اور تیرے پیٹ میں لڑکا ہےجب وہ پیدا ہواسے میرے پاس لے آنا۔ حضرتِ سیدتنا اُمِّ فضلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکہتی ہیں کہ جب میرے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی تو میں اسے نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں لے کر حاضر ہو گئی،آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی،اپنے لعابِ دہن سے گھٹی دی ، اس کا نام عبدُاللہ رکھا اور ارشادفرمایا:”اِذْھَبِیْ بِاَبِی الْخُلَفَاءیعنی خلفاکے باپ کو لےجا۔“میں نے عباس(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کو سارے معاملے سے آگاہ کر دیا ،وہ ایک اچھا لباس پہننے والے تھے،انہوں نے لباس زیبِ تن کیا اور نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ جب نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھا تو اُن کی خاطر کھڑے ہوئے اور اُن کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔انہوں نے عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کیا بات ہے جس کی اُمِّ فضل(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)نے مجھے خبردی ہے؟ارشاد فرمایا:بات وہی ہے جو ہم نے ان سے کہی کہ یہ (تمہارا بیٹا)خلفا کا باپ ہے،یہاں تک کہ ان خلفا میں سے سفاح ہوگا ،یہاں تک کہ ان میں سے مہدی ہوگا،یہاں تک کہ ان میں سے وہ ہوگاجو عیسیٰ بن مریم(عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے ساتھ نماز