Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
22 - 43
صامترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ راہِ خدا میں سفر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اسی سفر میں آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا انتقال ہو گیا جس کی خبراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب ، دانائے غُیُوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی زندگی میں ہی انہیں دے دی تھی چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب قباء کی طرف تشریف لے جاتے تو اُمِّ حرام بنتِ ملحان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں قدم رنجہ فرمایا کرتے اور وہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں کھانا پیش کرتی۔
ایک بار رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کھانا کھلایا تو اس کے بعد آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو گئے کچھ دیر کے بعد مسکراتے  ہوئے بیدار ہوئے۔ فرماتی ہیں:میں نے عرض کی:یَارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ارشاد فرمایا:”میری اُمت کے کچھ لوگ راہِ خُدا میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش ہوئے جو تخت نشین بادشاہوں کی طرح اس سمندر کے بیچ میں سوار ہوں گے۔‘‘ کہتی