Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
34 - 43
 مَشْغُول نہ ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ہو یا جو لوگ ہیں وہ مَشْغُول ہیں تو یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا مِنْ رَّبِّنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْن۔
سلام نہ کرنے کی مختلف صورتیں
عرض :کن صورتوں میں سلام نہیں کرنا چاہیے ؟
ارشاد:فقہائے  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے سلام نہ کرنے کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں،چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِشریعت(جلدسوم)صَفْحَہ461تا 463 پر ہے:کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف”عَلَیْکُمْ“کہے اگر ایسی جگہ گزرنا ہو جہاں مسلم و کافر دونوں ہوں تو”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ“کہے اور مسلمانوں پر سلام کا اِرادہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہےکہ”اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی“کہے۔(۱)
 کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔(۲)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱…  فتاویٰ   ھندیة ،کتاب الکراھیة،الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس ، ۵/۳۲۵   ملخصاً
۲ … دُرِّمختار و رَدُّ المحتار،کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع،۹/۶۸۱