Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
20 - 43
 شاخ جو حسین منظر اور عالی قدر ہو، اس کے خُدّام و رُفقا  حلقہ بستہ ،اگر لب کشا ہو تو وہ غور سے سُنیں اور اگر حکم دے تو تعمیل کے لیے دوڑیں،قابلِ رشک،قابلِ احترام،نہ تلخ رُو ،نہ زیادتی کرنے والا۔ یہ  اوصاف سن کر ابو معبد بے ساختہ بول پڑا۔ خدا کی قسم! تم نے جس شخص کے اَوصاف بیان کیے ہیں یہ تو وہی قریش کے سردار ہیں جن  کا چرچا ہو رہا ہے۔ میں نے اُن کی صحبت اختیار کرنے کا قصد کر لیا ہے اور اگر میں نے اُن تک پہنچنے کی راہ پائی تو میں ایسا ضرور کروں گا۔ (پھر وہ دونوں میاں بیوی مدینۂ منورہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً پہنچ کر مسلمان ہو گئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔ )(۱)
حضرتِ سَیِّدَتنا  اُمِّ معبد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:جس بکری کے تھنوں کو نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مس کیا تھا،عرصۂ دراز تک ہمارے پاس رہی حتّٰی کہ ۱۸ ہجری میں حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں جب قحط پڑ گیا اور خشک سالی کی کوئی حد نہ رہی(جسے عَامُ الرّمادہ کہتے ہیں) تو(ان حالات میں بھی) ہم صبح وشام اس  بکری کا دودھ دوھتے تھے حالانکہ چارے کا ایک 

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱…  مُسْتَدْرَک حاکم، من کتاب: الھجرة الاولٰی الی الحبشة، حدیث اُمِّ معبد فی الھجرة…الخ ، ۳/۵۴۲-۵۴۵،حدیث:۴۳۳۳  ملخصاً