Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
11 - 43
 محمد یٰس کہنا بھی ممانعت کو دفع نہ کریگا۔“
کسی کو ”لمبا ، ٹِھگنا،اندھا “کہنا کیسا؟
عرض :کسی کو’’ لمبا، ٹِھگنا،اندھا  یا بدّھو“کہہ کر پکارنا کیسا ہے؟
ارشاد:کسی مسلمان کو ایسے الفاظ  سے پکارنا جن سے اس کی بُرائی نکلتی اور دِل شکنی ہوتی ہو یہ ناجائز وحرام  ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے چنانچہ پارہ 26 سورۃُ الحجرات کی آیت نمبر 11میں خدائے رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ	ترجمۂ کنزالایمان:اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو۔
اس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:”حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ اگرکسی آدمی نے کسی بُرائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس بُرائی سے عار دِلانا بھی اس نہی میں داخل اور ممنوع ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سؤر کہنا بھی اِسی میں داخل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مُراد ہیں جن سے مسلمان کی بُرائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے اَلقاب جو سچے ہوں،ممنوع