پر مشتمل تین آیاتِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عُلَما کو دیگر لوگوں پر فضیلت وبرتری عطا فرمائی ہے لہٰذا غیرِ عُلَما( نہ جاننے والے)عُلَما(جاننے والوں)کے برابر نہیں ہو سکتے چنانچہ پارہ 23 سورۃُالزمر کی آیت نمبر 9 میں ارشادِربّ العباد ہے:
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عُلَما کے درجے بلند فرمائے ہیں چنانچہ پارہ 28 سورۃُ المجادلہ کی آیت نمبر 11میں خدائے رحمٰنعَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕترجمۂ کنزالایمان:اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عُلَما کے دلوں میں اپنا خوف رکھا ہے چنانچہ پارہ 22 سورۃُ الفاطر کی آیت نمبر 28میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی عُلَما کے فضائل بیان کیے گئے ہیں چنانچہ فضائلِ