایک شخص بول رہا ہے باقی سن رہے ہوں،دونوں صورتوں میں سلام نہ کرےمثلاً عالم وعظ کہہ رہا ہے یا دینی مسئلہ پر تقریر کررہا ہے اور حاضرین سن رہے ہیں، آنے والا شخص چپکے سے آکر بیٹھ جائے سلام نہ کرے۔ (۲)
عالمِ دین تعلیم علمِ دین میں مشغول ہے، طالبِ علم آیا تو سلام نہ کرے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… فتاویٰ ھندیة،کتاب الکراھیة، الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس ،۵/۳۲۵
… فتاویٰ ھندیة،کتاب الکراھیة، الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس،۵/ ۳۲۵ -۳۲۶