ہیں: میں نے عرض کی:یَارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!دعا فرمائیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے،آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے لیے دعا فرمائی اس کے بعدآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوبارہ آرام فرما ہوگئے،پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے،میں نے عرض کی:یَارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس چیز نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہنسایا؟ ارشاد فرمایا:’’میری اُمت کے کچھ لوگ راہِ خدا میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو تخت نشین بادشاہوں کی طرح اس سمندر کے بیچ میں سوار ہوں گے۔میں نے عرض کی: یَارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دُعا فرمائیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا شمار بھی انہیں میں کر دے، فرمایا: تو پہلے والوں میں ہے۔ چنانچہ اُمِّ حرامرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرتِ سیِّدُنامعاویہ بن ابو سفیانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں سمندر میں سوار ہو کر گئیں اور سمندر سے نکلنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔(۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ان صحابیاترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو دینِ اسلام کی خاطر قربانی دینے کا کس قدر جذبہ تھا کہ دین کے کاموں میں نہ صرف اپنے بچوں کے ابو کی معاون و مددگار ہوتیں بلکہ ان کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
ا … بخاری، کتاب الاستئذان، باب من زار قومًا فقال عندھم ،۴/۱۸۳، حدیث:۶۲۸۲