ساتھ راہِ خدا میں ہمرکابی اور جہاد میں شرکت کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوتی تھیں۔اللہعَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی دینِ اسلام کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ نصیب فرمائے،آمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اُمِّ فضلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بشارت
عرض: حضرتِ سَیِّدَتنا اُمِّ فضلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بھی اصل نام اور ان کے متعلق کوئی واقعہ بیان فرما دیجیے۔
ارشاد: حضرتِ سَیِّدَتنا اُمِّ فضل بنتِ حارث ہلالیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نام ’’لُبَابَۃُ الْکُبْریٰ‘‘ ہے۔(۱)یہ نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چچی اور حضرتِ سَیِّدُنا عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ ہیں۔ سرکارِ ابد قرار، بِاِذنِ پروردگار ، غیبوں پر خبردار، دو عالم کے مالِک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں غیب کی خبر دیتے ہوئے بیٹا پیدا ہونے کی بشارت دی تھی ، چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ مجھ سے (میری والدہ)حضرتِ سیِّدَتنا اُمِّ فضلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حدیث بیان فرمائی کہ میں نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے گزریں۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (غیب کی خبر دیتے ہوئے)ارشاد فرمایاکہ’’تو حاملہ ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱…اَلْاِعْلام ،حرف الفاء ،۵/۱۴۶